جس دن عمران خان گرفتار ہوئے تو اسی دن سے سوشل میڈیا چند دنوں میں رہائی کی خبریں سنا رہا ہے بلکہ بڑے وثوق کے ساتھ کہا گیا کہ عید تک خان صاحب رہا ہو جائیں گے پھر کہا کہ اپریل کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے خان صاحب کی رہائی عمل میں آ جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس کے بر عکس خود عمران خان نے کہا کہ ان کی رہائی اگست ستمبر سے پہلے ممکن نہیں لیکن اب عدالتوں کا موڈ یا انتہائی کمزور حکومتی وکلاء کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان عنقریب رہا ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک تو اسلام آباد کے چھ ججز کا خط اور پھر بابر ستار کا چیف جسٹس اسلام آباد کو ایک اور خط اور اس کے بعد نیب ترامیم کیس میں وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی سہولت دی۔
190 ملین پونڈ میں ضمانت منظور ۔ سائفر کیس میںخود عمران خان نے متعدد بار اعتراف کیا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا تھا ۔ اب ان وڈیوز کے فرانزک ٹیسٹ کا تو نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن ان اعترافی بیانات کو یہ کہہ کر ہوا میں اڑا یا جا سکتا ہے کہ یہ ان کا سیاسی بیان ہو سکتا ہے۔
ادھر ایک حرف کہ کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اڑا دیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
اگر یہ سیاسی بیان مان لیا تو پھر جج کو دھمکیاں دینے کا کیس تو ویسے ہی اڑ گیا کیونکہ وہ تو کوئی ٹی وی انٹر ویو بھی نہیں تھا بلکہ عوامی خطاب کے دوران کہا تھا اور اس میں تو مزید کئی آپشن بھی زیر بحث لائے جا سکتے ہیں کہ زبان پھسل گئی تھی فرط جذبات میں کہہ دیا تھا جو کہا در حقیقت وہ مقصد نہیں تھا لیکن پھر طلال چوہدری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کو کس جرم کی سزا ملی تھی وہ بھی تو سیاسی بیان ہی تھے لیکن وہ بیچارے پھنس گئے جیل بھی گئے اور سینٹ کی سیٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑ گئے اور افتخار چوہدری کے دور میں تو پاکستان پیپلز پارٹی کی پوری قیادت پر ہی توہین عدالت کے کیس بنے تھے جو ابھی تک ختم نہیں ہوئے بلکہ کسی سرد خانہ میں پڑے ہوں گے۔ اب آپ جو مرضی کسی پر الزام لگا دیں ہر بات سیاسی بیان کہہ کر آپ بری الزمہ قرار پائیں گے۔
عدالتوں کا موڈ صرف سائفر کیس میں ہی نظر نہیں آ رہا بلکہ دیگر کیسز میں بھی یہ بات محسوس کی جا سکتی ہے۔ حکومت آئین میں ترمیم کر کے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی اور چیف جسٹس کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کچھ ترامیم کرنا چاہتی تھی لیکن جس دو تہائی اکثریت کے بل پر یہ سب کرنا چاہتی تھی ایک حکم سے مخصوص نشستوں کو ہی ختم کر کے اس بنیاد کو ہی ختم کر دیا گیا۔
ایک اور بات کہ جب سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں سکیورٹی کے نام پر منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ اب نیب ترامیم کیس میں وہ درخواست گذار ہیں ۔ چیف جسٹس صاحب نے آئین اور قانون اور حکومتی تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے 16مئی کو ان کے وڈیو بیان کا حکم جاری کیا۔ اس حکم میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے بہرحال انھیں وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کر دیا گیا لیکن سپریم کورٹ کی کارروائی کو براہ راست نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی خان صاحب سے کچھ پوچھا گیا اور نہ ہی انھوں نے اپنی عادت کے مطابق کچھ کہا یا کہنے کی کوشش کی بلکہ اس ساری کارروائی میں وہ خاموش بیٹھے عدالتی کارروائی دیکھتے رہے۔ جو ہوا وہ یہ تھا کہ ان کی ایک تصویرسوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اب یہ کیسے ہوئی اور کہاں سے ہوئی اس کی تحقیقات ہوں گی لیکن جو ہونا تھا ہو گیا اور یہ کوئی عجیب نہ ہوا اور نہ ہی عمران خان کوئی پردہ دار خاتون تھے حالانکہ ان کی تو ان کی ساری عمر عوام کے سامنے گذری ہے ایک اور تصویر اگر سوشل میڈیا کی زینت بن گئی ہے تو کون سی قیامت آ گئی ہے ۔ 9مئی جو ایک کھلا کیس ہے اور اتنے آڈیو اور وڈیو شواہد ہیں کہ اگر مگر کی گنجائش ہی نہیں ہے لیکن نگران دور میں تیار کی گئی سرکاری رپورٹ کو جواز بنا کر اب میڈیا پر صورت حال کو جس طرح تحریک انصاف کے حق میں تبدیل کیا جا رہا ہے اس سے بھی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ بغور دیکھنے سے پوری کی پوری دال ہی کالی لگتی ہے۔ اب اگر ایک طرف رہائی کے آثار نظر آ رہے ہیں تو دوسرا فریق بھی اس بات کو سمجھتا ہے لہٰذا وہ بھی اپنی پوری تیاری میں ہے اور اس کی کوشش ہو گی کہ بانی پی ٹی آئی کسی صورت رہا نہ ہوں اور اس کے لئے شنید یہی ہے کہ توشہ خانہ کے حوالے سے نیب نے ایک نیا کیس تیار کر لیا ہے اور اگر سائفر اور عدت کیسز میں بھی ضمانتیں ہو گئی تو خان صاحب کی اس کیس میں فوری گرفتاری ڈال دی جائے گی لیکن ہماری دعا ہے کہ معاملات اس حد تک نہ جائیں کہ جیسا بندیال صاحب کے دور میں ہوا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ ایک طرف ضمانت دے اور دوسری طرف گرفتار کر لیا جائے اس لئے کہ عدلیہ ہو، اسٹیبلشمنٹ یا پارلیمنٹ یہ سب ریاستی ادارے ہیں اور ان سب کی مضبوطی ہی ریاست کی بقا کی ضامن ہے اور بات عدالتوں کے موڈ کی بھی نہیں بلکہ در حقیقت ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کی ہے۔
ایک بات کی پاکستانی سیاست کی تاریخ میں اس کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے اور پاکستان میں امریکن سفیر کو تو بعض لوگ وائسرائے بھی کہتے ہیں ۔گذشتہ کچھ عرصہ سے تحریک انصاف کی قیادت کا مسلسل امریکن سفیر سے ملاقاتیں کرنا یقیناً کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور یہی بات گذشتہ دنوں مشاہد سید نے کہی تھی کہ اس سے پہلے کہ امریکا سے کال آئے حکومت کو عمران خان کو رہا کر دینا چاہئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان اپنے دور میں حزب اختلاف کا غیر ملکی سفیروں سے ملنا حب الوطنی کے حوالے سے مشکوک سمجھتے تھے لیکن بات وہی ہے کہ ”ہم کوئی غلام ہیں“۔