مسٔلہ قادیانیت: جدوجہد کے تیسرے مرحلے کی ضرورت

42

فہم کے اس اختلاف کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے یہ عدالت اور مذہبی طبقات کے سامنے اہم سوال ہے اور جب تک فہم کا یہ اختلاف ختم نہیں ہوتا قادیانی مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ فہم کے اس اختلاف کوکیسے ختم کیا جا سکتا ہے اس کے لیے ہم بات کوآگے بڑھاتے ہیں۔

کچھ باتیں طے شدہ ہیں اور اس پر قادیانیوں کا ماضی اور عدالتی فیصلے گواہ ہیں۔مثلاً:
عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں تسلیم کیا ہے کہ قادیانی دھوکہ دہی کی روش سے باز نہیں آتے۔
یہ شعائر اسلام کے استعمال سے بھی باز نہیں آتے۔
یہ شعائر اسلام کی آڑ میں خود کو مسلمان ثابت کرنے اور تبلیغ سے باز نہیں آتے۔
اپنے مذہب کی تبلیغ ان کے عقائد کا حصہ ہے۔
تبلیغ کے لیے یہ تحریف عقا ئد،توہین رسالت اور تحریف قرآن کے مرتکب ہوتے ہیں۔
یہ اب تک ہزاروں مسلمانوں کو قادیانی بنا چکے ہیں۔ ان سب اعمال کی صورت میں مسلمان اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

ان طے شدہ امور کے علاوہ کچھ سوالات بھی اہم ہیں۔ مثلاً:
اگر انہیں چاردیواری کے شعائر اسلام کے استعمال اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہے تویہ تبلیغ کس کو کر رہے ہیں؟ یقینا عام مسلمانوں کو کی جاتی ہے تو یہ جرم کیوں نہیں ہے؟
اگر انہیں چار دیواری کے اندر تبلیغ کی اجازت ہے تو دیگر مذاہب مثلاً عیسائی اور سکھوں کو اس چیز کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
اگر مسلمانوں کے مختلف مسالک کے نفرت انگیز لٹریچر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو قادیانیوں کا سارا لٹریچر مسلمانوں کے نزدیک نفرت انگیز اور توہین آمیزہے تو اس پر کیوں پابندی نہیں لگائی جاتی؟
اگر مسلمانوں کے مختلف مسالک کے لٹریچر کے خلاف 23000 ایف آئی آر
درج ہوسکتی ہیں تو قادیانیوں کے تحریف شدہ اور نفرت انگیز لٹریچر پر کیوں نہیں؟
کیا مختلف مسالک کے نفرت انگیز لٹریچر کو چار دیواری کے اندر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
کیا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کو چاردیواری کے اندر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

مذکورہ طے شدہ امور اور سوالات کے علاوہ ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ وہ یہ کہ اگر 1974 کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ اب تک قادیانی دھوکہ دہی اور تبلیغ کے ذریعے کتنے سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانی بنا چکے ہیں تو یہ حقائق چشم کشا اور ہوش ربا ہیں۔ قادیانیوں کی اپنی رپورٹس کے مطابق پچھلے چند سالہا سال میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں نے قادیانیت کو بطور مذہب قبو ل کیا ہے اور ان میں اکثرت سادہ لوح مسلمانوں کی ہے۔ یہ ہزاروں مسلمان قادیانیوں کی”چار دیواری“ کے اندرکی آزادی کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ کیا بطور سربراہ ریاست، بطور سربراہ عدالت اور بطور عام مسلمان میں چاردیواری کے اندر کا جواز پیش کر سکتا ہوں۔ کیا کل قیامت کے دن بطور سربراہ ریاست اور بطور سربراہ عدالت مجھ سے سوال نہیں ہو گا؟ جو نبی ایک ایک امتی کے لیے فکر مند رہا آج اس کے ہزاروں امتی چار دیواری کی بھینٹ چڑھ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہم، ہماری عدالتیں اور ہماری ریاست چاردیواری کا استدلال پیش کر کے خاموش ہے۔

پھر آئین میں چار دیواری کے اندر بنیادی حقوق کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے و ہ مطلق نہیں بلکہ آئین، قانون، اخلاقیات اور امن عامہ کے تابع ہے۔ اسی طرح کسی مذہب و مسلک کے تعلیمی اداروں کے اندر اسی مذہب و مسلک کی تعلیم کے حق کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے وہ خالص مذہبی اداروں کے اندر ہے۔جبکہ قادیانیوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ انہوں نے مختلف عصری تعلیمی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں قادیانیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے بچے بھی زیر تعلیم ہوتے ہیں اور قادیانی دیگر مذاہب کے بچوں کو تبلیغ سے باز نہیں آتے۔

حالیہ دنوں میں مبارک ثانی کیس اس کی بہترین مثال ہے۔ مبارک ثانی نصرت جہاں کالج فا رویمن میں قادیانیوں کی تفسیر صغیرکو، قرآن کی تفسیر کہہ کر تقسیم کر رہا تھا جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی اور 295 سی کی تحت صریح جرم تھا لیکن عدالت نے اسے جرم اس لیے تسلیم نہیں کیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق کے تحت ہر مذہب و مسلک کو اپنے مذہبی تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان میں تعلیم دینے کا حق ہے۔ (یہاں پھر اسی تضاد کا سہارا لیا گیا جس کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے کہ شعائر اسلام کا استعمال اگر باہر جرم ہے تو اندر جرم کیوں نہیں ہے، لیکن یہاں ہمارا موضوع بحث آرٹیکل بائیس کی شق ہے)حالانکہ مبار ک ثانی نے جس جرم کا ارتکاب کیا وہ مذہبی تعلیمی ادارے میں نہیں بلکہ عصری تعلیمی ادارے میں ہوا اور اس تعلیمی ادارے پر آئین کے آرٹیکل 22 کی شق کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں مسلمانان پاکستان کایہ مطالبہ جائز اور صائب ہے کہ اگر کوئی گروہ ان کے نام پر رجسٹرڈ حقوق کو، اپنی چاردیواری کے اندر یا باہر دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرتا ہے اور ان کے ہم مذہبوں کی دنیا و آخرت تباہ کر تاہے اور اس پرمسلمان عدالت جاتے ہیں تو انہیں انصاف ملنا چاہیے۔ یہ ا ن کا بنیادی حق ہے۔اس میں جذباتیت ہے نہ ہی کسی کے بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کا معاملہ ہے۔ نہ ہی کوئی مذہبی و سیکولر قانون مسلمانوں کے اس بنیادی حق کی مخالفت کرتا ہے۔ بلکہ اگر مسلمان اس دھوکہ دہی اور اپنی شناخت کے غلط انتساب پرسوال نہیں اٹھاتے تو یہ ان کے عقل و شعوراور ان کے ایمان پر سوالیہ نشان ہے۔

اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی چاردیواری کے اندر بھی ان کے نام رجسٹرڈ حقوق اور ان کی شناخت کو غلط طور استعمال نہ کیا جائے تو ان کے اس مطالبے سے اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔ (جاری ہے)

تبصرے بند ہیں.