عمران خان نفرتوں کے سوداگر ہے ، پاکستانیوں کو تقسیم کردیا: خواجہ آصف 

9

 

اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کینیڈا کو کشمیر، فلسطین اور روہنگیا سمیت دیگر مسلمان ممالک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں ۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کو تقسیم کردیا ہے، تارکین وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں، ان کی بھجوائی گئی ترسیلات زر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ ہیں۔

 

پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس ایوان کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کچھ عرصہ پہلے چیف آف آرمی سٹاف کا کینیڈا کا دورہ شیڈول تھا وہاں پر کینیڈین پارلیمنٹ کے ایک رکن نے بلاوجہ تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ملک کی پارلیمان کا احترام کرتے ہیں ہمیں کینیڈا کا بھی احترام ہے تاہم انہوں نے ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی بات کی تو ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دوہرا معیار مغرب کا خاصا رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا دوہرا معیار اختیار کرتے ہیں۔ کینیڈا میں سب سے زیادہ اسلاموفوبیا کے واقعات ہوئے ہیں۔

 

گزشتہ پانچ سال میں کینیڈا میں کئی ایسے واقعات ہوئے۔ 2017ء میں کیوبک میں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا، 2021ء میں ایک مسلمان خاندان پر انٹاریو میں ٹرک چڑھا دیا گیا جس سے چھ مسلمان شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ اسی طرح ٹورنٹو کی مسجد میں حملہ کیا گیا، 2020ء میں رپورٹڈ کیسز کے مطابق 2700 نفرت انگیز حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کینیڈا کی حکومت کا احترام ہے، وہاں کے وزیراعظم مسلمانوں کے حوالے سے جذبات رکھتے ہیں لیکن ایک ممبر نے انفرادی حیثیت سے ہماری ریاست اور افواج کے بارے میں ریمارکس دیئے، اس کا جواب دینا لازم بنتا ہے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ اس رکن نے پی ٹی آئی کی جانب سے ملک میں اقتدار کی تبدیلی کو بیرونی مداخلت قرار دینے کا ذکر کیا کہ ان کی مداخلت سے عمران خان اقتدار سے محروم ہوا۔ کینیڈا کو پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے بڑا درد اٹھ رہا ہے لیکن انہیں کشمیر، فلسطین، روہنگیا سمیت دیگر علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں۔ فلسطین میں اسرائیل جو کر رہا ہے اور بھارت مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتا۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ملک میں آئینی طریقے سے عمران خان کی حکومت کو ہٹایا گیا وہ یہ معاملہ عدلیہ میں لے کر گئے جس نے اس کی توثیق کی، آج بھی اس ایوان میں اراکین کی اکثریت موجود ہے۔ ایک اقلیت استعفے دے کر ایوان سے باہر بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ادارے کے سربراہ کی توہین ہوگی تو اس پر احتجاج ہوگا۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ سفارتی سطح پر اس بیان پر احتجاج بھی ہوا ہے، اس تنقید کی بنیادی وجہ بھی اسلاموفوبیا ہے، فلسطین میں معصوم بچے زیرحراست بھارت میں خواتین کے نقاب کھینچے جارہے ہیں، روہنگیا میں لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر تھوڑی سی توجہ بھی ان تنازعات پر مرکوز ہوتی تو آج یہ مسائل نہ ہوتے۔ مغرب کی اپنی ترجیحات ہیں ۔ ہم کینیڈا کی حکومت کا احترام کرتے ہوئے ان کے ایک رکن کے بیان پر احتجاج کرتے ہیں، یہ ہمارا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہمارے ملک میں جمہوریت اتنی آئیڈیل نہ ہو جس کی کئی وجوہات ہیں، پاکستان چالیس سال تک افغان جنگ میں شامل رہا جو اس کی اپنی جنگ نہیں تھی، اسلامو فوبیا کے حامل ممالک کی یہ جنگ تھی۔

 

روس سے ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی، اسی طرح نائن الیون کے حملے میں کوئی پاکستانی یا افغانی شامل نہیں تھا لیکن ہم اس کا نشانہ بنے۔ اس وقت ان کا ضمیر نہیں جاگا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے معاشرے کو بری طرح تقسیم کردیا ہے، تارکین وطن پاکستانیوں کو بھی تقسیم کردیا، وہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، نوے لاکھ تارکین وطن میں سے نصف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کرکے دھوپ اور پیٹ کاٹ کر یہ زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ میں عمران خان پہلا حکمران ہے جو اپنی گندی سیاست بیرونی دنیا کی سڑکوں پر لے گیا جس نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات میں ہنگامے کرانے کی کوشش کی، مسجد نبوی ﷺکے تقدس کو پامال کیا، یہ نفرتوں کے سوداگر ہیں، عمران خان نفرت کا پیامبر ہے، وہ اپنے خونی رشتوں کو محبت نہیں دے سکا، اس قوم کو کیا دے گا۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں اختلافات کے باوجود ہم نے کبھی سماجی اور انفرادی رابطے تباہ نہیں کئے، اس شخص نے ہمارے معاشرے میں تقسیم ڈالی، چار سال قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، اس کی تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں۔ پاکستان کے تمام اداروں کو اس نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا، اس کی بہادری اس قدر ہے کہ ضمانت قبل از گرفتاری سے قبل خیبرپختونخوا سے اپنے گھر واپس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی ذات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عمران خان کی سیاست کی میراث معیشت کو کھنڈرات میں تبدیل کرنا اور نفرت اور زہر کے علاوہ کچھ نہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ ہمارا معاشرہ تباہ کرگیا، معیشت کے حوالے سے ادراک رکھنے والوں کو اب یہ چیزیں سمجھ آرہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے اڑھائی تین ماہ میں ہم نے کسی کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا، کسی کی پگڑی نہیں اچھالی، اداروں کو کسی کے خلاف استعمال نہیں کریں گے جب تک کوئی فرد قانون ہاتھ میں نہیں لے گا، اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خود چل کر عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں جبکہ عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کراتا ہے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ کینیڈا کی حکومت کو ادب سے عرض کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ تعلقات کا ہمیں مکمل ادراک ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ کینیڈا کے اس رکن کی آواز انفرادی ہے، لیکن یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا وہاں مسلمانوں کے حقوق نہیں ہیں جو اس کو پاکستان میں انسانی حقوق کا خیال آیا۔ دنیا میں اربوں مسلمان ہیں کیا ان کے انسانی حقوق نہیں ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مسجد نبویﷺ کے تقدس کو جن لوگوں نے پامال کیا ان کی اکثریت برطانیہ سے آئی ہوئی تھی، اس میں مقامی لوگ کم تھے، یہ دو سلطنتوں سے وفاداری کی قسمیں کھائے ہوئے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ جس دھرتی نے انہیں جنم دیا ہے وہ اسے نقصان نہ پہنچائیں، یہ کسی طور پر محبت کے پیامبر نہیں ہیں۔ ان سے درخواست ہے کہ اپنے ملک کے خلاف زہر نہ اگلیں، اپنے وطن کو کمزور نہ کریں، اپنے وطن کی عزت بحال کریں، پسند ناپسند کی وجہ سے وطن کا سر نہ جھکائیں۔

 

تبصرے بند ہیں.