شریف فیملی کا خطرناک کھیل

171

شریف فیملی نے ایک بار پھر وہی خطرناک کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے جس کی وہ دو بار بڑی قیمت ادا کرچکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اسے نواز شریف کی کپتانی میں کھیلا جا رہا تھا اور اب شہباز شریف نے اسے وہیں سے دوبارہ شروع کر دیا ہے جہاں نواز شریف نے چھوڑا تھا، پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ، پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ۔ یہ وہی کھیل ہے جس میں نوے کی دہائی میں معاشی ترقی کے لئے نیشنلائزیشن کی پالیسی کو ریورس گیئر لگایا گیا تھا، ائیرپورٹس اور موٹرویز کی تعمیر کی کا آغاز ہوا تھا، مِنی پاکستان یعنی کراچی میں امن قائم کیا گیا تھا جہاں نو گو ایریاز تھے اور ہرروزبوری بند لاشیں ملتی تھیں، بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لاتے ہوئے معاشی ترقی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور سب سے بڑھ کر ایٹمی دھماکے کئے گئے تھے۔ نواز شریف نے بارہ اکتوبر 1999ء کو اس کی قیمت ادا کی تھی مگر مشرف کے مارشل لا کے بعد ایک مرتبہ پھر آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا تھا اور لوڈ شیڈنگ کا بھی۔ یہ درست ہے کہ وہ معاہدے مہنگے تھے مگر کیا یہ بات نظرانداز کی جا سکتی ہے کہ اس وقت کوئی بھی امن اور توانائی کے بحرانوں کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے جہاں اپنے منافعے کو معاہدوں کے ذریعے یقینی بنایا تھا وہاں انہوں نے بہرحال سرمایہ کاری کر کے ایک مہربانی بھی کی تھی۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ مہنگی بجلی، بجلی نہ ہونے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ مجھے آج سے دس برس پہلے ایوان وزیراعظم کی وہ بریفنگ یاد ہے جس میں بتایا گیا تھا پہلے مرحلے میں سولہ، سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا اور دوسرے مرحلے میں مہنگی بجلی سے سستی بجلی سے ری پلیس کیا جائے گا۔ یہ وہی بریفنگ تھی جس میں ملک بھر سے چالیس پچاس صحافی مدعو تھے اور ایک خاتون اینکر رو پڑی تھی۔ یہ تو ہوا کہ 2018 ء میں بجلی کی کمی کو پورا کر لیا گیا مگر اس کے ساتھ ہی نواز شریف کو پھر سزا دے دی گئی۔اس مرتبہ سزا لوڈ شیدنگ ختم کرنے اور دہشت گردی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ سی پیک کی تھی۔
شریف فیملی کا یہ کھیل ایک مرتبہ پھر خطرناک ہو گیا ہے۔ شہباز شریف نے چین کے دورے میں نہ صرف عمرانی پراجیکٹ کے روکے ہوئے سی پیک ون کو بحال کروا لیا ہے بلکہ چینی صدر کے ملاقات میں سی پیک ٹو کی بھی یقین دہانی حاصل کر لی ہے۔ اسی دوران ایران کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا اور میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ دورہ ایران سے زیادہ پاکستان کی قیادت کی طرف سے ہمت اور جرأت کا مظاہرہ ہے۔ پاکستان نے ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے کو بھی آگے بڑھانے کی بات کی۔ شہباز شریف اس کے بعد روس بھی پہنچ گئے او رشنگھائی کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ مجھے شہباز شریف کی تقریر سن کر حیرت ہوئی کہ جہاں دنیا بھر کے طاقتور ترین اور امیر ترین ممالک غزہ کے معاملے پر منافقانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہاں ہمارا وزیراعظم ڈٹ کر مظلوموں کی حمایت میں بول رہا ہے۔ انہوں نے چین اور ایران کے بعد روس سمیت دیگر ممالک سے بھی بارٹر سسٹم پرتجارت کے لئے بات کی اور یہ بھی کہا کہ خطے کے ممالک اپنی اپنی کرنسی میں تجارت کریں۔ انہوں نے تاجکستان، افغانستان اور چین کی راہداری میں شرکت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ شہباز شریف، آصف زرداری کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کی معاونت سے تیزی سے ملکی ترقی اور خوشحالی کی پالیسی کو آگے بڑھا رہے ہیں مگر سب جانتے ہیں کہ یہ کھیل دنیا کے ٹھیکیداروں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں، بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے نواز شریف کی پالیسیاں ناقابل قبول تھیں۔ پاکستان نہ صرف چین اور روس کی طرف جا رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ڈالر بھی اپنی گرفت کھوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔مجھے لگتاہے کہ شریف فیملی نے وہ غزل سن لی ہے کہ ’ہم نہ باز آئیں گے محبت سے، جان جائے گی اور کیا ہوگا‘۔ اللہ تعالیٰ ان سمیت ہمارے تمام محب وطن سیاستدانوں کو محفوظ رکھے، آمین۔
میں جب یہ کہتا ہوں کہ شریف فیملی کا یہ کھیل خطرناک ہو گیا ہے توا س کی میرے پاس ’کاونٹر ایویڈنس‘ بھی موجود ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ امریکا کا ایوان نمائندگان جودنیا کی معلوم تاریخ میں بچوں کی سب سے زیادہ شہاد ت، اقوام متحدہ کے ریلیف کیمپوں پر بموں کے حملوں، سکولوں اور ہسپتالوں تک کی تباہی پر اکٹھا نہیں ہوا وہ سارے کا سارا پاکستان کے انتخابات پرتشویش ظاہر کرنے کے لئے اکٹھا ہو گیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی کٹھ پتلی نے درست کہا کہ اسرائیل بھی آج تک امریکی ایوان نمائندگان سے وہ قرارداد منظور نہیں کروا سکا جو اس کی لابنگ فرموں نے منظور کروا لی ہے اوراس کے اگلے مرحلے میں سینیٹ بھی ایسی ہی قرارداد منظور کرنے جا رہا ہے۔ یہ وہی میر جعفر ہے جس نے سی پیک کے پہلے مرحلے کو آغاز میں ہی اس وقت روکا تھا، جب چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کر کے اس کا افتتاح کرنا تھا،اور پھر اقتدارکے ایوانوں میں پہنچ کر اسے سردخانے میں ڈال دیا تھا۔ تین سے چار سال تک سی پیک پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی تھی حالانکہ اگر سی پیک کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہوچکا ہوتا تو پاکستان صرف راہداری سے بارہ ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہوتا جو ہمارے آئی ایم ایف کے نئے ممکنہ پیکج سے ڈبل ہوتے اور یہ پیکج بھی پاکستان کو تین برس میں ملنا ہے۔ یہ سب محض اتفاق نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کا جنرل سیکرٹری تک ایک ورکنگ گروپ کی نان بائنڈنگ ریزولیوشن کے حق میں بات کر رہا ہے اور اسرائیلی مندوب جنرل اسمبلی میں پاکستان پر تشویش کا اظہا ر کر رہا ہے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ ماہ رنگ بلوچ ٹائپ چیزیں بھی اسی سازش کی پیداوار ہیں اور عزم استحکام کی مخالفت بھی اسی لئے ہے کہ پاکستان ایک سافٹ سٹیٹ رہے، یہاں سے نہ سمگلنگ جیسے جرائم ختم ہوں اور نہ ہی دہشت گردی، یہ سب ایک ہی ٹولہ متحرک ہے۔
شہبازشریف نے نواز شریف والا قومی تعمیر و ترقی کا خطرناک کھیل شروع تو کر لیا ہے مگر نواز شریف کواس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑکے ذریعے عبرت کا نشان بنایا گیا تھا نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ سید عاصم منیر، قمرجاوید باجوہ اورقاضی فائز عیسی، ثاقب نثار نہیں بنیں گے۔اس مرتبہ شریف فیملی نوے کی دہائی میں شروع کئے ہوئے کھیل میں ضرور کامیاب ہو گی۔ انہیں بار بار رِنگ سے باہر دھکیلا گیا ہے مگر وہ بار بار واپس آئے ہیں۔ میر اگمان ہے کہ اس مرتبہ کی واپسی اللہ رب العزت کی مدد سے گیم چینجر ثابت ہو گی مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ شریف فیملی نے ایک مرتبہ پھراور زیادہ تیزی کے ساتھ اسی خطرناک کھیل کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے، اللہ خیر کرے۔

تبصرے بند ہیں.