آپریشن عزم استحکام

21

چین پاکستان کا صرف دوست ہی نہیں بلکہ انتہائی اہم معاشی اقتصادی اور دفاعی پارٹنر بھی ہے۔ ملک دشمن کبھی نہیں چاہتے کہ چین پاکستان کی ترقی میں کوئی کردار ادا کرے یہی وجہ ہے کہ ہر کچھ عرصہ بعد پاکستان میں کام کرنے والے چینی کارکنوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان نے ایک وفد کی صورت میں چین کا دورہ کیا تو چین کی قیادت نے دو مطالبات رکھے کہ ایک تو دہشت گردی پر قابو اور دوسرا ملک میں سیاسی استحکام ہو کیونکہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے ملک میں امن و امان کی بہتر صورت حال اور سیاسی استحکام ضروری ہے اور اتوار والے دن قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس سے چین کو واضح پیغام دیا گیا کہ 2014 میں ہم نے اگر چین کے صدر کا دورہ نہیں ہونے دیا تھا تو اب یہ دونوں مطالبات بھی پورے نہیں ہونے دیں گے۔ جس گھر کو گھر کے اپنے چراغ جلانا شروع کر دیں اس گھر کو جلنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اتوار 23جون کو آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کی جانب سے جو تماشا ہوا اس کے بعد کوئی ہوش مند پاکستانی وطن عزیز میں کسی استحکام کی امید رکھ سکتا ہے لیکن یہ سب کیا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ ایک بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ایک ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کر رہے تھے اور دہشت گردی کی کسی واردات کی مذمت کر رہے تھے لیکن طالبان کا نام لے کر مذمت کرنے کو تیار نہیں تھے اور جب پروگرام کے اینکر نے زیادہ اصرار کیا تو پروگرام چھوڑکر چلے گئے۔ اسی مذہبی جماعت کے دوسرے سربراہ نے پشاور میں معصوم بچوں کو جب دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو اس کی مذمت تک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بانی تحریک انصاف کا دہشت گردوں کے حوالے سے یہ کوئی نیا موقف نہیں ہے بلکہ وہ شروع دن سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے خلاف ہیں اسی لئے ایک وقت میں ان کا نام طالبان خان پڑ گیا تھا۔ آج ملک میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے یہ بلا وجہ تو نہیں ہے بلکہ2021میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جیلوں میں دہشت گردی کے الزام میں بند ملزمان کو عام معافی دی گئی جن میں سزائے موت کے قیدی بھی شامل تھے اور اسی طرح افغانستان سے ہزاروں افراد جن پر دہشت گردی کا الزام تھا انھیں پاکستان لایا گیا۔ اس آپریشن کی مخالفت اے این پی بھی کر رہی ہے لیکن ا س کا موقف دوسرا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کتنا عمل ہوا اور اگر نہیں ہوا تو اس کے ذمہ دار کون کون ہیں تا کہ پتا تو چلے کہ اس گھر کو جو آگ لگ رہی ہے اسے پھونکنے میں کون کون شامل ہیں۔

جس دن قومی اسمبلی میں یہ سب کچھ ہوا اس سے دو دن پہلے ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اس میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی موجود تھے۔ اس سطح کا کوئی بھی اجلاس جب ہوتا ہے تو اجلاس سے پہلے اس کا ایجنڈا تمام متعلقہ افراد کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ یقینا اجلاس کا ایجنڈا علی امین گنڈا پور کے پاس بھی آیا ہو گا تو اگر انھیں آپریشن عزم استحکام پر کوئی تحفظات تھے تو ایپکس کمیٹی میں بیان کیا جا سکتا تھا اور کھل کر اس پر گفتگو ہو سکتی تھی اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس آپریشن پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے اور پارلیمنٹ کی اجازت سے اس آپریشن کو ہونا چاہیے تو ابھی تو یہ آپریشن شروع نہیں ہوا بلکہ ایپکس کمیٹی میں اس کا فیصلہ ہوا اور اسی فیصلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے لئے خواجہ آصف نے تقریر کرنی تھی لیکن ابھی وہ تقریر شروع کرنے لگے تھے کہ قومی اسمبلی میں ہنگامہ شروع کر دیا گیا کہ جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہاں ایک بات اہم ہے کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا اور اس سے اجازت لینا ایک الگ بات ہے لیکن کل کو اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں اس کی تمام تفصیل اور حکمت عملی بھی بتائی جائے تو یہ کسی طور ممکن نہیں ہو گا اس لئے اس قسم کے آپریشن میں جو بھی ہوتا ہے وہ سب خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان معلومات کو عام نہیں کیا جا سکتا۔

اس ہنگامہ کا مقصد صرف یہ تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خاص طور پر چین کو باور کرایا جائے کہ ہماری مرضی کے بغیر آپ پاکستان میں کچھ نہیں کر سکتے اور نہ ہم کرنے دیں گے اور یہی سوچ بنیادی طور پر پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن جو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام قائم رہے اب ان کی خواہشات کا پورا ہونا مشکل نظر آ رہا ہے اس لئے کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب کے موقع پر بھی ان قوتوں  نے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر آپریشن شروع کیا گیا تو پاکستان میں خدانخواستہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی لیکن خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ ان کی تمام پشین گوئیاں غلط ثابت ہوئی اور اس کے بعد 2017 میں آپریشن ردالفساد کے دوران بھی کچھ نہیں ہوا۔ دہشت گردی کا سامنا صرف پاکستان کو ہی نہیں کرنا پڑا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کا شکار رہے ہیں۔ 9/11 کے بعد امریکا میں کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی۔ نیوزی لینڈ میں مسجد کے اندر دہشت گردی کی واردات کے بعد کوئی دوسرا واقعہ نہیں ہوا اور سری لنکا جس نے تامل ٹائیگرز کی شکل میں برسوں دہشت گردی کا سامنا کیا لیکن 2009 میں اس کے مکمل خاتمہ کے بعد وہاں پر دوبارہ اس ناسور  نے سر نہیں اٹھایا۔ پاکستان میں متعدد آپریشنز کے باوجود دہشت گردی پر مکمل قابو نہ پانے کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ یہاں پر مختلف سیاسی و مذہبی گروہوں کی شکل میں ان کے حمایتی موجود ہیں اور یہی ان کے مکمل خاتمہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جس دن ان حمایتیوں کی سوچ بدل جائے گی اس دن دہشت گردی کا جن بھی ہمیشہ کے لئے بوتل میں بند ہو جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.