استحکام پاکستان پارٹی،ن لیگ سے ہاتھ ملائے گی یا پیپلز پارٹی سے؟

35

لندن: استحکام پاکستان پارٹی ن لیگ سے ہاتھ ملائے گی یا پیپلز پارٹی سے اس کی لیے عون چودھری بھی دبئی چلے گئے ہیں۔عون چودھری دبئی میں جہانگیرترین کا اہم پیغام نواز شریف اور آصف زرداری کوپہنچائیں گے۔عون چودھری اس سے قبل لندن میں جہانگیرترین کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزار کر مشاورت کی تھی اورپارٹی کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیاتھا۔

 

 

دبئی روانگی سے قبل نجی ٹی وی سے گفتگو میں عون چودھری کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جہانگیرترین کےخلاف گھناؤنی سازش کے مرکزی کردار تھے اور ایک اہم شخصیت نے ان کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔

 

 

ان کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ جہانگیر ترین کی ریویو پٹیشن سپریم کورٹ سے مسترد کرانے میں بھی عمران خان کا ہاتھ تھا۔

 

 

واضح رہےکہ استحکام پاکستان پارٹی نے الیکشن کے لیے اپنا لائحہ عمل طے کرلیا ہے اور منشور بھی واضح کردیا ہے اس کے علاوہ اس میں نئے لوگوں کو شامل کیاجارہا ہے ۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان پارٹی کو مزید مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے مزید لوگوں سے رابطے میں ہیں ۔خیال رہے دبئی اب دنوں پاکستان کی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ پی پی اور ن لیگ کی قائدین کی ملاقاتیں جاری ہیں اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیاجارہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت ان دنوں دبئی میں ہیں۔

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دبئی میں ملاقات کی ہے۔

مریم نواز نے گزشتہ روز خصوصی میٹنگز پر پیپلزرٹی قیادت کو اعتماد میں لیا، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت کے درمیان آج رات بھی ملاقات کا امکان ہے۔

تبصرے بند ہیں.