جہالت اور لالچ بمقابلہ جہالت اور لالچ

15

اس بات کی قطعی پروا کیے بغیر کہ وطن عزیز اس وقت کس قسم کے سیاسی مدوجزر کا شکار ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے اور اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگا ہواہے۔عوام کے مفاد کی پروا کیے بغیر پی ڈی ایم والے حکومت بچانے اور تحریک انصاف والے حکومت گرانے کے چکر میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔
ویسے تو اس تمام سیاسی سرکس میں ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ موجود ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب کا کردار سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ جس طرح کوئی ڈسکوڈانسر کے لیے ایک لمحہ بھی کسی مقام پر رک کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا مشکل ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح ہمارے اس قومی راہنما کے لیے ایک لمحہ بھی اپنی کہی ہوئی بات پر قائم رہنا مشکل ہے۔ روز ایک نئی بات کر دیتے ہیں اور پھر اس سے مکر جاتے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ موصوف اپنی ان حرکات پر شرمندہ ہونے کے بجائے یو ٹرنز پر فخر کرتے ہیں۔
بات پر قائم نہ رہنا اور جھوٹے وعدے کرناتو شائد ہماری سیاست کا لازمی جزو ہے لیکن اس سیاسی ہانڈی کو عمران خان نے جو دھمکیوں، گالی گلوچ اور دھونس دھاندلی کا تڑکا لگایا ہے وہ یقینا ایک نئی چیز ہے۔ موصوف اپنی کہانی کاآغاز تو ببرشیر کے شکار سے کرتے ہیں لیکن اختتام تک پہنچتے پہنچتے یہ کو ئی چوہا مار دینا ہی بڑا کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں۔ تین چار مرتبہ لاؤ لشکر لے کر حکومت الٹانے اسلام آباد جا پہنچے لیکن سوائے شرمندگی اور ندامت کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ سبکی کے بعد اسی قسم کا ایک نیا اعلان کر ڈالتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ جس124 دن کے دھرنے کا یہ ہر وقت کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکتا اگر اس میں نواز شریف صاحب کی نرم مزاجی، چوہدری نثار علی کی یاری اور علامہ
ڈاکٹر طاہرالقادری کی سپورٹ شامل نہ ہوتی۔
چڑھائی یلغار اور قبضہ کرنے جیسے دعوے بری طرح ناکام ہونے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفوں کا ایک بھونڈا سا کھیل بھی کھیل کر دیکھ لیا لیکن پھر بھی ان کی منفی سیاست کو کسی نے لفٹ نہیں کرائی۔ اب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں توڑنے کی بات کررہے ہیں۔اگر پے در پے ناکامیوں سے ان کے دماغ پر کوئی اثر نہیں ہو گیا تو انہیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اگر ان کی یہ چال بھی ناکام ہو گئی (جس کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں) تو پھر ان کی سیاست کو تو خدا حافظ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کو یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اب تک تو پنجاب اور خیبر پختونخوا ان کی محفوظ پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفت میں لانے کے بجائے پرٹوکول دینے میں لگے رہتے ہیں۔ اگر ان دو صوبوں میں دستیاب یہ پرٹوکول ختم ہو گیا تو کیا معلوم کب رانا ثنااللہ صاحب اپنے مچھ جیل والے دعوے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ایکشن میں آ جائیں۔
خود تعریفی کے پیکر عمران خان صاحب اپنے بارے میں یہ بھی کہتے ہیں میں فاسٹ بالر رہا ہوں اور فاسٹ بالر میں برداشت کا مادہ ذرا کم ہوتا ہے۔ ممکن ہے ان کی بات درست ہو لیکن ان کو اس حقیقت سے بھی بخوبی آشنا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی فاسٹ بالر جذبات میں آجائے اور عقل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے تو سامنے کھڑا ہوا بیٹسمین اس کی وہ دھلائی کرتا ہے کہ وہ مہینوں تک اپنی لائن اور لینتھ بحال نہیں کرپاتا۔
پی ڈی ایم والے تو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں کہ بطور بیٹسمین ان کے سامنے ایک ایسا فاسٹ بالر آ گیا ہے جس نے عقل، فہم، فراست، حکمت اور تدبر کا دامن مکمل طور پر ہاتھ سے چھوڑ رکھا ہے۔اگر انہوں نے اس صورتحال کو دانشمندی سے حل کر لیا پھر تو یقینا کافی عرصہ تک اس فاسٹ بالر کا پٹھہ ٹھیک اسی طرح چڑھا رہے گا جس طرح اسی کی دہائی میں دورہ بھارت پر جاتے ہی چڑھ جایا کرتا تھا اور واپسی تک چڑھا ہی رہتا تھا۔ لیکن اگر انہوں نے بھی جذباتی رویوں کے جواب میں اسی قسم کی حکمت عملی اپنائی تو پھر توگیم برابر کی ہے۔ یعنی کسی بھی جذباتی پارٹی کی جیت ہو سکتی ہے۔
یہ مانا کہ عمران خان صاحب کی ترجیحات میں عوام کی بہبود کا نمبر بہت نیچے ہے یا شائد کہیں ہے ہی نہیں۔لیکن اب تو پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں اور ان سے بھی یہ سوال ہونا چاہیے کہ عمران خان صاحب کی ناقص کارکردگی کا رونا بند کر کے ہمیں بتائیں کہ انہوں نے اب تک کیا کیا ہے اور آئندہ چند ماہ میں کیا کریں گے؟
اس وقت اسلام آباد کی صورتحال جہالت اور لالچ بمقابلہ جہالت اور لالچ ہے۔اس کشمکش میں مسئلہ جیت ہار کا نہیں کیونکہ یہ اقتدار کے لالچیوں کی ایک جنگ ہے اس میں کوئی بھی جیتے لیکن شکست عوام کے ہی مقدر میں آنی ہے۔ ایک مشہور کہانی ہے جس میں ایک بیل کے مالک نے ایک دن غصہ میں آ کر کہا جا تجھے چور لے جائیں۔ تو بیل نے جواب دیا کہ میں نے تو مشقت ہی کرنی ہے میں یہاں رہوں یا مجھے چور لے جائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کے عوام کا حال بھی کچھ اس بیل جیسا ہی ہے۔ یہاں حکومت آصف زرداری کی ہو، نواز شریف کی ہو یا پھر عمران خان برسراقتدار آ جائے عوام کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عمران خان کے رویوں پر زیادہ دکھ اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے ملک میں تبدیلی لانے کا نعرہ لگایا تھا اور لوگوں نے اس پر اعتماد کیا تھا۔ انہیں چاہیے تھا کہ حکومت ملنے کے بعد سیاسی نوٹنکی لگائے رکھنے کے بجائے کچھ ایسی کارکردگی دکھاتے کہ آئندہ عام انتخابات میں عوام انہیں زیادہ بڑا مینڈیٹ دیتے لیکن انہوں نے ثابت کیا ان کی ترجیح صرف اور صرف ذاتی مفاد ہے اور انہیں بھی عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے سیاسی کردار کو اگر ایک جملہ میں بیان کرنا ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اقتدار کے لالچیوں میں ایک اور اضافہ ہیں۔

تبصرے بند ہیں.