قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی (1947-2022)

اگست 1947، پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ ہندو کی عیاری اور انگریز کی مکاری کے باوجود پاکستان کا قیام کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ ذرا غور کریں کانگریس جیسی منظم اور مربوط سیاسی جماعت ہندو، سکھ و دیگر اقلیتوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر برصغیر میں سیاسی و سماجی کاموں میں مصروف تھی اس کے علاوہ ہندوئوں کی کئی فرقہ وارانہ اور نیم عسکری تنظیمیں بھی فعال اور متحرک تھیں۔ مسلمان انگریزوں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو تاریخ کے کوڑادان میں دھکیلنے کی منصوبہ سازی کی یہاں اپنے قدم جمانے اور سیاسی غلبے کے لئے انہوں نے جو بساط بچھائی اس میں ہندوئوں کو حلیف کے طور پر ساتھ ملایا۔ ہیوم کے ہاتھوں کانگریس کی تخلیق کے بعد اس پر ہندوئوں کا غلبہ انگریزوں کی اس پالیسی کا عکاس تھا۔ انگریزوں نے سرکاری زبان کی تبدیلی کے ذریعے لاکھوں پڑھے لکھے مسلمانوں کو ان پڑھ قرار دے ڈالا۔ نظام تعلیم کی تشکیل نو کے ذریعے مسلمانوں کی آئندہ نسل کو جہالت کی گمنامی میں دھکیلنے کی منصوبہ سازی کی ہندی مسلمان بوجوہ انگریز حکومت کی ہر پالیسی کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے تھے اس لئے وہ نئے نظام تعلیم سے بھی دور رہے اور بحیثیت قوم کانگریسی سرگرمیوں سے بھی کنارہ کش رہے۔ اس طرح وہ معاشی میدان میں ہندوئوں سے پیچھے رہ گئے۔ مسلمانوں کے بڑوں نے مسلم لیگ کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا تھا لیکن یہ مسلم زمینداروں اور انعام یافتگان کی ایک بیٹھک ثابت ہوئی حتیٰ کہ اسے محمد علی جناح جیسے نابغہ کی سرپرستی میسر آئی 1930 میں اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے علامہ اقبالؒ نے وہ خطبہ دیا جس میں برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کا ایک خاکہ پیش کیا جسے مسلم لیگ نے 1940 میں ایک قرارداد کی شکل دے کر عملی جدوجہد کا نشان بنا لیا۔ یہ قرارداد لاہور تھی جو 1940 میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پیش کی گئی۔ منظور کی گئی اور پھر محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے اس قرارداد کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے عظیم الشان سیاسی جدوجہد کی اور بالآخر 14 اگست 1947 میں عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت، مملکتِ خداداد پاکستان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
پاکستان، ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کی سیاسی ، مذہبی، سماجی اور معاشی آزادی کا نشان بن کر سامنے آیا۔ محمد علی جناح ، مسلمانان ہند کے، قائداعظم کی شکل میں سامنے آئے۔ ذرا غور کریں ہندی مسلمانوں کے قد آور، سروقد علما دین و شرح متین، کانگریس میں شامل ہیں۔ ہندی مسلمان علما کی جمعیت، جمعیت علما ہند کی شکل میں کانگریس میں شامل ہیں۔ ابوالکلام آزاد جیسے سرکردہ رہنما گاندھی و نہرو کی عظمت کے اسیر ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی ہوں یا اسی قبیل کے عظیم علما و سکالرز، سب کانگریسی قیادت کے ہمنوا ہیں۔ علامہ عنایت اللہ المشرقی جیسے سکہ بند جید سکالر اور منتظم سیاستدان بھی مسلم لیگ کے مقابل کھڑے ہیں۔ انگریز فکری و عملی طور پر گاندھی سے متاثر ہیں نہرو کی شخصیت کا حصار انہیں اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے کانگریس اعلان کرتی ہے کہ ہندوستانی سیاست میں دو فریق ہیں حاکم اور محکوم۔ انگریز اور کانگریس جو ہندی عوام کی نمائندہ ہے۔ قائداعظم اعلان کرتے ہیں کہ اس قضیہ میں مسلم لیگ بھی ایک فریق ہے جو ہندی مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔ محمد علی جناحؒ نے اپنی عظیم الشان فکری و سیاسی چابکدستی اور مہارت سے ہندوئوں کی مکاری اور انگریزوں کی عیاری کو شکست دے کر ہندی مسلمانوں کے لئے ایک ریاست تخلیق کی۔ پاکستان14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ایک عظیم مملکت ابھری۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی نظریاتی ریاست، پاکستان، علامہ اقبالؒ کے تخیل اور جناحؒ کی سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ قیام پاکستان کو آج 75 سال ہونے
ہیں اس آزاد اور بڑے مسلم ملک کے پرچم تلے 3 نسلیں بیت چکی ہیں۔ آج جو نئی جواں نسل میدان عمل میں ہے وہ سیاست و معیشت کے بوجھ تلے دبی ہوئی نظر آ رہی ہے اسے یہ ہرگز معلوم نہیں ہے کہ نظریہ پاکستان کیا تھا۔ اقبال کا دو قومی نظریہ کیسے آل انڈیا مسلم لیگ کی نظری و فکری جدوجہد کی بنیاد بنا۔ برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت کیوں قبول کی؟انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ دھان پان سا محمد علی جناحؒ تاریخی اعتبار سے قائداعظمؒ کے عظیم الشان منصب تک کیسے پہنچا؟ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انگریزوں کی ہندو دوستی و مسلم دشمنی اور ہندو کی عیاری کے باوجود، محمد علی جناح صدی کی سب سے بڑی مسلم ریاست تخلیق کرنے میں کس طرح کامیاب ہوئے؟ یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے کہ ہندوستان کے ان خطوں کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے لئے، پاکستان کے لئے کیوں جدوجہد کی جنہیں یقین تھا کہ ان کے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تحریک پاکستان کی کامیابی کے لئے تن من دھن دائو پر لگایا۔
آج سے 75 برس قبل 14 اگست 1947 میں پاکستان کا قیام ہر اعتبار سے ایک معجزہ تھا۔ پاکستان عطیہ خداوندی تھا۔ لیکن ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ وہ بنگال، جہاں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی وہ بنگالی جو تحریک پاکستان کا ہراول تھے، پاکستان سے متنفر کیوں ہوئے؟ بنگالی آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں تھے ہم نے ون یونٹ کے ذریعے ان کی اکثریت کے ساتھ کھلواڑ کیا دورِ جدید کی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اکثریت نے تحریک چلا کر، جدوجہد کر کے اقلیت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہو۔ قائداعظمؒ کی جمہوری سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہونے والی مملکت بار بار کیوں فوجی آمروں کی طالع آزمائیوں کا شکار ہوئی؟ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بننے والا بنگلہ دیش ہم سے معاشی تعمیروترقی میں آگے کیوں نکل چکا ہے؟ آج بھی پاکستان میں سیاسی انتشار اور معاشی ابتری کیوں ہے؟ مرکز گریز قوتیں کیوں فعال ہیں؟
پاکستان اپنے قیام کے 75 سال گزرنے کے بعد بھی آج اپنی بقا کے خطرات سے کیوں دوچار ہے؟سیاسی نظام ڈی ریل ہوتا کیوں نظر آ رہا ہے؟ معیشت کیوں ڈگمگا رہی ہے؟ معاشرتی ڈھانچہ توڑ پھوڑ کا شکار کیوں ہے؟ 230 ملین نفوس پر مشتمل آبادی کی اکثریت جو نوجوانوں پر مشتمل ہے، آج ذہنی فکری انتشار کا شکار کیوں ہے؟
ہم سے، جو کچھ ہو چکا ہے اور جو ہو رہا ہے ہم ہنود و یہود کی سازش کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ امریکی دشمنی و سازش بھی ان سوالوں کا جواب نہیں ہے۔ اس بارے میں بھی شک و شبہ نہیں ہے کہ بھارت، اسرائیل، امریکہ وغیرہ ہمارے دشمن ہیں اور ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن دور حاضر میں ہر ملک کے خلاف اس کے دشمن سازشیں کرتے ہیں اس کے باوجود اقوام ترقی کی منازل طے کرتی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایک ناکام قوم کیوں بنتے چلے جا رہے ہیں؟ پاکستان کے حوالے سے ناکام ریاست کا تصور کیوں زور پکڑتا چلا جا رہا ہے؟
آیئے پاکستان، قیامِ پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر ان سنجیدہ سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وگرنہ ہمارا المناک انجام کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔