ہوشیار۔۔۔۔۔۔ٹیکسوں بھر بجٹ نافذالعمل

52

یکم جولائی سے نئے مالی سال (جولائی 2024 تا جون 2025)کا بجٹ یا فنانس بل نافذالعمل ہو چکا ہے۔ یہ بجٹ کیسا ہے اور اس کے فیوض و برکات کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کا کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں جو اگلے 12 مہینوں بلکہ بعد میں آنے والے مہینوں کے دوران بھی اس سے فیض یاب نہیں ہو گا۔ ملک کا تنخواہ دار طبقہ تو اس سے کچھ زیادہ ہی فیض یاب ہونے پر مجبور ہو گا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں پاکستان کے عوام کو نچوڑنے کی حد تک ٹیکس لگائے گئے ہیں یا پہلے سے نافذ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس میں اضافہ، سیلز ٹیکس میں اضافہ سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں اضافہ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، پیٹرولیم لیوی میں اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر مزید انکم ٹیکس کا بوجھ اور ایک خاص حد سے زائد آمدن پر سرچارج کا نفاذ، بچوں کے دودھ، برینڈڈ اشیائے خورد و نوش، بیکری آئٹمز، دالوں اور سٹیشنری آٹیمز پر سیلز ٹیکس کا نفاذ، سیمنٹ پر پہلے سے نافذ ایکسائز ڈیوٹی میں فی کلو ایک روپیہ اضافہ، مکانوں، پلاٹوں، فارم ہاؤسز اور دیگر غیر منقولہ جائیداد پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ہوائی سفر کے ٹکٹوں کی مختلف کیٹاگریز پر ایکسائز ڈیوٹی میں بھاری اضافہ۔ غرضیکہ کوئی بھی شعبہ یا عوام کا طبقہ ایسا نہیں ہے جس پر پہلے سے نافذ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ یا نئے ٹیکسوں کا نفاذ عمل میں نہ لایا گیا ہو۔ ہاں البتہ اس بجٹ کی گہماگہمی میں قومی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہ اور مراعات میں کچھ مزید اضافے کی ترامیم منظور کروا لی گئی ہیں تو سول اور عسکری بیوروکریسی کے لیے جائیداد اور پلاٹوں کی خریدو فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کا استثنیٰ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کی مد میں بھاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے پنشن سکیم میں اصلاحات کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جس سے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے ساتھ مستقبل میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔

وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بجٹ 2024-25 کو عوام دوست بجٹ کہہ کر اس کی تیاری پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کی تعریف اور پذیرائی کی ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بجٹ اگرچہ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے لیکن اگر وہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے سامنے کچھ مزاحمت نہ کرتے اور زرعی شعبے پر بھی ٹیکس کا نفاذ عمل میں لانے دیتے تو ملک میں مہنگائی کے طوفان کے سامنے عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کی منظوری اور توثیق کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ کہنا ضروری سمجھا کہ کل جی ڈی پی کے ساڑھے نو فیصد تک ٹیکسوں کے نفاذ یا ٹیکسوں کی وصولی سے ملک نہیں چل سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ٹیکسوں کی وصولی کی شرح کل جی ڈی پی کے ساڑھے تیرہ فیصد تک بڑھائیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم محصولات یا ٹیکسوں سے آمدنی کی شرح کو بتدریج بڑھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ مالی سال 2023-24 کے دوران ٹارگٹ کے مطابق تقریباً 9400ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے کئے گئے جو اس سے پچھلے مالی سال کے محاصل کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں اور یہ کل جی ڈی پی کے تقریباً 10.5 فیصد کے لگ بھگ بنتے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم بتدریج ٹیکسوں سے حاصل آمدنی کو کل جی ڈی پی کے 13.5 فیصدکے مطلوبہ ہدف تک لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یکم جولائی کو نئے مالی سال کے بجٹ کے نفاذ کے بعد ملک میں مہنگائی میں اور مختلف اشیاء جن میں درآمدی اشیاء شامل ہیں کے نرخوں یا اُن پر ٹیکسوں کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا ہے اس کی تفصیل میں جانے سے قبل مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابقہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور اُن کے ساتھی سابقہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل جو اب مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کیے ہوئے ہیں کی بجٹ 2024-25 کے بارے میں آرا کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جناب شاہد خاقان عباسی جو عوام پاکستان پارٹی (APP) کے نام سے نئی سیاسی پارٹی قائم کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بد ترین بجٹ ہے جو پاس ہوا۔ یہ بجٹ عوام اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ حکومت کو سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی کرنا چاہیے تھی اس کے بجائے بجٹ میں مفاد پرست ٹولے کو چھوٹ دی گئی ہے اور سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے زرعی اور پراپرٹی ٹیکس کا کہا وہاں چھوٹ دے دی گئی۔ ریٹیلر جو ٹیکس دیں گے وہ بھی عوام کی جیب سے نکلے گا اور مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

بجٹ کے بارے میں اوپر بیان کیے گئے حقائق اور اس ضمن میں حکومتی اکابرین اور مخالفین کی آراء کا تذکرہ یہاں پر ختم کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بجٹ کے نافذ العمل ہونے کے کیا فوری اثرات سامنے آ ئے ہیں۔ یکم جولائی کو نئے بجٹ کا نفاذ عمل میں آیا تو اُس کے ساتھ ہی ایف بی آر نے 2200 درآمدی اشیاء پر اضافی کسٹم ڈیوٹی اور 675 لگژری اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے ساتھ مستثنیٰ آئٹمز پر 2 فیصد ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ ایک قومی معاصر میں ایف بی آر کے اعلامیے کی دی گئی تفصیل کے مطابق کاروں، جیپوں اور ہلکی کمرشل گاڑیوں پر 7 فیصد، سبزیوں پر 50 سے 55 فیصد، چینی بشمول وائٹ چاکلیٹ پر 40 فیصد، کتوں اور بلیوں کی خوراک اور لباس اور چمڑے پر 50 فیصد، پرفیوم اور سپریز پر 20 فیصد، گھڑیوں، دھوپ کے چشموں اور شہد پر 30 فیصد، کھجوروں اور پھلوں پر 25 فیصد، دودھ کی مصنوعات پر 20 سے 25 فیصد، کاسمیٹکس پر 55 فیصد،جیولری پر 45 فیصد،اُوورکوٹ، جیکٹوں، شرٹس، سکرٹس، ٹراؤزر اور سائیکلوں پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 کے دوران اپنے ٹیکسوں کی آمدنی کے ٹارگٹ تقریباً12240 ارب روپے کو حاصل کرنے کے لیے کس طرح کمر کس لی ہے۔

مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے فیوض و برکات ایف بی آر کی طرف سے 2200 اشیاء پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرحوں میں بھاری اضافہ اور نفاذ پر ہی ختم نہیں ہوتے موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز کے ٹول ٹیکسز میں بھی 27 فیصد سے 46 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح یکم جولائی سے بجلی کے گھریلو صارفین کے 200 سے زائد یونٹوں کے استعمال پر فکس چارجز کا اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔ 201 سے 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں سے 200 روپے ماہانہ، 301 سے 400 یونٹ استعمال کرنے والوں سے 300 روپے ماہانہ، 401 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والوں سے 400 روپے ماہانہ اور اس طرح ہر 100 یونٹ اضافے کے ساتھ فکس سرچارج میں بھی 100 روپے اضافہ یہاں تک 700 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والوں سے فکس سرچارج کی صورت میں 1000 روپے وصول کیا جائے گا۔

مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے فیوض و برکات کا سلسلہ اسی پر ختم نہیں ہوتا، اس میں یقینا کچھ گوشے ایسے بھی ہونگے جو وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آئیں گے اور اُن کے ساتھ عوام کی چیخ و پکار بھی سامنے آتی رہے گی۔

تبصرے بند ہیں.