5 جولائی 1977

27

5جولائی 1977 جب پاکستان کی پہلی منتخب حکومت پر شب خون مارا گیا اور وطن عزیز پر ایک طویل آمریت مسلط کر دی گئی۔ آج اس واقعہ کو گذرے 47سال پورے ہو چکے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جنرل ضیاء کے سیاہ دور آمریت میں پاکستان کے عوام اور خاص طور پر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جان دے کر قربانی کی جو داستان رقم کی تھی ملک و قوم کو اس کا صلہ نہیں مل سکا بلکہ عجیب بات یہ ہوئی ہے کہ آمرانہ قوتیں آج ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء سے پہلے ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ اس ملک میں امن و امان کی مثالی صورت حال تھی۔ملک کے اندرکہیں دہشت گردی تو دور کی بات ہے فرقہ پرستی کا بھی نام نہیں تھا۔5جولائی 1977 کو جنرل ضیاء کی شکل میں ملک پر جو بد ترین آمریت کا دور شروع ہو گیا تھا اس کے اندر آمرانہ ادوار کی تمام تر برائیاں تو اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہی تھیں لیکن اس دور نے پاکستان کے سینہ پر کچھ اور سنگین وار بھی کئے کہ جن کے داغ اب تک کوشش کے باوجود بھی کسی سے دھل نہیں سکے۔ضیاء دور سے پہلے پاکستان کا معاشرہ ایک محبت کرنے والا معاشرہ تھا۔سب سے پہلے اس ملک میں فرقہ پرست تنظیموں کی بنیادیں رکھی گئیں اور ان تنظیموں کو صرف بنایا ہی نہیں گیا بلکہ اس دور میں ان کے تحفظ کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ایک جانب فرقہ پرست تنظیموں کا قیام اور دوسری جانب لسانی سیاسی جماعتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے پروان چڑھایا گیا اور تیسری جانب وہ علاقائی سیاسی جماعتیں کہ جن پر علیحدگی پسند ہونے کے الزامات تھے ان پر بھی نوازشات کی بارش کر دی گئی۔یہ سب اقدامات کہ جن کی وجہ سے بعد میں اس ملک کی بنیادیں ہل گئی یہ سب کرنے کی واحد وجہ اپنے ذاتی اقتدار کا تحفظ اور اپنے مخالفین کو شکست دینا تھا۔

علاقائی علیحدگی پسند تنظیموں کو پسندیدگی کا درجہ دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اندرون سندھ ڈاکو راج کلچر پروان چڑھا اور حالت یہ ہو گئی تھی کہ شام ڈھلے کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ اندرون سندھ کچے کے علاقہ میں سفر کر سکے۔ اسی ڈاکو راج  نے اغوا برائے تاوان ایسے خطر ناک کلچر کی بنیاد رکھی۔ جنرل ضیاء کے دور سے پہلے ملک میں منظم طریقہ سے اور بڑے پیمانہ پر اغوا برائے تاوان کی وار داتوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اندرون سندھ کے ساتھ ساتھ ڈاکو کلچر اور اغوا برائے تا وان کی بیماری بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں تک پھیلتی چلی گئی اور وہ نوجوان نسل کہ جسے پڑھ لکھ کر اس ملک کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ نو جوان نسل ڈکیت گروہوں میں شامل ہو کر ملک دشمن سر گرمیوں میں ملوث ہونے لگی۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی سے اندرون سندھ پنجاب سے کافی لوگ منتقل ہوئے اور انھوں نے وہاں کی بے آباد بنجر زمینوں کو اپنی محنت سے آباد کیا۔ تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ اگر اس وقت سندھ کے اندر تعصب کی فضا ہوتی تو کیا ایسا ہونا ممکن تھا لیکن 80 کے بعد ان غیر سندھیوں کا وہاں رہنا اسی طرح مشکل ہوتا چلا گیا جس طرح گذشتہ پندرہ بیس سال سے بلوچستان میں غیر بلوچیوں کا رہنا مشکل ہو چکا ہے۔

جنرل ضیاء کے دور میں ہی نام نہاد مجاہدین کو اس ملک کے شہریوں سے کہیں زیادہ مراعات سے نوازا گیا۔انھیں اس ملک میں کسی بھی جگہ آنے اور جانے کی کھلی چھوٹ تھی اور اس کھلی چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مجاہدین نے اس ملک کے اندر ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کو کچھ اس طرح سے ترقی دی کہ آج اس ملک میں منشیات کی بھی کمی نہیں اور نا جائز اسلحہ کی بھی بھر مار ہے یہ دونوں سو غاتیں بھی خیر سے جنرل ضیاء کے دور کا تحفہ ہیں۔اس کے ساتھ جن فرقہ پرست تنظیموں کو پروان چڑھایا گیا تھا ملک و قوم کی تباہی میں جو کسر رہ گئی تھی وہ ان تنظیموں نے پوری کر دیاور پھر ایک وقت ایسا بھی آیااورابھی وہ وقت ختم نہیں ہوا کہ پاکستان میں جہاد انڈسٹری اربوں کھربوں کی اہمیت کی حامل ہو گئی ایسے میں کہ جب پاکستان میں کرپشن کی ابتدا ہی جنرل ضیاء دور سے ہوئی ہو تو بھلا جس کام سے اربوں اور کھربوں ڈالر کا مفاد وابستہ ہو جائے اس کام کی تر قی کے لئے ضیاء باقیات نے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔بڑی دفعہ ذکر ہوچکا کہ کس طرح ہر دہشت گردی کی واردات کے لئے جواز اور نقطے تراشے گئے۔ملک تباہ ہوتا رہا لیکن ضیاء باقیات ان اسلام دشمنوں اور ملک دشمنوں کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے اور آج تک انھیں اپنے اس گھناؤنے کردار پر رتی بھر شرم محسوس نہیں اور شرم محسوس ہو بھی کیسے سکتی تھی آخر باقیات کس کی ہیں جنرل ضیاء کی کہ جس نے اپنے محسن کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا لیکن پھر بھی اس بے ضمیر کے ضمیر نے اسے ملامت نہیں کیا تو اس کی باقیات کا ضمیر انھیں کیا کہے گا۔جنرل ضیاء نے اس ملک اور قوم کے ساتھ صرف یہ ہی ظلم نہیں کیا کہ ایک جمہوری حکومت کو ختم کیا بلکہ اس سے بڑھ یہ ظلم کیا کہ قائد اعظم کے بعد اس ملک کو ایک رہنما ملا تھا اسے مار ڈالا اور اس کے بعد مزید ظلم یہ کیا کہ فرقہ پرستی، کلاشنکوف کلچر، ہیروئن کلچر اور منافقت کے کلچر کی ایسی بنیادیں رکھیں کہ جن کی وجہ سے آج یہ ملک لہو لہو نظر آ رہا ہے دنیا کے اندر گرین پاسپورٹ کی وقعت کسی قحط زدہ افریقی ملک کے پاسپورٹ سے بھی کم رہ گئی ہے اور یقین جانے کہ جیسے جیسے وقت گذرے گا ویسے ویسے جنرل ضیاء کے دور میں جن جن تباہ کاریوں کی بنیادیں کھی گئی تھیں وہ آشکار ہوتی جائیں گی بالکل ایسے جیسے چند سال پہلے تک یہ دہشت گرد مجاہد تھے لیکن اب حساس اداروں اور عسکری قیادت پر یہ راز کھل چکا ہے یہ تو دہشت گرد ہیں اسی طرح وقت کی دھول بیٹھتی جائے گی اور ضیاء اور اس کی باقیات کا کردار تا ریخ میں اپنے اصل مقام پر پہنچتا رہے گااور سپریم کورٹ کے فیصلے نے بلا شبہ ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دے کر تاریخ کا قرض اتارا ہے۔

تبصرے بند ہیں.