وزیر اعظم صاحب، عوام کو بجلی بلوں سے نجات دلائیں!!

28

پچھلے کئی سال سے مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کی حالت واقعتا قابل رحم ہو چکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سالانہ بجٹ پیش کرتی ہیں تو اس میں بھی عوام کے لئے کوئی خوش خبری نہیں ہوتی۔ الٹا ان پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ا س کے علاوہ وقتاً فوقتا ًمنی بجٹ بھی پیش ہوتے رہتے ہیں۔ یہ منی بجٹ بھی عوام کے کاندھوں پر دھرے بوجھ میں مزید اضافے کا باعث بنتے ہیں۔اگرچہ کبھی کبھار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو جاتی ہے، تاہم زیادہ تر پٹرول، ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔سوئی گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بھی بڑھتی رہتی ہیں۔ بجلی کے بل تو خیر عوام کی چیخیں نکال کر رکھ دیتے ہیں۔ جب بھی حکومت کسی نہ کسی جواز پر بجلی کے یونٹ کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے، تو عوام کی زندگی کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔

اب ایک مرتبہ پھر شہباز حکومت نے بجلی یونٹ کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔فکسڈ چارجزکی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔اخباری خبروں کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی۔ ایم۔ایف کی ہدایت پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے پر عوام بری طرح بلبلا اٹھے ہیں۔ جس سے پوچھیں، وہ بجلی کے بلوں کی وجہ سے پریشان ہے۔ ہفتہ دس دن پہلے ٹیلی ویژن کے سینئر آرٹسٹ راشد محمود کا احتجاجی ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر زیر گردش تھا۔ راشد محمود بجلی کے بل پر سراپا احتجاج تھے۔ وہ اس قدر دکھی اور بے بس تھے کہ اپنی موت کی دعا مانگ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک غلط ملک میں پیدا ہو گئے ہیں۔ گزشتہ کسی کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہم ہر روز کئی ایسے افراد سے ملتے ہیں جو بجلی کے بلوں کی وجہ سے حکومت کو کوسنے دیتے ہیں۔ اپنی زندگی سے تنگ ہیں۔ اس ملک سے بھاگنے کو تیار بیٹھے ہیں۔یقین جانئے، بجلی کی قیمتیں عوام کی برداشت اور قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ عوام کی اکثریت اس بات پر پریشان ہے کہ وہ اپنی ماہانہ آمدن سے کھانے پینے اور دیگر اخراجات پورے کریں یا پھر بجلی کے بل بھریں۔ آپ اپنے دفتر میں کسی سے بات کریں۔ اپنے خاندان کے افراد سے پوچھیں۔ دوست احباب سے گفتگو کریں۔ ہر ایک بجلی کے بلوں سے عاجز ہے۔یہاں تک کہ آپ کے گھروں میں کام کرنے والے ملازم بھی یہ رونا روتے ہیں کہ وہ اپنی چند ہزار روپے کی آمدن سے ہزاروں روپے بجلی کے بل کس طرح ادا کریں۔ اس طبقے کی بات سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعتا غربت کی چکی میں پس رہے اس طبقے پر، بجلی کے بھاری بھرکم بل ظلم ہیں۔ مڈل کلاس سفید پوش طبقہ بھی بجلی کے بلوں سے بے حد پریشان ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ بجلی بلوں اور واپڈا کے نام پر لوگ ہراساں ہو جاتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے پاس اس صورتحال کے حوالے سے کئی دلائل ہوں گے۔وزیر اعظم شہباز شریف کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں یہ صورتحال ورثے میں ملی ہے۔ وہ اس ضمن میں یہ مثال بھی دے سکتے ہیں کہ کس طرح 2013 میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے چین کی مدد سے بجلی کے کارخانے لگائے تھے۔دن رات کی محنت کے بعد بجلی بحران پر قابو پایا تھا۔ عوام کے لئے مناسب قیمت پر بجلی فراہمی کا انتظام کیا تھا۔ اتنی بجلی پیدا کی تھی جتنی ملک میں پچھلے ساٹھ سال میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ حکومت یہ عذر بھی پیش کر سکتی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے بعد آنے والی حکومت نے بجلی پیدا کرنے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ یہ جواز بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہمیں معیشت بدترین حالت میں ملی ہے اوراب آئی۔ ایم۔ ایف سے قرض کی نئی قسط لینے کے لئے ہم اس کی ہدایات اور احکامات ماننے پر مجبور ہیں۔ حکومت کوئی بھی دلیل یا جوا ز تراش لے، عوام کو کسی جواز، کسی دلیل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عوام کو فقط اس بات سے غرض ہے کہ جو پارٹیاں بر سر اقتدار ہیں، وہ انہیں ریلیف پہنچانے کا اہتمام کریں۔ عوام کا موقف ہے کہ حکومت ماضی کی حکومت یا حکومتوں کی ناقص کارکردگی کا رونا رونے کے بجائے اور ان پر مہنگائی کا ملبہ ڈالنے کے بجائے، انہیں مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائے۔

ارباب اختیار کیلئے اس حقیقت کی تفہیم لازم ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت کو اپنی روز مرہ زندگی سے غرض ہے۔ ایک غریب آدمی جس کی کمر مہنگائی اور بجلی کے بلوں نے توڑ رکھی ہے اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملک میں کس سیاسی جماعت کی حکومت ہے۔ کس سیاسی مقدمے میں کس سیاسی رہنما کو سزا ہوتی ہے۔ یا کس سیاست دان کو بری کردیا جاتا ہے۔ انہیں اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کی کاوشوں سے معاشی اعداد و شمار میں بہتری آئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ نے کوئی نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یا کس کس ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مہنگائی کے صراط سے گزرنے والے غریب کو یہ خبر بھی کوئی خوشی نہیں دیتی کہ برسوں سے رکا ہوا سی۔ پیک پروجیکٹ ایک مرتبہ پھر شروع ہوا چاہتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ عوام صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت انہیں مہنگائی سے نجات دلائے۔ بجلی، گیس، پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں کمی لائے۔ تاکہ انہیں سکھ کا سانس لینا نصیب ہو سکے۔

المیہ یہ ہے کہ رنگ برنگے سیاسی تجربات کی ناکامی کا بوجھ پاکستان کے عوام کو ڈھونا پڑتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ 2007 تک جب نواز شریف کی حکومت تھی ملکی حالات کافی بہتر تھے۔ ملک ترقی کی سمت میں گامزن تھا۔ نواز شریف کو نکالنے کے لئے جو گندا کھیل کھیلا گیا، عمران خان پروجیکٹ کو لانچ کیا گیا۔ اس سب نے قومی معیشت کا برکس نکال کر رکھ دیا۔ مہنگائی اس قدر تیز رفتاری سے بڑھی کہ عوام کی جان نکال کر لے گئی۔ اس زمانے میں تحریک انصاف کے حامی بھی عمران خان حکومت کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔ اس جماعت سے متنفر ہو گئے تھے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت قائم ہوئی تو یہ حکومت بھی مہنگائی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب بھی شہباز حکومت معیشت کی بہتری کے لئے جتنے مرضی اچھے اقدام کر لے۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ مگر مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں اب مسلم لیگ (ن) کے حامی بھی حکومت سے تنگ ہیں۔ مہنگائی کاذ مہ دار اس حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ پہلے کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔ آپ ملک کی معیشت درست کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن مہنگائی کی ابتر صورتحال میں آپ کے ووٹر، آپ کو چاہنے والے، آپ کے حامی آپ سے مایوس ہو رہے ہیں۔لازم ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ(ن) عوام کو مہنگائی کی اس صورتحال سے نجات دلائیں۔

تبصرے بند ہیں.