تبدیلی کا پیغام یہ ہے

22

رواں ماہ چارجولائی کو منعقد ہونے والے برطانوی انتخابات ایسی تبدیلی کا پیغام لیکر آئے جس سے کنزرویٹو کا چودہ سالہ اقتدار ختم ہو گیا ہے لیبر پارٹی نے کُل 650 میں سے 412ن شستیں جیت کر ایسی انتخابی فتح حاصل کی ہے کہ کسی جماعت کی محتاج نہیں رہی بلکہ بلا شرکت غیرے حکومت تشکیل دے سکتی ہے کیونکہ حکومت سازی کے لیے 326نشستیں درکار ہوتی ہیں گزشتہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو 202 نشستیں ہی لے سکی تھی حالیہ عام انتخابات میں پانچ کروڑ سے زائد ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا مزید خاص بات یہ کہ اراکین تو ایک طرف 9وزراء بھی دوبارہ منتخب ہونے میں ناکام رہے اِس طرح انھوں نے اپنی ہی جماعت کا 1997 کا وہ ریکارڈ توڑ دیا جب سات وزرا شکست کھا گئے گزشتہ الیکشن سے موجودہ انتخاب میں کنزرویٹو کو 244 نشستیں کم ملی ہیں ویسے توہونے والے سروے لیبر پارٹی کی جیت کی طرف اِشارہ کر رہے تھے اسی لیے جیت زیادہ حیران کُن نہیں موجودہ تبدیلی کا پیغام ہے کہ برطانیہ کے لوگ مضبوط اور مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔

شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رشی سونک نے وزیرِ اعظم کا منصب چھوڑنے، عوام سے معافی طلب کرتے ہوئے جماعتی عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے جبکہ شاہ چارلس سوم نے لیبرپارٹی کی شاندار فتح پر ملاقات کے دوران کیئرسٹارمرکو وزیرِ اعظم مقرر کرتے ہوئے انھیں حکومت بنانے کی دعوت دی جسے قبول کر لیا گیا انتخابی نتائج میں برطانوی عوام کالیبر پارٹی کو بھاری اکثریت سے ووٹ دینا ظاہر کرتا ہے کہ لوگ تبدیلی اور سیاسی استحکام چاہتے ہیں آئے روز حکومتی ٹوٹ پھوٹ کو ناپسند کرتے ہیں اب نئے وزیرِ اعظم  نے نہ صرف اپنے اقدامات سے ثابت کرنا ہے کہ عوامی فیصلہ درست ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ کنزرویٹو سے زیادہ عوامی مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر وہ بھاری اکثریت کے باوجودٹیکس کم رکھنے اورامیگریشن جیسے بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو امکان ہے کہ عوام کوئی نیا تجربہ کرنے کاسوچنے لگیں تبدیلی کا پیغام یہی ہے کہ عوامی مزاج کے منافی پالیسیوں سے پرہیز کیا جائے۔

برطانوی ووٹروں نے لبیرپارٹی کو فیصلہ کُن اکثریت دیکر اِس خواہش کا اظہار تو کردیا ہے کہ وہ ایک ایسی مضبوط حکومت کے خواہشمند ہیں جو ملک کو درپیش داخلی اور خارجی مسائل سے نکالنے کے لیے دلیرانہ فیصلے کرے مگر ماہرین کو ووٹ کاسٹ کرنے میں آنے والی گراوٹ کا پہلو کھٹک رہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اِس بار ٹرن آؤٹ 59.9 رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جوگزشتہ دو دہائیوں میں سب سے کم ترہے حالانکہ خراب حالات کے باوجود 2019 میں ووٹ کاسٹ کرنے کی شرح 67.3 فیصد رہی کمی کے اسباب معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ووٹروں کو راغب کرنے کے ساتھ ووٹ کاسٹ کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی سیاسی جماعتوں نے بروقت کوشش نہ کی تو یہ گراوٹ مزید بڑھ سکتی ہے کچھ کا خیال ہے کہ ٹرن آؤٹ کم رہنے کی ایک اہم وجہ کنزرویٹو کے ووٹروں کی مایوسی ہے جس کی وجہ سے انھوں نے ووٹ ڈالنے کے عمل سے پہلو تہی کی شاید اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ لیبرپارٹی جیتی نہیں بلکہ کنزرویٹو ہاری ہے ویسے تو سیاستدان کبھی اپنی شکست خوشدلی سے تسلیم نہیں کرتے مگر برطانوی معاشرہ اِس حوالے سے فراخ دل ہے فتح مندہونے والے کو ہارنے والا بخوشی مبارکباد دیتا اور شکست تسلیم کرتا ہے یہ خوبی برطانیہ کو دیگر جمہوری ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔

بڑی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ یا اندرونی رسہ کشی انہونی نہیں لیکن کنزرویٹونے بطور جماعت اقتدار کے دوران نہ صرف بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ٹیکس اور امیگریشن جیسے مسائل حل کرنے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات میں ناکام اور خارجی امور میں عوامی پسندکے منانی فیصلے کیے بلکہ یہ جماعت بدترین اندرونی رسہ کشی کا بھی شکار رہی جس سے ووٹر بدظن ہوتا گیا اب بھی قرین قیاس یہی ہے کہ موجودہ حکومت خارجی محاذ پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائے گی روس کی طرف سے کسی قسم کا ابہام رکھے بغیر کہہ دیا گیا ہے کہ لیبرپارٹی کی جیت کے بعد بھی برطانیہ دشمن ملک ہی رہے گا مگر جارح قوتوں کو اسلحہ سپلائی اور پھر اسرائیل میں اسلحہ سے بھرے جہاز کے اندر تصویر بنوانے جیسا عمل شایدنہ دہرایا جائے کیونکہ غزہ پر حملوں کے دوران اسرائیل بچوں، بوڑھوں اورخواتین میں تمیز کیے بغیر مار رہا ہے اِس پرملک میں بڑے بڑے مظاہرے بھی ہوئے میئر لندن صادق خان کی دوبارہ جیت کی ایک وجہ مسلم ہونے کے ساتھ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت ہے لیکن کنزرویٹو قیادت عوامی غم وغصے کا ادراک کرنے میں ناکام رہی اور اب شکست کے لگے زخم سہلا رہی ہے چاہے نئے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمرخارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہ لائیں البتہ یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ رشی سوناک کی طرح جنونی انداز اختیار نہیں کریں گے۔
کنزرویٹوکی شکست کے اسباب جاننا کوئی مشکل نہیں اِس جماعت کو اندرونی رسہ کشی لے بیٹھی ہے قیادت کی رسہ کشی کو ووٹروں نے اِس حد تک ناپسند کیا کہ اُنچاس روز وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز رہنے والی ملک کی معروف سیاستدان لزٹرس کو لیبرپارٹی کے ٹیری جیرمی نے باآسانی ہرادیا بظاہر رشی سوناک اپنی نشست بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن یہ جیت بھی کب تک برقرار رہتی ہے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا جب تک کنزرویٹو اپنی اندرونی رسہ کشی اور خلفشار پر قابو نہیں پانی تب تک اِس جماعت کا بدظن ووٹر راضی نہیں ہو سکتا اور نہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

رشی سوناک کی امیگریشن پالیسیاں بھی جماعت کو ڈبونے کا باعث بنیں بھارت جیسے ممالک سے ترجیحی نوازشات لیکن ضرورت مند مہاجرین سے ناروا سلوک نا پسند کیا گیا انتخاب سے چند روز قبل محض تارکینِ وطن کے مخالفین کی خوشنودی کے لیے رشی سوناک نے سیاسی پناہ کے خواہشمند کچھ افراد کو روانڈا بھیجنے کا وعدہ کیا اور فنڈز بھی جاری کر دیے اِس فیصلے پر ملک بھر میں شدید تنقیدکی گئی لیکن یہ کہہ کر فیصلہ بدلنے سے انکار کر دیا گیا کہ ایسے فیصلوں سے ہی لوگوں کو چھوٹی کشتیوں سے انگلش چینل عبور کرنے سے روکا جا سکتا ہے لیبرپارٹی نے برقت عوامی مزاج بھانپا اور اقتدار ملنے کی صورت میں یہ منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا علاوہ ازیں کشمیر اور غزہ مسائل پر سفاکانہ رویہ مزید نفرت کا موجب بنا اسی بناپر قبل ازوقت انتخابات کرانے کی چال بھی کامیاب نہ ہو سکی اور کنزرویٹو کے چودہ سالہ اقتدارکا سورج غروب ہو گیا آٹھ برسوں میں پانچ وزرائے اعظم کی تبدیلی پر ایک طرف اگر ووٹروں کو تشویش تھی تو عالمی تناؤ کے دوران برطانیہ کا جارح قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو ملکی مفادکے لیے خطرات بڑھانے کا باعث سمجھا گیا جس سے ووٹروں میں مزید پانچ برس ایسی جماعت کا اقتدار برداشت نہ کرنے کی سوچ پختہ ہوئی جو لیبر پارٹی کوبھاری اکثریت دلانے کا موجب بن گئی۔

تبصرے بند ہیں.