ایران نے جوہری مرکز پر پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کردی

55

تہران: ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے جوہری مرکز پر پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کر دی گئی ہے ۔

محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل ، ایران کی طرف سے پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں کامیابیوں کا بدلہ لینا چاہتا ہے اور جوہری مرکز پر پیش آنے والے واقعے کا انتقام لیا جائے گا ۔

ادھر ، اسرائیلی میڈیا کا انٹیلیجنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس تنصیب پر سائبر حملہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز ایران کے نطنز کمپلیکس میں یورینیم افزودہ کرنے والے پلانٹ کے برقی سرکٹ کے ایک حصے میں حادثہ پیش آیا تھا ۔

واضح رہے کہ ایرانی جوہری ایجنسی کے ترجمان کے مطابق ، حادثے میں جوہری تنصیب کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی ماحول کو نقصان پہنچا ہے ۔

گزشتہ سال جولائی میں بھی نطنز جوہری تنصیب میں دھماکہ ہوا تھا جس کا ذمہ دار ایران نے مبینہ طور پر اسرائیل کو ٹھہرایا تھا ۔ یہ حادثہ اس کمپلیکس میں موجود یورینیم کو افزودہ کرنے والی جدید سینٹری فیوجز مشینوں کو چلانے کے اعلان کے ایک دن بعد رونما ہوا تھا ۔

دوسری جانب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں امریکا ایران جوہری معاہدے پر بالاواسطہ مذاکرات ہوئے ۔ اس حوالے سے ایک امریکی عہدیدار کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی ٹیم نے انتہائی سنجیدہ تجاویز پیش کی ہیں اور اگر ایران معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو امریکا بھی اس کے بارے میں سنجیدہ ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب امریکا ایران کے جواب کا منتظر ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن ، سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والا جوہری معاہدہ بحال کرنا چاہتے ہیں ۔

تبصرے بند ہیں.