ڈرائنگ رومز سے بیڈ رومز تک

83

کالے بوٹ، کالے کوٹ، کالے جُبے، کالے کیمرے اور کالی واسکٹ یا کالی شیروانی والوں کو عام آدمی کی نسبت زیادہ باشعور سمجھا جاتا ہے۔ ان باشعور طبقات کے نمائندوں سے پاکستان کی اقتصادی و سماجی زبوں حالی کی بات کی جائے اور پوچھا جائے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم ہر اعتبار سے بہت پیچھے رہ گئے بلکہ آج سے ستر برس قبل جہاں کھڑے تھے اس سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ تو ایک مضحکہ خیز جواب ملتا ہے۔ پاکستان اور اہل پاکستان کی ابھی عمر ہی کیا ہے، قومیں تو صدیوں میں بنتی ہیں، ہماری تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ یہی ہے، یہ جھوٹ بولنے والے ہمیں یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، ایران اور دیگر ملکوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ وہ ایک طویل فاصلہ طے کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یہ طفل تسلیاں دینے والے دراصل اس مافیا کا حصہ ہیں جنہیں ملک میں جاری استحصالی نظام خوب راس آیا ہے۔ وہ اس نظام کو دوام بخشنے کیلئے ہر پانچ برس بعد ایک نئی قلابازی کھاتے ہیں اور قوم کے سامنے ایک نیا جھوٹ پیش کرتے ہیں جس کے مطابق بس اب پانچ برس میں قوم کی تقدیر بدلنے کو کوئی نہیں روک سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری تاریخ ستر اسی برس پرانی نہیں ہے بلکہ چودہ سو برس پرانی ہے۔ جو سفر ہم نے طے کیا ہے جس عروج و زوال سے مسلمان گزرے ہیں جو کامیابیاں مسلمانوں نے حاصل کیں وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بہتر دین اور بہترین پیغمبر ﷺ اور سردار الانبیاء ہمیں عطا کیے۔ ان کی تعلیمات اور کردار نے ایک دنیا کو منور کیا، انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا تحفظ بھی دین اسلام نے کیا۔ ہر انسان برابر ہے کسی کو اگر کوئی فوقیت حاصل ہے تو وہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے یہ فلسفہ کسی امریکی برطانوی یا فرانسیسی فلسفی نے نہیں دیا بلکہ یہ فلسفہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں حادی برحقؐ  نے پیش کیا۔ دین و دنیا کیلئے جو سنہری اصول وضع کئے، ان کا متبادل کوئی آج تک پیش نہیں کر سکا۔ ان زریں اصولوں سے انحراف ہماری زبوں حالی اور آئندہ مزید تباہی کی پہلی اور آخری وجہ ہوگی جبکہ دنیا بھر میں ترقی کی دوڑ میں آگے آگے بڑھتی چلی جانے والی اقوام کی ترقی کا راز انہی سنہری اصولوں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ترتیب دینا ہے۔ ہوس زر اور ہوس اقتدار کے بعد ہر اچھے کام کو بگاڑنے کا کام ملاوٹ سے شروع ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے پچیس برس تو دال روٹی اور سترپوشی کے انتظام میں گزرے ذرا سا ہوش آیا تو ملاوٹ پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ ستر کی دہائی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کامیاب تجربہ کیا گیا ایسا کرنے والوں کو اس کے مثبت نتائج حاصل ہوئے جس کے بعد اس کلیے کو ہر شعبہ زندی میں استعمال کیا گیا۔ ایسا کرنے کی بڑی وجہ مثبت نتائج کا حصول ہی بتایا جاتا ہے۔ جمہوری نظام ہو یا بادشاہت، شخصی اقتدار ہو یا گروہی دنیا کے تمام تجربات ہمارے سامنے ہیں اور کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب کسی بھی نظام میں ملاوٹ شروع کر دی جائے پھر اس کا حلیہ بگاڑ کر قوم کو کہا جاتا ہے ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے لٹتے رہیں، تباہ و برباد ہوتے ہیں، زیر بار آتے ہیں اور اس خام خیالی میں مبتلا رہیں کہ ان پانچ برس میں آپ کی تقدیر بدلنے والی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ لبوں پر تالے ڈال کر کنجی دریا برد کر دیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب آپ کو کوئی سرحد پار سے آ کر اسی دریا میں پھینک دے۔

قیام پاکستان کے بعد نواب، جاگیردار سیاست میں تھے جو پالیسیاں بنیں وہ ان کے مفادات کا تحفظ کرتی رہیں۔ وہ زراعت پر انحصار کرتے تھے لہٰذا اس دور میں زراعت نے خوب ترقی کی۔ یہ نواب اور جاگیردار اپنی جاگیروں کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی مخلص تھے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی حالت سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کے بعد کا دور صنعتی ترقی کا دور ہے۔ سیاست دان اپنا کام کرتے رہے اور صنعتکار اپنا کام کرتے رہے۔ ملک کی اقتصادی بنیادیں مضبوط ہوتی رہیں پھر ذوالفقار علی بھٹو صاحب آئے تو سیاست کو ڈرائنگ سے نکال کر کھیتوں کھلیانوں اور میدانوں میں لے آئے۔ یہاں سے قومی ترقی کا بہتا ہوا دھار رک گیا، صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد تباہی شروع ہو گئی، بعد کے بیس برس پرائی جنگوں کی نذر ہو گئے۔ ادھر سے فرصت ملی تو سیاست بیڈ رومز تک پہنچ گئی، ایوان میں بزنس مین پہنچ گئے، مختلف سیاسی جماعتوں میں وزارتوں کے ثمرات سے فیض یاب ہوتی ہوئی سابق وزیر محترمہ فردوس عاشق اعوان نے ایک انٹرویو ٹائپ ٹاک شو کے دوران ساتھ بیٹھی خاتون سیاست دان سے براہراست کہا کہ ”آپ کی سیاست تو بیڈ روم سے شروع ہوئی تھی۔“ وہ خاتون تو خاموش رہیں لیکن ملک میں کہرام مچ گیا۔ فردوس عاشق اعوان  نے وہ بات کہہ دی جو کوئی کہنے کی جرأت و حوصلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس حملے کی زد میں آنے والی خاتون نے جواب دیا میں اس قسم کی غیر اخلاقی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی۔ وہ خاموش رہیں، ان کی خاموشی کو بھی خوب سراہا گیا وہ اگر کوئی ترکی بہ ترکی جواب دیتیں تو بیڈ رومز سیاست کا ایک نیا باب کھل جاتا، درجنوں کہانیاں میڈیا کی زینت بنتیں، سیاسی نظام میں تبدیلیاں کرکے خواتین کو خاص سیٹوں پر لانے کا مقصد تو اچھا تھا لیکن ڈاکٹرز، پروفیسرز یا مختلف علوم میں ماہر خواتین کو آگے لایا جاتا تو مقصد پورا ہو جاتا۔ نظام میں ملاوٹ کے بعد سیاست دانوں کی بہوؤں، بیٹیوں، بھابیوں کو ان نشستوں پر بٹھا کر ان خواتین کی حق تلفی کی گئی جو اس کی حقیقی حقدار تھیں۔ ہماری بدقسمتی سیاست ڈرائنگ رومز سے نکلی تو میدانوں میں آ گئی وہاں سے بیڈ رومز تک پہنچی، اب اس کا اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا، سنجیدہ طبقات اس حوالے سے متفکر ہیں۔ اہم عدالتی فیصلے کے بعد سیاست راولپنڈی جائے گی یا کسی کوٹھے پر۔ منظر واضح ہونے کو ہے۔ ویسے نئے بیڈ رومز بھی آراستہ ہو چکے ہیں، بجٹ بھی شاید وہیں تیار ہوا ہے جس میں خواص کیلئے سب کچھ عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.