شہباز گل: عذر گناہ بدتر از گناہ

حکمران اتحاد کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اکثر کچھ کئے بغیر ہی اپنے مخالف بلکہ جانی دشمن پاکستان تحریک انصاف کی کسی نہ کسی اپنی بے حکمتی یا Blunder کا بیٹھے بٹھائے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ حکمران اتحاد کے بڑے اتحادی پاکستان مسلم لیگ ن کو سیاست اپنی ذہنی پختگی کی بجائے پی ٹی آئی کی اپنی غلطیوں سے اور ان کے نتائج سے مفت کا فائدہ اٹھا لیتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس ہے جو ثابت کرنا ن لیگ کے بس کی بات نہیں تھی یہ تو اکبر ایس بابر کی بہادری ہے کہ انہوں نے تن تنہا اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور وہ ساری قانونی راہیں ہموار کردی ہیں جس کی بنا پر تحریک انصاف بطور پارٹی اور چیئرمین عمران خان بطور سربراہ دونوں سیاس سے بیدخلی کے مستوجب قرا ر پائیں۔
اس کیس کا حکومت کو وقتی فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہر خاص و عام کی نظریں حکومتی عدم کارکردگی سے ہٹ کر آئندہ کے سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین کا مستقبل ڈھونڈ رہی ہیں مہنگائی غربت بے روزگاری خود کشیوں اور جرائم سے توجہ ہٹ کر سیاست پر آجاتی ہے۔ ن لیگ کی دوسری خوش قسمتی یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کی جانب آرہی ہیں جس سے امکان پیدا ہو چلا ہے کہ عام انتخابات تک یہ رجحان حکومت کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔ اسی اثناء اثنا میں ڈالر کی قیمتیں 248 سے کم ہوتے ہوتے 216 روپے تک آگئی ہیں جس سے عوامی غصے میں کمی آنے کا امکان ہے۔
اس ساری سیاسی Equation میں بھونچال اس وقت آیا جب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے فوج کے خلاف بہت زیادہ گمراہ کن بیان دے کر آ بیل مجھے مار کے مصداق قانون کی توپوں کا رخ اپنی جانب کر لیا یہ احمقانہ اقدام ایک ایسے نازک وقت پر ہوا جب تحریک انصاف پہلے ہی بہت زیادہ رسوا کن سیاسی مشکلات کا شکار تھی۔
شہباز گل کا بیان آئین سے کھلم کھلا غداری اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی پہلی سیاسی پارٹی ہے جس نے اپنی پارٹی صفوں میں چیف آف سٹاف کا عہدہ فوج کے ساتھ stand off کے بعد متعارف کرایا جس کا مقعد عسکری اداروں کویہ پیغام دینا تھا کہ ہمارے پاس بھی اپنا چیف آف سٹاف ہے۔ یہ چیف آف سٹاف کا عمدہ پارٹی نے شہباز گل کو دے رکھا تھا اور اسے تمام مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کیا جا تا تھا اس کی گھٹیا غلیظ اور اخلاق سوز زبان سے نہ کوئی خاتون سیاستدان محفوظ تھی اور نہ ہی مخالف سیاسی قیادت۔ اس طوفان بدتمیزی پر پارٹی اجلاسوں میں اس کیلئے تالیاں بجوائی جاتی تھیں جس سے وہ اور زیادہ نڈر ہو کر مخالفین کی charaucter assassination یا کردار کشی کرتا تھا وہ اس میں اتنا آگے نکل چکا تھا کہ اس نے وہی زبان قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردی۔
قومی سلامتی کے ادارے گزشتہ ہفتے فوج کے شہید ہونے والے افسران کی شہادت کے واقعہ پر تحریک انصاف کے منفی پراپیگنڈے پر پہلے ہی ناراض تھے شہباز گل کے زہر آلود الفاظ آخری تنکا ثابت ہوئے عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری کو فوری طور پر تو Abduction یا اغواء قرار دیا مگر معاملے کی سنگینی کا احساس ہونے پر ایک پریس کانفرنس میں معاملے کو cool down کرنے کی کوشش کی وہ بہت گھبرائے ہوئے نظر آرہے تھے انہوں نے معاملے پر معذرت کرنے کی بجائے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ماضی کے فوج مخالف بیانات کو یاد دلا کر فوج کو مزید مشتعل کرنے کی کوشش کی کیو نکہ غذر گناہ بدتر از گناہ ۔ ایک موقع پر انہوں نے مغربی میڈیا کا حوالہ دے کر یہ بھی کہا کہ افغانستان پر ڈرون حملہ پاکستان سے کیا گیا ہے ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم حقیقت کیا ہے۔ یہ بہت بڑی کنفیوژن تھی جس سے ان کی پر یس کانفر نس نے معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دیاہے۔
پولیس تفتیش میں ملزم کا جو موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا ہے جس سے اہم معلومات اور جرم سے متعلق معا ملات میں مدد ملے گی البتہ پولیس وہ پرچہ برآمد کرنے میں کا میاب نہیں ہو سکی جسے ملزم ٹی وی کیمرے کے سامنے پڑھ رہا تھا پولیس کو شبہ ہے کہ اسے ایسا کرنے کے لیے کہا گیا تھا یہ بات تفتیشی بیان میں بھی سامنے آ سکتی ہے اگر ملزم اپنے شریک کا ر کا نام بتادے یا تفتیش میں تعاون کرے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ عمران خان نے وزیرا عظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنا چیف آف سٹاف کا عہدہ create کیا تھا اور کارپوریٹ سیکٹر میں CEO جب کسی کو چیف آف سٹاف مقرر کرتا ہے تو اس کے پاس CEO کے بہت سے اختیارات ہوتے ہیں یہ دیکھا جائے گا کہ چیف آف سٹاف نے یہ جو ورقہ بڑھا تھا یہ CEO کے ایماء پر تو نہیں پڑھا گیا۔ اس کیس کے لئے 14 دن کا ریمانڈ مانگا گیا تھا مگر یہ اس سے پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ جائے گا البتہ جتنا طویل وقت لگے گا عمران خان اور پارٹی کی مشکلات بڑھتی جائیں گی۔
اس میں اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اتحادی وزیرا علیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے شہباز گل کے بیان کی مذمت کی ہے اور اس کے ساتھ اظہار لا تعلقی کیا ہے اور چیئرمین عمران خان کو بھی ایسا کرنے کا کہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت میں سے کوئی بھی شہباز گل کی حمایت نہیں کر رہا نہ ہی کوئی احتجاج ہوا ہے ۔ یہ کیس جاوید ہاشمی کے مقدمے سے ملتا جلتا ہے۔ دفاعی اداروں کے اندر بھی اب اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کروانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کیونکہ سیاستدانوں میں اس طرح کے بیانات کی روش پر قابو پانا ضروری ہوگیا ہے ان حالات میں شہباز گل کو اپنے بیان کے انجام سے گزرنا ہوگا۔
اس سارے واقعہ سے پی ٹی آئی کافی حد تک دفاعی پوریشن پر چلی گئی ہے اور ہو سکتا ہے کے جو جلسہ وہ اسلام آباد سے لاہور لے آئے تھے وہ اب انہیں لاہور سے بھی ملتوی کرنا پڑے 13 اگست کا جلسہ التوا نہ بھی ہوا تو بھی اس کا ٹرن آؤٹ اور لب ولہجہ کا فی مدھم ہو جانے کا امکان ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں شہباز گل کے بعد اگلا چیف آف سٹاف کون ہوگا۔ پارٹی کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ یہ عہدہ ختم کردیں یا اسے کوئی اور نام دیدیں۔ جنوں کا نام خرد رکھ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر تو یہ نام کسی کو مشتعل کرنے کیلئے رکھا گیا تھا تو یقینا یہ ہتھکنڈا فلاپ ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے ایک ہلکی پھلکی مماثلت یاد آرہی ہے۔ ہمارے ہاں جب سستے پلاٹ سے ’’لیلن دیاں جوتیاں‘‘ بنانے کا آغاز ہوا تو مینو فیکچرز جو دیسی تھے انہوں نے اپنے برانڈز کے نام BMW اور مرسیڈیز رکھ دیئے۔ بچے یہ سینڈل پہن کر ایک دوسرے کو شوخی دکھاتے تھے ایک کہتا تھا میں BMW پر سکول آیا ہوں دوسرا جواب دیتا کہ تمھیں پتہ نہیں میرے پاس مرسڈیز ہے یہ محض سیاست کا حسن اتفاق ہے کہ ہو سکتا ہے اگلے چند دنوں میں عمران خان آرمی چیف آف سٹاف سے اپیل کرتے دکھائی دیں کہ ہمارے چیف آف سٹاف سے وہی سلوک کیا جائے جو ایک چیف آف سٹاف دوسرے چیف آف سٹاف سے روا رکھتا ہے۔ لیکن عقل اورسیاست دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ جب آپ کو اصلی چیف کی طاقت کا ادراک تھا تو آپ نے اس کے آگے 2نمبر چیف بنا کر کیوں کھڑا کر دیا اور حد یہ کہ 2 نمبر چیف شیر کی کھال پہن کر اپنے آپ کو اصلی شیر سمجھنے لگ گیا۔ پھر جو ہوا یہ تو ہونا ہی تھا۔