جو لوگ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں وہ جانے کیلئے آزاد ہیں، عبوری وزیر خارجہ

42

کابل: افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ سرمایہ کار افغانستان آئیں ان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے اور عالمی برادری سے اپیل ہے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر میں مدد کریں۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی مدد کا اعلان کرنیوالے ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں اور رقم افغان بینک کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائے گی جبکہ عالمی برادری سے اپیل ہے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر میں مدد کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ افغانستان سے جانا چاہتے ہیں وہ جانے کیلئے آزاد ہیں اور سرمایہ کار افغانستان آئیں ان کومکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔ پڑوسی اور دوست ممالک کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور دنیا سے بھی مثبت تعلقات کے خواہش مند ہیں تاہم دنیا سے اپیل ہے جو ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک بڑی مشکل سے گزرا ہے اور تاجروں سے گزارش ہے کہ وہ کاروبار کریں اور اپنے لوگوں کی ہی فائدہ دیں۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ملک کے دباؤ میں نہیں آئیں گے کیونکہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور عالمی ادارے افغانستان میں منصوبے مکمل کریں ہم تعاون کریں گے اور کوشش ہے بیرون ملک افغان مہاجرین واپس آ جائیں جبکہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا جو ملک امارت اسلامی کو تسلیم کرنا چاہے گا خیر مقدم کریں گے اور فغانستان میں کہیں بھی لڑائی نہیں ہو رہی جو ایک مثبت پہلو ہے اور گزشتہ دنوں جو حکومت بنی وہ مکمل طور پر مخلوط حکومت ہے جبکہ قائم مقام افغان حکومت میں تمام گروہوں کے لوگ شامل ہیں اور خواتین کے حقوق سے متعلق کچھ ممالک کے اعتراضات ناقابل قبول ہیں۔ امیر خان متقی نے کہا کابل:وزارت خارجہ کے سابق اہلکار اپنا کام جاری رکھیں اور ہمارے سفارتخانوں میں موجود اہلکار افغانستان کے نمائندے ہیں جبکہ ہمیں پاکستان، قطر اور ازبکستان سے امداد ملی ہے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس سے قبل امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر اللہ متقی سے افغانستان کے لیے چین کے خصوصی ایلچی وانگ یو نے اہم ملاقات کی۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں چین کے ایلچی برائے افغانستان وانگ یو نے نئی حکومت کے قیام پر مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر چین کے ایلچی نے کورونا ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی مالی امداد کی فراہمی سے آگاہ کیا۔

ترجمان طالبان کے مطابق ملاقات کے دوران چین کے خصوصی ایلچی نے افغانستان کے ساتھ انسانی، معاشی، سیاسی تعاون اور تعلقات قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین کی مالی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین اور افغانستان ہمسائیہ ممالک ہیں اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔

واضح رہے کہ 8 ستمبر کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان، ایران اور تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے ہم منصبوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران افغان شہریوں کے لیے 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی مالی امداد کی پیشکش کی تھی جو غذائی قلت اور کورونا وبا پر خرچ کی جائے گی۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ملک کے دباؤمیں نہیں آئیں گے اور عالمی ادارے افغانستان میں منصوبے مکمل کریں ہم تعاون کریں گے۔

تبصرے بند ہیں.