حکومت میں آکر افغانیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، ہر کاروبار ان کے قبضے میں ہے: خواجہ آصف 

22

 

سیالکوٹ : پاکستان مسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما اور سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج مُلک میں مقیم غیر مُلکی باشندوں خصوصاً افغان باشندوں کے خلاف جو ایکشن لیا جا رہا ہے یا جس کا آغاز کیا گیا ہے اس کے مثبت اثرات نظر آرہے ہیں اور مستقبل میں مزید نظر آئیں گے۔

 

سیالکوٹ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں تندوروں سے لے کر بڑے کاروباروں اور جائدادوں تک پر افغانیوں کے قبضے ہیں ۔ ایسے میں ان غیر مُلکی افراد کو مُلک سے نکالنے کے لیے جو اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں اُن سے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والی حکومت بھی اسے جاری رکھے گی۔

 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مُلک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ افغان باشندے یہاں سے ڈالر خرید کر افغانستان لے جا رہے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی اور افغانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا مگر اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں ملک سے ڈالر کی غیر قانونی سمگلنگ پر پابندی کے بعد پاکستانی کرنسی اپنی کھوئی ہوئی قدر آہستہ آہستہ وہپس حاصل کر رہا ہے۔

 

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ میاں محمد نوازشریف 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں اور چوتھی مرتبہ پھر پاکستان کے وزیر اعظم بنیں گے۔

تبصرے بند ہیں.