بربادی گلستان

23

ترک کہاوت ہے کہ جب ایک جوکر محل میں داخل ہوتا ہے تو وہ بادشاہ نہیں بنتا لیکن پورا محل سرکس میں تبدیل ہو جاتا ہے ملک خداد پاکستان کے اقتدار کی غلام گردشوں کی بھی ان دنوں کچھ یہی حالت ہے جنہیں دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ

بربادی گلستان کو تو اک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

ویسے یہ الو ہے بڑا ذہین اور شاطر اقتدار اور وسائل کے تمام سوتوں کا رخ اس نے اپنی جانب کر رکھا ہے رہے جنگل کے عام باسی تو وہ اس الو کی شاطرانہ چالوں اور کمینگی پر اس کا ’سیاپہ‘ پیٹ رہے ہیں لیکن حرام ہے کہ اقتدار کے ایوانوں پر بیٹھا ہوا یہ الو اس سے ذرا بھی متاثر ہوا ہو یا اس کے کان پر کوئی جوں رینگی ہو وہ تو بس یہی کہے جا رہا ہے کہ ”مجھے اور دو، مجھے اور دو، مجھے اور دو“۔ ایسے میں پاکستان کی عوام مکمل طور پر تہی دامن ہو چکے ہیں۔ انہیں ہر لحظہ بس یہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پا لیں۔

کوئی امید بر نہیں آئی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

عوام میں موجود شدید اضطراب، پریشانی اور نظام سے نفرت صاف نظر آرہی ہے۔ ہر گھر میں بھوک نے ڈیرے ڈال لیے ہیں مہنگی بجلی اور مہنگی گیس، ”الامان الحفیظ، الامان الحفیظ“۔ بل اتارنے کے لیے کوئی اپنی چوڑیاں بیچ رہا ہے تو کوئی اپنی موٹر سائیکل کسی کا بل اس کی آمدن سے بھی زیادہ ہے جس پر وہ سر پکڑے بیٹھا ہے سوچ رہا ہے کہ وہ سارا مہینہ کھائے کیا اور بل کیسے بھرے۔ نہ جانے کیوں حکمران اندھے، گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں تباہی نوشتہ دیوار ہے جبکہ نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہے۔

پاکستان کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے عوامی احتجاجوں کا سلسلہ چل نکلا ہے جو بہت جلد ایک بڑی تحریک میں بدلتے نظر آرہے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے کوتاہ اندیش حکمرانوں نے اپنی ہوس اور ظالمانہ پالیسیوں کے باعث ملک کو ایک بڑے انتشار کی طرف دھکیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایسے میں یہ تماشہ بھی خوب ہے کہ وزیراعظم ایک جانب یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاکستان کے لیے یہ آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہوگا اور دوسرے ہی لمحے وہ عوام کو یہ نوید سنا دیتے ہیں کہ اگر معاشی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو آئی ایم ایف سے جلد جان چھوٹتی نظر نہیں آتی۔ یہ مشکل فیصلے بھی خوب ہیں کہ جن کا سارا نزلہ غریب اور سوختہ بال عوام پر ہی گر رہا ہے۔ ملک کی دو فیصد اشرافیہ ایسے حالات میں بھی خوب مزے میں ہے۔ کوئی سرکاری افسر لاکھوں روپے کے نئے موبائیل لے رہا ہے تو کوئی لاہور کے مہنگے ترین علاقہ ڈیفنس میں عوامی خزانے پر شب خون مارتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی رہائش گاہیں تعمیر کروا رہا ہے۔ عوامی نمائندے بھی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے بعد خوش و خرم نظر آتے ہیں۔ ججز، جرنیلوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور اعلیٰ پولیس افسران کی پہلے ہی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہیں۔

ایسے دگرگوں حالات میں بعض وفاقی وزرا بھی مگر مچھ کے آنسو رونے میں کسی سے کم نہں۔ انہوں نے ایک جانب بجٹ میں لگائے گئے بھاری ٹیکسز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب اسے حکومت کی مجبوری قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور حکومت کی دیگر اتحادی جماعتیں بھی اس پر کھل کر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ تاہم یہ بھی اقتدار و اختیار کے مزے لوٹنے میں کس سے پیچھے نہیں۔

اس حوالے سے ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری شعبوں کے علاوہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ناخوش ہے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس بجٹ نے پہلے سے دباؤ کا شکار ملکی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔

کچھ عرصے میں مہنگائی میں کمی کے باعث حکومت سے متعلق نچلی سطح پر جو ایک مثبت تاثر پیدا ہوا تھا اسے بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ ایسے میں مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل ٹیکس گزاروں پر ٹیکس کے بوجھ میں مزید اضافہ کرنے کے باوجود بجٹ میں خاطر خواہ معاشی اصلاحات اور سمت کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس بجٹ میں سیاسی طاقت، منظم لابنگ یا حکومت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہ رکھنے والے طبقات کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے دور رس منفی معاشی اثرات کا خاطر خواہ تجزیہ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنے کی بجائے رجسٹرڈ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار طبقے کو ایک بار پھر تختہ مشق بنا کر معیشت کی بنیادیں مزید کمزور کر دی ہیں۔

ایسے میں یہ امر غور طلب ہے کہ مہنگائی کو کم کرنا اور عوام کو بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں سے نجات دلانا حکومت کے کسی ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔ حکومت کے ایجنڈے میں کیا ہے اسکا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے کابینہ سے انتہائی عجلت میں ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بڑی عجلت میں کال ٹریس کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ یقینا یہ فیصلہ ان عدالتی نوٹسز کی پس منظر میں لیا گیا ہے جو اہم عدالتی سرکاری و سیاسی شخصیات کی تسلسل سے سامنے آنے والی آڈیو اور وڈیو کالز کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما عمر ایوب کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کو یہ اختیار دینے والے کل کو خود بھی اسکی زد میں آئیں گے اور پھر چاہے آصف علی زرداری ہوں یا پھر شہباز شریف یا مریم نواز سب کو جیل میں جانا پڑے گا۔ جہاں تک تعلق ہے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا تو انہیں بھی عوام کی تکالیف سے زیادہ اس بات کی فکر پڑی ہے کہ عدالتیں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ قوانین کو لاگو ہونے دے۔

تبصرے بند ہیں.