بے حکمتی کے گرداب میں مذاکراتی تنکے کی تلاش!

55

عمران خان کی اٹھائیس سالہ سیاسی زندگی مذاکرات، مفاہمت اور مصلحت جیسے ’’غیر انقلابی‘‘ عوامل سے کُلّی طور پر عاری رہی ہے۔ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ہاتھ ملانا، بات کرنا بلکہ اُن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی اپنی سیاسی غیرت و حمیت کے منافی خیال کرتے ہیں۔ آج پی ٹی آئی جس گرداب میں غوطے کھاتے ہوئے کسی ’’مذاکراتی تنکے‘‘ کا سہارا ڈھونڈ رہی ہے، اس تک لانے میں بنیادی کردار عمران خان کی اِسی ’’خوئے خُود سری‘‘ کا ہے۔ اِسی سے جڑی ایک بہت بڑی الجھن یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیسے منہ لگائیں جنہیں وہ روز اول سے چور، ڈاکو، لٹیرے اور ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی، آمروں کے خلاف جدوجہد، جمہوریت کے لیے قربانیوں، آئین سازی، اٹھارھویں ترمیم اور مزدوروں، محنت کشوں، غریبوں کے لیے اقدامات کو اپنا سیاسی سرمایہ خیال کرتی اور اِسی اثاثے کی بنیاد پر انتخابات میں اترتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) عوامی فلاح و بہبود کے کاموں، جدید انفرا سٹرکچرکی تعمیر، معیشت کی استواری، توانائی اور دہشت گردی کے بحرانوں پر قابو پانے اور قومی تفاخر کی امین توانا خارجہ پالیسی کو اپنے نامہ اعمال کا حسن خیال کرتی اور اِسی کو زادِ راہ بنا کر انتخابی کامرانی کی منزل کی طرف بڑھتی ہے۔ دینی تشخص رکھنے والی جماعتیں اسلامی نظام کی کارفرمائی اور علاقائی جماعتیں مقامی مسائل اور عوامی حقوق کی نگہبانی کا دم بھرتی ہیں۔ تحریک انصاف کی ’فرد عمل‘ میں اس طرح کا کوئی کارنامہ تو کجا، کوئی نعرہ یا دعویٰ تک بھی نہیں۔ عمران خان کی سیاست اس نکتے سے شروع ہر کر اسی نکتے پر ختم ہو جاتی ہے کہ ’’میرے مخالفین چور اور ڈاکو ہیں، میں ان کے ساتھ کیسے ہاتھ ملا سکتا، کیسے مذاکرات کر سکتا ہوں؟‘‘ ان کا یہی بیانیہ ان کے فدائین کے دِلوں کو گرماتا اور ریاستی اداروں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ اگر میں ’چوروں اور ڈاکوئوں‘ کے ساتھ بیٹھ گیا، ان سے مذاکرات اور معاملات کرنے لگا، تو اپنے پیروکاروں کو کیا منہ دکھائوں گا؟ اٹھائیس برس کی جہد مسلسل سے نفرتوں کا جو الائو بھڑکایا ہے، اگر اس پر مذاکرات، مفاہمت اور مصلحت کیشی کی برکھا برسنے لگی تو اپنے فدائین کے دل و دماغ میں بونے کے لیے انگارے کہاں سے چنوں گا؟ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض سینئر راہنمائوں کی مساعی کے باوجود، آج تک مذاکرات کی کوئی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ رکاوٹ صرف خان صاحب کا یہ فلسفہ سیاست ہے کہ ’’گھاس تو گھوڑے کا رزق، راتب، چارہ اور زندگی ہے۔ گھوڑا اس سے دوستی کر لے تو کھائے کیا؟۔

اپریل 2022 میں، ہماری قومی تاریخ میں پہلی بار، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہونے لگی تو پہلے قاسم سوری اور پھر عارف علوی کو استعمال کیا۔ سپریم کورٹ نے دونوں اقدامات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو صرف دو ارکان کی اکثریت سے قائم ہونے والی حکومت کو تگنی کا ناچ نچانے کے بجائے اجتماعی استعفے دے کر گھر چلے گئے۔ ان بے حکمتیوں سے کہیں بڑا المیہ صرف ایک ماہ بعد، مئی 2022ء میں اُس وقت پیش آیا جب وزیراعظم شہباز شریف نے مستعفی ہو کر، اسمبلی تحلیل کر دینے اور نئے انتخابات کی طرف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 20 مئی 2022ء کی تاریخ طے ہو گئی۔ شہباز شریف کی تقریر تیار ہو گئی۔ لندن سے میاں نوازشریف نے جزوی ترامیم کے ساتھ اُس کی منظوری بھی دے دی۔ قطر میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے باعث اِس تاریخ کو دَس دِن آگے کر دیا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس کی باضابطہ اطلاع کر دی گئی۔ فوجی قیادت نے شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور اسد عمر کے ذریعے عمران خان کو اس انتہائی مثبت پیش رفت سے آگاہ کر دیا جو اُن دنوں پشاور میں بیٹھے ایک نئے لانگ مارچ کے لیے ڈنڈ پیل رہے تھے۔ پی ٹی آئی راہنما اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ اب لانگ مارچ کی ضرورت نہیں رہی۔ عمران خان نہ مانے۔ 22 مئی کی سہ پہر پریس کانفرنس کا پنڈال سجا لیا۔ جنرل باجوہ کے حکم پر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم نے شاہ محمود قریشی کو فون ملایا اور کہا … ’’خان صاحب سے کہیں کہ وہ لانگ مارچ کا اعلان نہ کریں۔ بے شک کہہ دیں کہ مجھے ایک ہفتے کے اندر اندر وزیراعظم کے استعفے، اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابات کی ضمانت دے دی گئی ہے۔‘‘ قریشی صاحب نے فون خان صاحب کو تھماتے ہوئے سرگوشی کی لیکن خان صاحب نے فون سننے سے انکار کرتے ہوئے 25 مئی کو اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ لانگ مارچ نامراد ٹھہرا تو یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ ’’چھ دن بعد پھر آئوں گا۔‘‘ چھ دِن کے اعلان کی منطق یہ تھی کہ اس دوران میں حکومت بہرحال مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر دے گی جسے میں اپنی فتح مبین سے تعبیر کرتے ہوئے انقلاب کا بیانیہ تراشوں گا۔ ادھر لندن میں بیٹھے میاں نوازشریف نے عمران خان کا رعونت شعار اعلانِ لشکر کشی سنا تو وزیراعظم کو فون ملاتے ہوئے کہا … ’’شہباز! اَب دھونس اور دھمکی میں آنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لو۔ ڈٹ کر معیادِ حکومت مکمل کرو، پوری لگن کے ساتھ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی کوشش کرو۔‘‘ اقتدار سے محرومی کے صرف دو ماہ بعد، طشتری میں سجا کر پیش کیے جانے والے انتخابات کی پیشکش خودسری کے آتشدان میں جھونک دی گئی۔
ایک سال بعد، اپریل / مئی 2023ء میں ایک اور دروازہ کھلا۔ عطا محمد بندیال، اعجازالاحسن اور منیب اختر پر مشتمل معروف ’’انصافی تکون‘‘ نے پہلے تو یہ فرمان جاری کیا کہ کچھ بھی ہو جائے، پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کو منعقد کرائے جائیں۔ پھر اسی مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھ کر اگلے عام انتخابات کی تاریخ طے کریں۔ حکومت نے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں، سید یوسف رضاگیلانی، سید نوید قمر، خواجہ سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ اور محترمہ کشور زہرا پر مشتمل ایک معتبر کمیٹی قائم کر دی۔ پی ٹی آئی نے شاہ محمود قریشی، فواد چودھری، علی ظفر اور اسد قیصر پر مشتمل کمیٹی بنا دی۔ مذاکرات شروع ہو گئے۔ تین ادوار، پارلیمنٹ ہائوس میں ہوئے اور بنیادی معاملات طے پا گئے۔ فریقین نے بہ صد مسرت اِس کا اعلان بھی کیا۔ دو انتہائی اہم اجلاس، میڈیا کی آنکھ سے دور، لاہور میں ہوئے۔ پہلا وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے گھر جس میں شاہ محمود قریشی، سید علی ظفر، فواد چودھری اور اسد عمر نے شرکت کی۔ دوسرا سید علی ظفر کے گھر۔ طے پا گیا کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی دِن ہوں گے۔ ایک ساتھ نگران حکومتیں قائم ہو جائیں گی۔ ستمبر کے اواخر میں انتخابات منعقد ہو جائیں گے۔ یہ بھی طے پا گیا کہ حتمی اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہو گا جہاں باضابطہ مفاہمتی فارمولے کا اعلان کیا جائے گا۔ جس دِن یہ اجلاس ہونا تھا، اُسی رات پی ٹی آئی ٹیم نے اطلاع دی … ’’ہم شرمندہ ہیں۔ خان نہیں مان رہا۔ وہ کہتا ہے پنجاب کے انتخابات ہر حال میں 14 مئی ہی کو ہوں۔‘‘ ایک بار پھر افہام و تفہیم کی مشق، مشقِ رائیگاں ٹھہری۔

اس وقت تو پی ٹی آئی کا کوئی نظم ہے نہ ڈھانچہ، فیصلہ سازی کا کوئی فورم نہ راہ و منزل کا تعین۔ درجنوں منہ ہیں اور بیسیوں زبانیں۔ رنگا رنگ نعرے ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں۔ بہتر ہو کہ سات رُکنی مذاکراتی کمیٹی پہلے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ نشستوں کا آغاز کرے۔ وہ قائل ہو جائیں تو پھر دوسری جماعتوں کا رُخ کریں۔ لیکن اِس کی کیا ضمانت ہے کہ عمران خان اُس دِن قائل ہو کر اگلے دِن بھی قائل رہیں گے؟۔

تبصرے بند ہیں.