عوامی تحریک بن سکتی ہے؟

21

تحریک انصاف سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں تک پہنچنے کی کاوشیں کرتی نظر آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے وکلا ہمہ وقت سیاسی محاذ کو گرم رکھنے میں مصروف رہتے ہیں ویسے زبان و بیان کی گرمی تو تحریک انصاف کا طرہ امتیاز رہا ہے دوسروں کو گالی گلوچ کرنا، جھوٹ بولنا اور پاؤں جوڑ کر بولنا اور ایسے بولنا کہ شک پیدا ہونے لگے کہ یہ سچ ہے، کوئی مثبت کام کرنے کے بجائے جھوٹ اور افتراق و تفریق کی ترویج ان کا خاصا رہا ہے۔ بانی تحریک کے جیل چلے جانے سے ایسی سرگرمیاں کم نہیں ہوئی ہیں کیونکہ تحریکی بھائی اس کام میں اس قدر تربیت یافتہ ہو چکے ہیں کہ اب معاملات آٹو پر چل رہے ہیں بانی کھلے ہوں یا بندھے ہوں، باہر ہوں یا اندر، اب تو ہر تحریکی انصافی اس قدر تربیت یافتہ ہو چکا ہے کہ وہ خودبخود ویسا ہی کرتا ہے اور ویسا ہی بولتا ہے جو تحریک انصاف کی گھٹی میں موجود ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نئے آنے والے بھی قلیل مدت میں ایسے تاک ہو جاتے ہیں کہ وہ نوآموز لگتے ہی نہیں ہیں یہ کلچر کا اثر ہوتا ہے کہ نئے بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ اسد عمر، شبلی فراز اور ایسے ہی کلچرڈ قسم کے لوگ بھی بالآخر دشنام طرازی کے ماہر بن چکے ہیں ماحول نے انہیں اپنے ہی رنگ میں رنگ کر چھوڑا ہے۔

تحریک انصاف، مولانا فضل الرحمن کے ساتھ سلسلہ جنبانی جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مولانا کے ورکر، صرف ورکر ہی نہیں نظریاتی کارکن ہیں، دینی جذبے سے سرشار مدارس کے باقاعدہ تربیت یافتہ مولانا کی ایک آواز پر متحرک ہونے اور کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہونے والے ہیں وہ اس قسم کے عملی مظاہرے پہلے بھی کر چکے ہیں مقتدرہ قوتوں کو بھی مولانا کی اس قوت کا اندازہ ہے عمران خان بھی اسی قوت کو ساتھ ملانے یا اس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔

نظریاتی اور فکری طور پر صرف مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی بھی ایک فیصلے پر نظر آتے ہیں یہ سب لوگ الیکشن 2024 کو نہیں مانتے، مقتدرہ کی مداخلت سے قائم شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو پی ڈی ایم ٹو کہتے ہیں ویسے شہباز شریف کی پی ڈی ایم اتحادی حکومت نے 16 مہینوں کے دوران، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے نام پر جو کچھ کیا وہ قابل ستائش نہیں ہے عوام کو معاشی مشکلات کا شکار کرنے کے بعد ”اللہ کا شکر ہے“ کا نعرہ بلند کرنا اور کہنا کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا ہے۔ اس وقت عمومی تاثر یہی تھا کہ ملک کے بارے میں تو پتا نہیں کہ وہ ڈیفالٹ سے بچا ہے یا نہیں لیکن عوام کے بارے میں یہ یقینی ہے کہ وہ ڈیفالٹ کر گئے ہیں ملک کے ڈیفالٹ سے بچانے کے نام پر عوام پر ٹیکسوں کا جو بوجھ ڈالا گیا اس سے ن لیگ اور اتحادیوں کے بارے میں عوامی تاثر میں ابتری پیدا ہوئی۔ یہ اسی ابتری کا نتیجہ ہے کہ نوازشریف چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر فائز نہیں ہو سکے۔ ن لیگ سے عوامی نفرت کا اظہار، تحریک انصاف کو اکثریت ملنے کی صورت میں کیا گیا۔ فروری 2024 کے انتخابات کے وقت تحریک انصاف 9 مئی کے سانحے کے زیراثر سہمی بیٹھی تھی۔ عمران خان اور دیگر بڑے قائدین یا جیلوں میں تھے یا زیرزمین جا چکے تھے تحریک انصاف سے ان کا پارٹی نشان بھی چھینا جا چکا تھا اس کے باوجود انصافی ووٹر جوق در جوق نکلے، پولنگ سٹیشنوں تک پہنچے اور انصافی امیدواروں کو چن چن کر جتوایا۔ لیکن مخصوص نشستیں نہ ملنے کے باعث تحریک انصاف حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں نہ آ سکی۔

اس دن سے ایک سیاسی کشمکش کا آغاز ہوا۔ جماعت اسلامی، تحریک انصاف، مولانا فضل الرحمن اور دیگر کئی سیاسی جماعتوں اور شخصیات نے ان انتخابات کی شفافیت اور ن لیگی حکومت کی نمائندہ حیثیت پر سوال اٹھانا شروع کر دیئے تھے گزرے 3/4 مہینوں کے دوران حکومت نے آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عوام کے ساتھ جو کچھ کر دیا ہے اس نے حکومت کی قبولیت کا گراف پاتال تک پہنچا دیا ہے حکومت کی ناکامی اور نامرادی کے بارے میں متفقہ رائے قائم ہوتی چلی گئی ہے اس میں ن لیگی، انصافی، جماعتیہ، پپلیا وغیرہ کی تفریق نہیں ہے۔ حکومتی اقدامات نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بلاتفریق شدید متاثر کیا ہے طبقہ اشرافیہ بشمول حکمران و مقتدر طبقات کے علاوہ ہر طبقہ برباد نظر آ رہا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے اور بڑھاتے ہی چلے جانے کی پالیسی نے عمومی کاروبار حیات پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں معاشی نمو میں اضافے کے بغیر، صنعتی پھیلاؤ کے بغیر، سرمایہ کاری میں اضافے کے بغیر، روزگار کے مواقع بڑھائے بغیر ٹیکسوں میں اضافہ احمقانہ اقدام نہیں تو اور کیا ہے حکومت نے ایسے اقدامات اٹھاتے وقت کسی منظم حکمت عملی اور اس کے مستقبل میں اثرات کا بھی ذکر نہیں کیا ہے ذکر کیا ہے تو قرضوں کے بڑھے ہوئے اور بڑھتے ہوئے حجم کا، جس کے لئے ٹیکسوں کی وصولیوں میں اضافے کی ضرورت کا ذکر کیا ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ عوام کا خون نچوڑنے کے بعد قرضوں کا بوجھ کم بھی ہو گا۔ قرضوں کا بوجھ ہر دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ حکومت کے پاس کوئی قلیل مدتی یا طویل مدتی پلان ہی نہیں ہے کہ قرضوں کا بوجھ کس طرح کم کرنا ہے وہ تو ”ڈے بائی ڈے“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ آج کا دن خیرخیریت سے گزر جائے کل کس نے دیکھی ہے۔ 9 مئی نے عمران خان کی پارٹی کو نیم مردہ کر دیا تھا لیکن حکمرانوں کی پالیسیوں نے اسے درگورنہیں ہونے دیا۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے اسے ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے وہ جیل میں ڈٹا ہوا ہے، للکار رہا ہے، حکومت پر تنقید کے نشتر چلا رہا ہے۔ عمران خان ایک سزایافتہ مجرم ہے لیکن پارٹی چلا رہا ہے۔ وہ ریاست کا ملزم ہے لیکن للکار رہا ہے اسے حقیقی معنوں میں کیفرکردار تک پہنچایا ہی نہیں گیا اور نہ ہی اسے حتمی انجام تک پہنچانے کی کوئی پالیسی نظر آ رہی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی ناکامی، عمران خان اور ہمنواؤں کو ایک بار پھر اقتدار کے قریب لا رہی ہے اور اگر صورت حال ایسے ہی رہی تو عوام اٹھ بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.