ایک قومی سانحہ

12

حصولِ آ زادی کی تحریکوں سے جب برطانیہ سامراج کی بنیادیں ہلنے لگی تو ہندو اس خوش فہمی میں انگریزوں کے معاون بن گئے ان کے جانے کے بعد پورے ہندوستان میں رام راج یعنی ہندو حکومت قائم ہوگئی ہندوؤں کے ان عزائم کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے مسلمان قائدین کو میدان عمل میں نکلنا پڑا اور نہ صرف ان کو بلکہ پوری قوم کو بے وقت ہندوؤں کے مقابلے میں بہت نازک مراحل سے گزرنا پڑا اور آخرکار ان کی کاوشوں اور قربانیاں کے حصول پاکستان پر منتج ہوئیں پاکستان کا اساسی نظریہ اسلام ہے اسی نظریے پر مشرقی اور مغربی بازو میں بسنے والے مسلمانوں کا اتحاد تھا اور ان میں یہی قدر مشترک تھی ہزاروں میل کا فاصلہ اسی نظریے پر ایمان رکھنے کے باعث ان کو ایک ملت بنانا تھا یہی وجہ تھی کہ دونوں حصوں کے مسلمانوں کا نعرہ ایک ہی تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ پاکستان کے مشرقی بازو میں سازشوں کرکے سادہ لوح عوام کو احساس محرومی کا شکار کر کے بغاوت پر اکسایا اور آخر کار 14 اگست کو مملکت پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی عظیم مملکت کو 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بنا دیا گیا اس کے تلخ حقائق کو سپرد قلم کرنا نہ صرف بہت مشکل بلکہ زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے ہے شیخ مجیب نے ہر معاملے میں ہٹ دھرمی دکھائی تو صدر یحییٰ خان نے 3 مارچ 1971 کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں طلب کرلیا، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اسمبلی سے باہر کوئی فیصلہ کرنے کے بعد اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ شیخ مجیب اسمبلی کے اندر اس لیے فیصلہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے ہر فیصلہ ان کی مرضی سے ہونا تھا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صدر یحییٰ خان نے اجلاس ملتوی کر کے پارلیمانی گروپوں کے سربراہوں کو ڈھاکہ میں مذاکرات کی دعوت دی جس کو شیخ مجیب نے ماننے سے انکار کر دیا اور عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی ہاریوں اور مغربی پاکستانیوں کا قتل عام شروع کر دیا 23 مارچ 1971 کو پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا علیحدگی کی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے بغاوت کی صورت اختیار کر گئی جس کو بھارت کی مکمل
پشت پناہی حاصل تھی یحییٰ خان اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ شیخ مجیب کو وزیراعظم بنانے سے وہ 6نکات میں کچھ لچک پیدا کرکے ان کی صدارت کی حمایت کریں گے لیکن اس دوران عوامی لیگ متواتر باغیانہ سرگرمیوں میں سرگرم عمل رہی اعلیٰ سرکاری افسران اور تاجر پیشہ لوگوں کو ساتھ ملا لیا جنہوں نے عوامی لیگ کی خواہش پر پیسہ خرچ کیا۔ چیف سیکرٹری گورنر کے بجائے مجیب الرحمن کا حکم ماننے لگے۔ ایسٹ بنگال رجمنٹ بنگال رائفلز اور پولیس نے مل کر اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کر کے ہندوستان کی امداد طلب کرنے کا منصوبہ بنایا کیا مگر صدر کو اس منصوبے کا علم ہو گیا اور جنرل ٹکا خان کو سازش پر قابو پانے کے لیے گورنر بنا کر بھیجا، چیف جسٹس نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ جنرل ٹکا خان کی سادگی کی یہ حالت تھی کہ اسی نوکر شاہی سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جو حالات خراب کرنے کی ذمہ دار تھی جنرل جنرل ٹکا خان نے فوجی کارروائی سے جب مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تو مغربی پاکستان کے خلاف مزید ردعمل پیدا ہوگیا اور مرکزی حکومت عوامی حمایت سے محروم ہوتی چلی گئی منصوبے کے تحت بھارت نے پچاس ہزار گوریلوں پر مشتمل مکتی باہنی قائم کرکے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ بین الاقوامی طور پر عوامی لیگ خود کو مظلوم ظاہر کرنے میں کامیاب ہو گئی مگر پاکستانی حکمران ان کے مظالم سے دنیا کو آگاہ نہ کر سکے۔ بھارت 1965 کی جنگ میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے پہلے ہی تیاری کر رہا تھا اس کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ بدلہ چکایا جائے مغربی طاقتوں نے اپنے اتحادیوں کا ساتھ دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں حد سے زیادہ دخل اندازی شروع کر دی، مجیب الرحمٰن کے پراپیگنڈے کو خوب ہوا دی بلکہ پاک بھارت جنگ 1971 میں بی بی سی کی تمام ہمدردیاں مجیب الرحمان اور بھارت کے ساتھ تھیں۔ روس پاکستان کو چین کا دوست سمجھتا تھا جب کہ ان دونوں ممالک کی آپس میں شدید مخالفت تھی اس لیے روس کا جھکاؤ بھارت کی طرف تھا بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کر کے اس کو امداد دی اور درپردہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کا معاہدہ کرلیا بڑی طاقتیں چین سے پہلے ہی خائف تھیں، اس لئے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے اس کے خلاف اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ مجیب نے ہزاروں باغیوں کو بھارت بھیج دیا تاکہ اسے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز مل سکے بھارت نے اپنا طیارہ گنگا اغوا ہونے کا ڈرامہ رچا کر مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ہوائی رستہ کاٹ دیا تاکہ پاکستانی کمک نہ پہنچ سکے جب صدر یحییٰ نے تحریک کاروں کو عام معافی دے دی تو بھارت نے ان ایجنٹوں کو استعمال کر کے فائدہ حاصل کیا۔روس کا پہلے ہی بھارت سے 25 سالہ دفاعی معاہدہ تھا مزید پیشکش کی گئی کہ اگر مشرقی پاکستان الگ کرنے میں روس اس کی مدد کرے گا تو اسے بحری اڈہ دیا جائے گا جو روس کی اہم ضرورت تھی۔ 22 نومبر 1971کو بھارتی فوج نے باقاعدہ مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا امریکہ نے جنگ بندی کی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی جسے روس نے ویٹو کر دیا ادھر بھارت نے پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کو نہ صرف تسلیم بلکہ اس کی حمایت کا بھی اعلان کر دیا۔ جنگ بندی کی اٹلی جا پان اور سات دوسرے ممالک کی طرف سے بھی پیش کی جانے والی قرارداد کو بھی بعد میں روس نے ویٹو کر دیا۔ 7 دسمبر کو روس نے جنگ بندی اور سیاسی حل کی قرارداد پیش کی جسے نہ جانے کیوں نہ مانا گیا۔ مکتی باہنی کے تخریب کاروں نے تمام اہم مقامات اور تنصیبات تباہ کر دیں، بھارتی فضائیہ نے پہلے سے موجود ہوائی جہازوں کو زمین پر ہی تباہ کر دیا اور ڈھاکہ کا ہوائی اڈا اس لیے کھنڈر بنا دیا کہ مغربی پاکستان سے کسی دوسرے راستے پہنچنے والا امدادی سامان وہاں اتارا نہ جا سکے۔ ایک تو پاکستانی افواج کو فضائی تحفظ نہ مل سکا دوسرا بھارت نے چھاتہ بردار فوج اتار کر پشت سے حملہ کردیا۔ 16 دسمبر 1971 کو بھارتی فوجیوں نے ڈ ھاکہ پر قبضہ کر لیا اور 17 دسمبر 1971 کو صدر یحییٰ خان کے حکم پر پاکستانی افواج نے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔آٹھ جنوری کو رات کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے شیخ مجیب الرحمٰن کو غیر مشروط طور پر رہا کرکے لندن بھجوادیا گیا جہاں پہنچ کر انہوں نے جمہوریہ بنگلہ دیش کا اعلان کیا۔ اس کے بعد نئی دہلی میں اپنے محسنوں کا شکریہ ادا کر کے بنگلہ دیش پہنچے اور صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی گو عملاً دسمبر میں ہوئی لیکن اس کے محرکات بہت پہلے سے موجود تھے۔

تبصرے بند ہیں.