براؤزنگ ٹیگ

Nasif Awan

وہ جو چاہتے تھے، ہو گیا

ایوان زیریں (پارلیمنٹ) جس میں بائیس کروڑ عوام کے نمائندے پائے جاتے ہیں نے ایک ایسا بجٹ منظور کیا ہے جو عام آدمی کی نیند اڑا دے گا کیونکہ اس کے ماہانہ بجٹ میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا بلکہ ہو چکا ہے لہٰذا وہ کہاں سو سکے گا اور جب اس کی آنکھ…

کہیں محل ہے تو کہیں جھونپڑی

چند روز پہلے ڈیل ڈھیل کی افواہیں پھیلنے کے بعد اب سمٹ چکی ہیں لہٰذا سیاست کے سمندر میں جو بے تاب لہریں ابھر رہی تھیں، نیچے بیٹھ گئی ہیں جس کا مطلب ہے یہ حکومت اپنے پانچ برس پورے کرے گی اور پھر یہ ڈالر اڑھائی سو روپے تک پہنچ جائے گا۔ گھی،…

پی ٹی آئی کو ہارنا ہی تھا

خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو بری طرح سے شکست ہوئی ہے اور اب اس کے بڑے عہدیداران یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے امیدواروں کے چناؤ میں غلطی ہوئی ہے اگر وہ اس پہلو کا دھیان رکھتے تو انہیں ناکامی کا منہ نہ…

اب ایک اور بجٹ آئے گا

یہ جو منی بجٹ لایا جا رہا ہے اگریہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے یقینا لوگوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ جائے گی جبکہ وہ پہلے ہی ہوشربا گرانی سے گھائل نظر آتے ہیں۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے اگرچہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اس منی بجٹ کو…

ملک سستا ہے تو ہاہا کار کیوں؟

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان سستا ملک ہے یعنی یہاں اشیائے ضروریہ سستے داموں دستیاب ہیں جبکہ یہی چیزیں دوسرے ممالک میں بڑی مہنگی ملتی ہیں۔  کیا کہنے جی! نجانے انہیں کون لوگ ہیں جو ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں یا پھر وہ خود کو ذہین ظاہر…

انہیں اقتدار عزیز ہے عوامی مفاد نہیں؟

فرض کیا موجودہ حکومت اپنی مدت اقتدار پوری نہیں کرتی اور اس کی جگہ نئی حکومت آتی ہے تو اس سے عوام کو کیا فرق پڑے گا۔ وہی چہرے ہوں گے، وہی طرز عمل اور وہی طرز سیاست ہو گا جواب تک ہے۔ یہ جو ایک سنسنی سی حکومت کے آنے جانے کی پھیلائی جا رہی ہے…

زرد چہرے چیختے ہیں شدت آلام سے

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ جوں جوں حکومت کے جانے کا وقت قریب آئے گا وہ عوام کو سہولتیں دینے کی طرف بڑھے گی ان کی قوت خرید میں اضافہ کرے گی لہٰذا وہ مہنگائیوں کی ابھرتی ہوئی لہروں کو بھول جائیں گے اور ان کی سوچ میں تبدیلی آجائے گی کہ وہ…

اہل اقتدار ذرا سوچئے

اب تو ایک ہی موضوع رہ گیا ہے مہنگائی، جس پر لکھا جا رہا ہے آئے روز یہ آکاس بیل کی طرح بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ متعلقہ ادارے بے بس نظر آتے ہیں۔ وہ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس پر کیسے قابو پایا جائے کیونکہ مافیاز طاقتور…

روتے دھوتے کٹ ہی جائے گا زندگی کا سفر

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جس چیز کو عوام اپنے موافق نہیں سمجھتے وہی بار بار ان کے آگے آجاتی ہے یعنی لوگ مہنگائی کو ایک نظر بھی دیکھنا نہیں چاہتے مگر وہ گھوم پھر کر ان کی آنکھوں کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ پیارے پاکستانیو! بس آپ نے گھبرانا نہیں…

کیا سوچا تھا کیا ہوگیا

چوہتر برس کے بعد بھی قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو سکی کہ غریب پر یہ لاگو ہے اور امیر کو اس کی کوئی پروا نہیں۔  کیاجمہوریت پروان چڑھی بالکل نہیں۔  ہر سیاسی جماعت اپنوں میں ریوڑیاں بانٹتی نظر آتی ہے۔ نسل در نسل یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مگر…