سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی

13

لاہور: سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کر دی گئی ہے جس میں ہلاکتوں کی وجہ کاربن مونو آکسائیڈ کو قرار دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب نے مزید تحقیقات کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کی گئی سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 جنوری کو مری میں 16 گھنٹوں کے دوران چار فٹ برف پڑی جبکہ 3 جنوری سے 7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔ 
ابتدائی رپورٹ کے مطابق مری جانے والی 21 ہزار گاڑیاں واپس بھجوائی گئیں جبکہ برفانی طوفان کے دوران 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی اور گاڑیوں میں بیٹھے 22 افراد کاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک لوڈ مینجمنٹ نہ کرنے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مری اور گرد و نواح میں موجود سڑکوں کی گزشتہ 2 برس سے جامع مرمت نہیں کی گئی تھی اور گڑھوں میں پڑنے والی برف سخت ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی، اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا، سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کیلئے ہائی وے کی مشینری بھی موجود نہیں تھی۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مری کے مختلف علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی۔ رات گئے ڈی سی راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کی مداخلت پر مری میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی۔ 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیورز بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکے تاہم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک کی روانی یقینی بنانے موقع پر موجود تھے۔ مری میں ایسا کوئی پارکنگ پلازا موجود نہیں جہاں گاڑیاں پارک کی جاسکتیں، صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی۔

تبصرے بند ہیں.