یونیسکو نے افطار کو ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا

28

اسلام آباد :یونیسکو نے افطار کو ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔اقوام متحدہ کی ثقافتی ایجنسی یونیسکو نے اعلان کیا ہے کہ مسلمانوں کے ماہ مقدس رمضان میں روزہ کھولنے کے لیے اہتمام ’’افطار‘‘ کو ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کرلیاہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایجوکیشنل، سائنٹیفک اور کلچرل آرگنائزیشن  نے ایران، ترکیہ، آذربائیجان اور ازبکستان کی مشترکہ درخواست پر افطار کو ثقافتی ورثے کا درجہ دیدیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افطار رمضان میں غروب آفتاب کے وقت روزہ کھولنے کا نام ہے جس کے لیے تمام مسلم ممالک میں خاص اہتمام کیا جاتا ہے جو ایک تہذیبی اور ثقافتی رنگ لیے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ افطار عام طور پر اہل خانہ کے ساتھ مل کر کی جاتی ہے اور اس کی تیاری میں بچے، جوان بوڑھے سب اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس اجلاس میں اٹلی کا ’’اوپیرا گانا‘‘ بھی عالمی ورثہ کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔

ایران، ترکیہ، آذربائیجان اور ازبکستان کی جانب سے مشترکہ طور پر یونیسکو میں مسلمانوں کی سماجی روایت افطار کو ثقافتی ورثے کا حصہ بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔خیال رہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں روزہ کھجور کھا کر افطار کیا جاتا ہے جس کے ساتھ مشروبات اور مختلف پکوان بھی دستر خوان پر سجائے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ہر ملک کے اپنے مخصوص پکوان ہیں جن کو لوگ افطار میں کھانا پسند کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.