”ہاکی“ اور ”بلے“ کی کہانی۔۔۔۔۔۔!

25

پوری قوم بہت افسردہ ہے کہ پاکستان اپنی شاندار ناقص پرفارمنس پر T-20 ورلڈ کپ میں صرف ایک میچ جیتا اور اس کو صرف تین پوائنٹس ملے، ماشاء اللہ نظر نہ لگے۔ امریکہ آگے ہی ہمارے گلے پڑا ہوا تھا اب اس نے کرکٹ میں بھی ہمیں رسوا کرتے ہوئے ذلیل و خوار کرکے واپس گھر بھجوا دیا اور خود سپر ایٹ پہنچ گیا، اپنے گروپ کے مکمل میچز کھیلنے کے بعد بڑے بے آسرا ہو کر ہم امریکہ سے نکلے…… کہاں کبھی ہم ہاتھوں میں ٹرافی اٹھا کر آتے تھے، کہاں ہم گلے میں شکست کے ہار پہن کر گھر واپس لوٹ آئے۔

پیارے پڑھنے والو…… آج میں آپ کو دو مخالف دوستوں کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔ ہاکی اور کرکٹ دو دوست جو کبھی ایک دوسرے سے خوش نہ تھے۔ پاکستان میں ہاکی اور بلا روز اوّل ہی سے آپس میں شدید اختلاف رکھتے تھے۔ ایک دور تھا جب ہاکی اپنے عروج پر تھی بہت خوبصورت بہت شاندار اور بہت کامیاب جبکہ بلا کوشش کر رہا تھا کہ وہ بھی ہاکی کی طرح عروج پکڑے پھر نجانے کس بدبخت کی ایسی بری نظر لگی کہ ہاکی بیمار رہنے لگی۔ حکومت نے ہاکی کی تیمار داری کے لیے اربوں روپے لگائے مگر وہ ایسی بیمار ہوئی کہ اس کے اچھے دوست بھی آہستہ آہستہ اس کا ساتھ چھوڑنے لگے پھر ایک روز شدید علالت کے بعد ہاکی وفات پا گئی۔ پوری قوم نے بڑی دھوم سے اس کا جنازہ پڑھا۔ دوسری طرف جب بلے کو پتہ چلا کہ ہاکی بیمار ہے اور قریب المرگ ہے تو اس نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ اس کے رنگ بدل گئے اس کے انداز بدل گئے اس کی روایات بدل گئیں۔ وہ امیر ہونا شروع ہو گیا۔ ہر طرف بلے بلے بلے کی آوازیں آنے لگیں اور پھر سیاست کی ماری کم بخت سیاست میں بھی بلا گھس گیا۔ پھر تو بلے کی بلے بلے ہو گئی اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور وہ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا۔ پوری قوم صرف بلے کو دیکھ رہی تھی اور بلا تھا کہ وہ قوم کے ہاتھ میں نہیں آ رہا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کہا جانے لگا اگر بلا نہ ہوا تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ عروج کے بعد زوال اور زوال کے بعد عروج آتا ہے اور ہندؤں میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا دوسرا جنم بھی ہوگا۔ ایک طرف ہاکی نے پھر جنم لینا شروع کر دیا اور دوسری طرف کرکٹ ہاکی کی طرح بیمار رہنے لگی۔ جس طرح ہاکی ہارتے ہارتے ہار گئی اسی طرح کرکٹ بھی ہارتے ہارتے ہار رہی ہے جبکہ وہ بہت بیمار ہو گئی ہے۔ اس لیے جب دوسرے جنم میں آنے والی ہاکی کو یہ پتہ چلا کہ بلا اب بیمار ہو گیا ہے تو اس نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہاکی بہت خوش ہے۔ چھلانگیں لگا رہی ہے بلکہ اس نے بلے کی ناکامی پر اپنے گھر میں جشن بھی منایا اور پیغام بھجوایا کہ جب تک تو ٹھیک ہوگا نہیں ہوگا میں اس وقت عوام کے ہاتھوں میں ناچ رہی ہوں گی جب تک تم دوبارہ اگر اٹھو گے میں تم سے بہت آگے جا چکی ہوں گی۔ تم اب کسی بھی ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے کوالیفائی راؤنڈ کھیلوں گے میں اب سیدھی ورلڈ کپ میں جاؤں گی۔ ہاکی خوش تو بلا مایوس اور بلا صرف ایک جگہ نہیں سیاست میں بھی کبھی عدالتوں میں تو کبھی اڈیالہ جیل میں گھوم رہا ہے۔ اب بلے کی قسمت کب بدلے گی، بلے والے بلے کو کب دوبارہ زندہ کریں گے، کب یہ بلا میدان میں چوکے چھکے مارے گا کب عدالتوں اور اڈیالہ جیل کی فضاء سے باہر نکلے گا اس کے لیے بلے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی انتظار کرنا ہوگا اور یہ وقت پر منحصر ہے کہ کب بلے کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ سرجری بہت سخت ہے خدا کرے کہ سیاسی ڈاکٹر محسن نقوی اس کی کامیاب سرجری کرنے میں کامیاب ہو جائیں، جس کی امید کم ہے۔

ہم بلے کی جلد صحت یابی چاہتے ہیں، ہم ہاکی کو بھی دوبارہ زندگی ملنے پر امید کرتے ہیں کہ اب بلے اور ہاکی جب دونوں آپس میں دوستی کریں گے تو قوم دونوں کو پھر سے سینے سے لگائے گی کہ چاہے اس کے اوپر کیسا بھی وقت کیوں نہ آئے۔ چاہے کتنی بار اس کے سینے کو چاک چاک کیا جائے۔ چاہے اس کو ذلتوں کے اوپر ذلتیں دی جائیں۔ چاہے بار بار اس کے سینے کو جھکایا جائے، تڑپایا جائے، بار بار خنجروں اور گولیوں سے بھونا جائے یہ سینہ پھر آپ کو صرف ایک کامیابی پر سینے سے لگائے گا۔ قائد اعظمؒ  نے آزادی دی ہم نے غلامی قبول کرتے ہوئے سینے کو چاک کیا۔ کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا۔ اس سینے کے اندر نے بہت کچھ برداشت کیا۔ مہنگائی سے غریب کو قبر میں اتارا اس سینے نے برداشت کیا۔ بے روزگاری میں اس سینے نے برداشت کیا۔ ٹیکسوں کے اوپر ٹیکس لگا کر اس کے کپڑے تار تار کر دیئے اس سینے نے ننگا ہونے کے باوجود برداشت کیا۔ سب نے مل کے بار بار اس سینے کو لیرو لیر کیا۔ اس سینے نے پھر بھی کڑوا گھونٹ پی کر برداشت کیا۔

آخر یہ سینہ ہے…… آخر یہ جسم ہے کب تک اس سینے کو اور چھیلو گے اور جھکاؤ گے اور ترساؤ گے اور کب تک لوٹو گے کہ اب تو یہ اندر سے کچھ کھوکھلا ہو چکا ہے، لوٹنے والوں نے سب کچھ تو لوٹ لیا ہے، برباد کرنے والوں نے برباد کر دیا ہے۔ اس سینے میں بجائے خوشیوں کے غموں کے طوفان بھر دیئے ہیں۔ اس سینے کو اور چھیدو گے تو پھر یہ ایسا پھٹے گا کہ سب کچھ بکھر جائے گا۔ سب کچھ تباہ ہو جائے گا پھر راز راز نہیں رہیں گے پھر وہ کچھ کھلے گا جس کی قوم 76سالوں سے منتظر ہے، قوم کا سینہ تو اس سچ کا بھی منتظر ہے جو 76سال سے چھپایا گیا ان کمیشن رپورٹس کا بھی یہ سینہ منتظر ہے جو سازشی کرداروں کو بجانے کے لئے ابھی تک سامنے نہیں لائی جا سکیں۔
جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سوجا

ہم تو پھر شکست پر آنسو بہاتے ہیں، روتے ہیں اور روتے روتے اگلے دن پھر رونے کے لئے اٹھ جاتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی ہاکی اور کرکٹ کی دوستی کی آج سب سے بڑا دکھ تو یہ ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم اپنی تاریخ کی بدترین شکست کے بعد گھر واپس پہنچ چکی ہے۔ اب کب اس کا آپریشن ہوگا کب چیر پھاڑ ہوگی کب سازش کو بے نقاب کیا جائے گا کب نئی ٹیم میدان میں اتاری جائے گی کیا پھر سازشوں کو مزید تقویت ملے گی۔ چیئرمین کرکٹ بورڈ پھر دوستیاں نبھائیں گے یہ تو آنے والا کل ہی بتائے گا۔

اور آخری بات……

بات ہو رہی تھی کہ یہ قوم زخم در زخم سینے کے باوجود پھر کھلے اور کشادہ سینے کے ساتھ گلے لگا لیتی ہے اور اس کا دل اتنا بڑا ہے جتنا بڑا میڈم نورجہاں کے اس گیت میں تھا۔
آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے

تبصرے بند ہیں.