ہیجانی کیفیت تو ختم ہوئی

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہوئی ہے اور میرٹ کا خیال رکھتے ہوئے جو سینئر موسٹ جنرل تھے انھیں آرمی چیف تعینات کر دیا گیا ہے۔ جنرل عاصم سینئر موسٹ تو تھے ہی لیکن ان کا میرٹ کے حوالے سے اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ انھوں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی اس وقت کے وزیراعظم کو ان کے اہل خانہ کی کرپشن سے متعلق بتایا۔ آج کے دور میں اس سے بڑھ کر فرض شناسی کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے بہرحال اس کے لیے وزیراعظم اور تمام اتحادی مبارک باد کے مستحق ہیں ورنہ تو عمران خان نے اس تعیناتی کو متنازع بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ عمران خان نے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں آرمی چیف کے متعلق فیصلہ کیا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے اس لیے کہ انھوں نے یہ فیصلہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں نہیں بلکہ اپنے بہترین مفاد میں کیا ہے۔ اس لیے کہ پرانی بات ہو تو انسان بھول جاتا ہے یا کہہ سکتا ہے کہ اتنے عرصہ میں انھوں نے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا ہے لیکن اس کا کیا کریں کہ فقط چوبیس گھنٹے پہلے خان صاحب نے صحافیوں سے ملاقات میں کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے وہ اور صدر مل کر کھیلیں گے۔ ان کے اسی طرز عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے اپنے گذشتہ کالم ”آخر سمری پہنچ ہی گئی“ میں عرض کیا تھا ”تحریک انصاف اور اس کی قیادت کا ماضی اور حال کی سیاست میں جو طرزعمل نظر آ رہا ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں اور جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ گورنر کی تعیناتی پر پچیس دن تک تاخیر کرنا الگ بات ہے لیکن یہ آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ ہے کوئی مذاق نہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ عمران خان جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کا اول و آخر مقصد ہی آرمی چیف کا تقرر ہے تو کیا وہ یہ سب آسانی سے ہونے دیں گے اگر تو اندر کھاتے سمجھا دیا گیا ہے تو الگ بات ہے ورنہ عمران خان جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے اور ملک و قوم کے مفاد اور وقار کی پروا کیے بغیر وہ آخری حد تک جائیں گے“۔
حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کے پلے اگر کچھ ہوتا تو انھوں نے بالکل کھیلنا تھا لیکن ان کے پاس کھیلنے کے لیے کچھ بچا نہیں تھا لے دے کہ ایک نہایت ہی ہلکا سا گرے ایریا تھا لیکن حکومت نے اس گرے ایریا کو بھی بلیک اینڈ وائٹ میں تبدیل کر دیا جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے دو دن پہلے ختم ہو رہی تھی اور یہی وہ نقطہ تھا کہ جس پر خان صاحب اپنا کھیل منفی انداز میں کھیل سکتے تھے لیکن حکومت نے اس کا بھی بندوبست کر دیا اور آرمی رولز کے تحت جنرل عاصم
منیر کی ریٹائرمنٹ کو منجمد کر کے ان کی مدت ملازمت کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ سمری کو پہلے 15 اور دوسری بار 10 دن کے لیے لٹکائے رکھنے کا جو دوسرا آپشن تھا کوئی ہوش مند کم از کم آرمی چیف کی تعیناتی میں اس آپشن کے استعمال کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا اس لیے کہ 25 دن تاخیر کا سبب بننے والے کے لیے پھر وہی بات ہوتی ”لال ہے بھئی لال ہے“ لیکن جب ہر طرف سے کہا گیا صدر کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے اور پھر حکومت کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو ری ٹین کرنے کے بعد تو صدر کے پاس آپشن نام کی کوئی چیز بچی ہی نہیں تھی لیکن خبط عظمت میں مبتلا ایک شخص نے فقط اپنی انا کی تسکین کے لیے صدر کو لاہور بلایا کہ جس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی گنجائش تھی لیکن فقط دنیا کو یہ دکھانے کے لیے میں بھی ہوں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کے جہاز پر لاہور گئے اور واپس آئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنی فطری روش کے برعکس آئینی مجبوریوں کی وجہ سے آرمی چیف کی تعیناتی پر تو پسپائی اختیار کر لی ہے لیکن 26 کو راولپنڈی اور اسلام آباد جانے کے پروگرام میں کوئی فرق نہیں پڑا تو وہاں جا کر کیا کرتے ہیں۔
اس سارے عمل میں عمران خان نے تو روز اول سے ہی جو منفی کردار ادا کیا وہ اپنی جگہ پر لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو صدر مملکت کا کردار ہے صدر، گورنر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدوں پر فائز افراد اپنے حلف سے پہلے اگر کسی جماعت کے رکن ہوتے ہیں تو اس سے مستعفی ہو جاتے ہیں اور پھر صدر مملکت تو کسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا صدر ہوتا ہے اور بجا طور پر وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ انھوں نے پہلے بھی عدم اعتماد اور اس کے بعد مختلف آئینی عہدوں کی تعیناتی میں جس طرح تاخیری حربے استعمال کیے وہ کوئی قابل تحسین عمل نہیں تھا لیکن جس طرح ایک شخص کی انا کی خاطر عارف علوی صاحب نے سربراہ مملکت کے عہدے کی بھینٹ چڑھائی ہے یہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ اول تو اس سارے عمل میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں تھا لیکن چلیں اگر اس مسئلہ پر صدر کو کچھ کہنا بہت ضروری تھا تو خان صاحب اگر زخمی تھے تو کسی کے ذریعے پیغام پہنچا سکتے تھے لیکن اگر سمری پر دستخط ہی کرنا تھے اور وہ بھی فوری تو پھر یہ بات تو فون پر بھی ہو سکتی تھی اس لیے کہ آپ نے سمری کو مسترد کرنے کی کوئی خفیہ حکمت عملی تو طے نہیں کرنی تھی کہ رازداری ضروری ہوتی۔ اب سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ گذشتہ 9 ماہ
کے دوران 70 سے زیادہ جلسے، دو بار لانگ مارچ اور درجنوں پریس کانفرنس کر کے آخر عمران خان نے کیا حاصل کیا یہ تو طے ہے کہ اس سے پاکستان کی تباہ حال معیشت کا مزید ستیاناس ہوا لیکن خان صاحب کو کیا حاصل ہوا جلد انتخابات پر حکومت نے زبردست پراپیگنڈہ کے باوجود ہری جھنڈی دکھا دی، چیف الیکشن کمیشن کی تبدیلی پر کسی نے سرے سے بات ہی نہیں سنی، توشہ خانہ کا فیصلہ آ گیا، فارن فنڈنگ میں ملوث قرار پائے، افواج پاکستان کی قیادت کو متنازع بنانے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود دال نہیں گلی اور خان صاحب کے لیے ام المسائل آرمی چیف کی تعیناتی میں ان کی مرضی تو درکنار ان کی مشاورت کی التجائیں بھی قبول نہیں کی گئیں اور یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ سندھ اور وفاق کے علاوہ ہر جگہ تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں تو اب 26 تاریخ کو راولپنڈی میں دھرنوں کے لیے جو خیمہ بستی بنائی جا رہی ہے تو اول تو یہ انکوائری بھی ہونی چاہیے کہ اتنے بڑے پیمانہ پر ہونے والے اخراجات کی منی ٹریل کیا ہے۔ دوسرا پُر امن احتجاج کی آڑ میں اس معیشت دشمن کھیل کو اب بند ہونا چاہیے اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ہر کسی کو سخت پیغام جانا چاہیے تاکہ ملک میں امن کی فضا بنے اور ملکی معیشت کو آگے بڑھنے کے لیے احتجاج اور انتشار کی کچی ٹوٹی راہگذر کے بجائے ہموار زمین مل سکے اگر ایسا نہ کیا گیا تو معیشت کی بہتری کا خواب بس خواب ہی رہے گا کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے گا۔