جمہور سے یوں دامن نہ چھڑا

16

مسئلہ یہ نہیں کہ پٹرول مہنگا ہو گیا، مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو مہنگی لگژری گاڑی، ہیلی کاپٹرز، جہاز، پٹرول، بجلی، گیس، رہائش، پلاٹ، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، باورچی، ڈرائیور، مالی اور گارڈز مفت میں دیا جاتا ہے ان سے کس طرح واپس لیا جائے۔ تمام وزراء، بیوروکریٹ اور تمام گریڈ کے مطابق سرکاری ملازمین اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ بہت ہو چکی اور اگر ملک کا خزانہ خالی ہے اور ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے تو پھر ایسی ایمرجنسی میں تمام سرکاری مراعات روکنے کے لیے فوراً ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ ’جمہور سے یوں دامن نہ چھڑا‘ وہ پیغام ہے جو ہم کالم نویسوں کو حکمراں طبقے کو باور کرانا پڑے گا۔ اور نتیجہ کے طور پر حکمراں طبقے کو عوام کے ساتھ اپنے رابطوں کو بڑھانا پڑے گا۔ یاد رکھیں مہنگائی صرف اُن کے لیے ہے جو اپنی محنت کی کمائی سے خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح سکول ہسپتال بھی اگر سرکاری استعمال کریں تو پاکستانی کئی بلیک میل مافیاز سے محفوظ ہو جائیں گے۔ یہ کون سا انصاف ہے کہ جو قوت خرید رکھتا ہے اُسے ہی مفت ملتا ہے اور جو غریب خرید نہیں سکتا اُسی کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ یا تو ان کو تنخواہیں نہ دو صرف مراعات دو یہ لاکھوں تنخواہیں بھی لیتے ہیں اور عوام کے ٹیکس پر مفت میں عیاشیاں بھی کرتے ہیں۔ ملکی معیشت کے تشویشناک حالات ظاہر و باہر ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر، بجلی کے ٹیرف میں تقریباً آٹھ روپے فی یونٹ اور بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 213 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ ان اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبہ زندگی میں اپنا اثر دکھاتا ہے۔ چنانچہ عوام کے لیے مہنگائی کا یہ بوجھ کثیر جہتی ثابت ہوتا ہے۔ یہ اضافے غیر معمولی اور آناً فاناً تھے اس لیے ہر شعبہ زندگی کے لیے یہ لرزہ انگیز ثابت ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھائے جا رہے ہیں، ڈیزل کے اخراجات بڑھنے سے اشیا کی نقل و حرکت کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثر انہی اشیا کی قیمتوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں جبکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے روٹی کی قیمت بڑھانے کی خبریں آ رہی ہیں۔ یوں ضروریاتِ زندگی کی ان اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے زندگی کے ہر شعبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ سخت ترین فیصلے آئی ایم ایف سے قرض کی بحالی کی شرط ہیں مگر عوامی معیشت پر ان کے بھیانک اثرات خوفناک ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں لوگوں کے اخراجات میں جس قدر اضافہ ہو چکا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ کم از کم گزشتہ کئی دہائیوں میں تو ایسا کوئی بھاری ہفتہ نہیں گزرا جب پٹرول، ڈیزل، بجلی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمتوں سمیت بے شمار اشیا کی قیمتوں میں ایسا ہوش ربا اضافہ ہوا ہو۔ ملکی معیشت کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، حکومت کے یہ اقدامات بچاؤ کی ہنگامی
کوشش سے بڑھ کر نہیں، مگر ان سخت ترین اقدامات کے حامل اقدامات کے باوجود معیشت کی صحت پر کوئی بہتر اثرات دکھائی نہیں دے رہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر اڑھائی سال کی کم ترین سطح پر ہیں جبکہ سٹاک مارکیٹ بدستور زوال کا شکار ہے۔ یہ صورت حال سرمایہ کاروں کے لیے روبہ زوال اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ بداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں غیر ملکی بینکوں نے پاکستان کی پٹرولیم درآمدات کے لیے پاکستانی بینکوں کے لیٹر آف کریڈٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ اگلے روز کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی میں تبدیل کر دیا۔ تیزی سے گرتے زرمبادلہ کے ذخائر اور خراب معاشی اشاریے ان فیصلوں کے محرکات ہیں۔ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے اس خرابی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر حکومت کی کوششیں سرسری اور سطحی نوعیت کی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے قریب دو ہفتے بعد 21 رکنی اکنامک کونسل تشکیل دی تھی مگر آج تک اس کونسل کے کتنے اجلاس ہوئے یا اس نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی میں کیا مشاورت کی؟ حکومت کے پہلے آٹھ ہفتوں کے دورانیے میں معیشت کو جس تشویش ناک صورت حال کا سامنا ہے ضروری تھا کہ صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور معاشی شعبے کے ماہرین کے ساتھ وزیراعظم مسلسل رابطے میں رہتے اور معیشت کی بحالی کو ایک چیلنج کے طور پر لیا جاتا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں دکھائی نہیں دیا۔ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے کل ملا کر یہی منظر بنتا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے ہی کو معاشی بہتری کے ناگزیر اقدامات تصور کرتی ہے۔ اس اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے جس ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے وہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ اقوام کی زندگی میں مشکل دور آتے رہتے ہیں اور وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ آج اگر مشکل ہے تو کل کلاں آسانی کی امید بھی کی جا سکتی ہے، مگر اس مشکل دور میں آپ حکمران طبقے سے جو امید کر سکتے ہیں ہمارے حکمران اس پر پورا اُترتے دکھائی نہیں دے رہے۔ اس شکایت کی متعدد جہتیں ہیں، پہلے نمبر پر یہ کہ حکومت عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے ہرگز تیار نظر نہیں آتی۔ مشکل فیصلوں کے لیے قوم کی ذہن سازی اور موافق ماحول ضروری ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں قیمتوں میں اضافے کی ضرورت اور ان قربانیوں کے اثرات بارے عوام کو اعتماد میں لینے کی جانب کسی کی توجہ نہیں۔ یہ مشکل فیصلے اگر ناگزیر ہیں تو اصولی طور پر ان کا آغاز حکومت اور اشرافیہ کی سطح پر ہونا چاہیے، لیکن یہاں ایسا بھی نظر نہیں آتا۔ حکومت اپنے اخراجات میں کمی کا کیا پروگرام رکھتی ہے، اس بارے عوام کو کوئی یقین دہانی نہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے کابینہ اور سرکاری ارکان کو ملنے والے پٹرول کے اخراجات میں جس کٹوتی کا اعلان کیا، یہی کافی نہیں، حکومتی سطح پر سادگی کو مستقل شعار بنانے کی ضرورت ہے۔ کہنے کی حد تک ہر حکومت ہی کسی نہ کسی موقع پر سادگی اور کفایت شعاری کے دعوے کرتی ہے۔ سابقہ حکومت نے بھی کیا تھا مگر یہ جب تک مستقل نہیں ہو گا اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ معیشت کے استحکام کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت و اہمیت بھی محتاج بیان نہیں۔ جنوبی کوریا، سنگا پور، بنگلہ دیش اور ملائیشیا اس سلسلے میں ہمارے لیے کامیابی کی سبق آموز کہانیاں ہیں، جہاں معیشت کو سیاسی جماعتوں کی دست برد کا شکار نہیں ہونے دیا گیا۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر معاشی منصوبے جاری رہے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہوتا آیا ہے اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہر آنے والی حکومت کو اپنے دور کے لیے مالی وسائل یعنی قرضوں کا بندوبست خود کرنا پڑا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہر آنے والی حکومت کو اپنے دور کے لیے مالی وسائل یعنی قرضوں کا بندوبست خود کرنا پڑا اور جب وہ گئی تو آنے والوں کے لیے خزانہ خالی تھا۔ مگر قرض کی اس روش پر چلتے چلتے اب ہم آخری سرے پر پہنچ چکے ہیں، اس سے آگے اسی طرح چلنے کی گنجائش باقی نہیں۔ اپنے اطوار کو بدلنا ہوتا، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

تبصرے بند ہیں.