کھلی کچہری کیا سائلوں کو انصاف فراہم کر رہی ہیں؟

22

صوبے بھر میں سائلوں کی داد رسی کے لیے آئی جی پنجاب، آر پی اوز، سی پی اوزاور ڈی پی اوز کھلی کچہریوں کا روزانہ کی بنیاد پر انعقاد کر رہے ہیں، پولیس کے رویے اور تھانہ کلچر کے ستائے شہری فریاد لیکر افسران کے سامنے پیش ہورہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اپنے دفتر میں کھلی کچہر ی باقائدگی سے انعقاد کررہے، صوبے بھر سے سائل داد رسی کے لیے ان کے پاس پیش ہوتے جبکہ افسران کے رویے سے دلبر داشتہ ماتحت عملہ بھی اپنی فریادلیکر ان کے پاس پیش ہوتے ہیں تاکہ ان کی داد رسی ہو سکے، آئی جی پنجاب داد رسی کے لیے درخواستیں لیکر آنے والے سائلوں کی درخواستیں دیکھ کر احکامات جاری کرتے ہیں تاکہ صوبے کی عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی کھلی کچہر ی میں پولیس افسران و اہلکار وں کی فیملز بھی اپنے مسائل لیکر پیش ہوتے ہیں آئی جی پنجاب ان کے مسائل کو سن کر متعلقہ افسران کو احکامات جاری کرتے ہیں، لاہور شہر کی بات کی جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی بھی بڑھتی جا رہی ہے، شہر لاہور کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، سربراہ لاہور پولیس بلال صدیق کمیانہ بھی لاہور شہر کے باسیوں اور اپنی سپاہ کی ویلفیئر کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر روزانہ کی بنیاد پر سن کر ان کو حل کرنے کے لیے احکامات جاری کر رہے ہیں ، شہر لاہور میں سٹریٹ کرائم سب سے بڑا مسلہ تھا جس کو لاہور پولیس کے سابق و موجودہ افسران کی مؤثر حکمت عملی سے اس پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس پر لاہور پولیس کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہے، سٹریٹ کرائم کی شرح میں روزانہ کی بنیاد پر بدتریج کمی ہو رہی ہے، ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران نے جب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے ان کا مشن ہے کہ شہریوں کی داد رسی کی جائے، ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران جہاں شہری کی بھلائی کے لیے اپنے دفتر اور مساجد میں کھلی کچہریاں لگا کر شہریوں کی داد رسی کر رہے ہیں وہیں اپنی فورس کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں روزانہ کی بنیاد پر فورس کے ساتھ میٹ دی فورس بھی کر رہے ہیں، لاہور شہر کے دور دراز کے علاقوں سے آنے والے شہریوں کی داد رسی کے لیے کھلی کچہر ی میں ہی متعلقہ پولیس افسران سے بات کرتے ہیں اور ان کو احکامات جاری کرتے ہیں کہ شہریوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، شہریوں کی بڑی تعداد کھلی کچہری میں مختلف مسائل لیکر پیش ہوتے ہیں جس کو ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران تسلی سے سن کر متعلقہ افسران و تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کرتے ہیں کہ ٹائم فریم میں شہری کی درخواست پرکارروائی کرکے ان کو مطلع کیا جائے، لاہور پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ایک اچھی چیز ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران کے دور میں یہ ہو رہی ہے کہ جس سائل کو ڈی آئی جی آپریشن کسی ایس ایچ او کے پاس بھجواتے ہیں تو اس متعلقہ ایس ایچ او کو یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ جب یہ شہری اپنی فریاد لیکر اس کے پاس جائے تو اس کی ویڈیو کال پر بات بھی ڈی آئی جی محمد فیصل کامران سے کروائی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جس شہری کو کھلی کچہر ی سے بھجوایا گیا ہے وہ متعلقہ ایس ایچ او کے پاس پہنچا ہے یا نہیں، ڈی آئی جی محمد فیصل کامران تو اپنا کام کر رہے ہیں کیا لاہور شہر کے 85 تھانوں کے ایس ایچ اوز ان کی اس محنت کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے یا نہیں اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا، لاہور پولیس میں ایک اور ڈی آئی جی مسیحا بن کر شہریوں کی داد رسی کرنے میں خاموشی سے اپنا کردار اداد کر رہا ہے اگر ان کی بات نہ کی جائے تو سراسر زیادتی ہو گی، ڈی آئی جی آرگنائزد کرائم یونٹ لاہور عمران کشور ایک انتہائی پروفیشنل، خداترس اور ایماندار پولیس افسر ہیں، ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور انویسٹی گیشن ونگ ، آپریشن ونگ کی قیادت بھی احسن طریقے سے سرانجام دےکر اب آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور کی کمان سنبھال کر کام کر رہے ہیں، آرگنائزڈ کرائم یونٹ جس کا پہلے نام (سی آئی اے)تھا عام آدمی اس نام سے بھی خوف کھاتا تھا بلکہ یہ کہاجائے کہ (سی آئی اے) سینٹرز کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا کہ کہیں سی آئی اے کے اہلکار اس کو پکر کہیں اس کو چور ڈاکو یا منشیات فروش ہی نہ بنا دیں، اس کلچر کو ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور عمران کشور نے بالکل ختم کرکے اپنے دفتر کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول دئیے ہیں عمران کشور روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں او سی یو کے اہلکاروں کی شکایات لیکر آنے والے سائلو ں کے مسائل سن کر فوری احکامات جاری کرتے ہیں، جس سے عام آدمی کے مسائل کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، لاہور کے 84 تھانے اور خواتین کے واحد تھانہ ویمن پولیس سٹیشن سب کو (SIPS) سپیشل انیشیٹیو کا درجہ دے دیا گیا ہے تھانوں کی بیرونی اور اندرونی حالت کو تبدیل کر کے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ لاہور شہر کے تھانے نہیں کسی دوسرے ممالک کے تھانے ہیں جہا ں آنے والے سائلوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے ہر شہری کی برابری کی بنیاد پر بات سن کر اس کا کام کیا جاتا ہے مگر یہ حکومت اور پولیس افسران کا خواب پورا نہیں ہو سکا لاہور سمیت صوبے کے دوسرے شہروں کے متعدد تھانے ایسے ہیں جہاں ابھی تک روایتی پرانا تھانہ کلچر چل رہا ہے کیا آنے والے وقت میں اتنی سہولیات اور بڑا بجٹ لینے والی پنجاب پولیس کے افسران اس میں مکمل تبدیلی لا سکیں گے اس بات کا فیصلہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.