اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کر دی

208

کابل: افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا افغانستان کے تنازع کا فوجی حل نہیں ہے۔

 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ہم طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں اور افغانستان کے تنازع کا فوجی حل نہیں ہے۔ لویہ جرگہ نے خطرناک 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی مثال قائم کی۔ لویہ جرگہ کی جانب سے 5 ہزار طالبان کی رہائی امن کے لیے ہماری کوشش کا ثبوت ہے۔

 

اشرف غنی نے کہا کہ آج کی جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ نیٹ ورکس کی جنگ ہے۔ امریکہ اور نیٹو سے فوجی انخلا کا فیصلہ واپس لینے کو کبھی نہیں کہا۔ ہم امریکہ اور نیٹو کے فوجی انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اب افغان عوام کو مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔

 

دوسری جانب عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے وفد نے چین کا دورہ کیا۔ افغان طالبان کے وفد نے چینی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورت حال اور امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی اور غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد صورت حال سنگین ہوچکی ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.