نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیت اجاگر کرنا ضروری ہے

37

یوں تو پاکستان کو کئی اعزاز حاصل ہیں زرعی اجناس سے لیکر مدفون خزانوں تک میں ہم ایک منفرد ملک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کا شمار نوجوانوں آبادی والے پانچویں بڑی تعدادکے حامل ملک میں ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ 15 سے24 سال کے ایج گروپ کو بین الاقوامی طور پر نوجوانوں کی آبادی کا گروپ قرار دیتا ہے۔ جبکہ پاکستان دولت ِمشترکہ کے متعین کردہ نوجوانوں کے ایج گروپ 15 سے 29 سال کو نوجوانوں کی آبادی کا گروپ تصور کرتا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں نوجوانوں کی حقیقی آبادی کا تعین کریں تو مختلف رپورٹس اور اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے طے شدہ ایج گروپ کے مطابق 42 ملین سے زائد اور دولتِ مشترکہ کے متعین کردہ نوجوانوں کے ایج گروپ کے مطابق 60 ملین سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ ا س وقت دنیا میں 15سے24 سال کی عمر کے نوجوانوں کا 3.54 فیصد اور15 سے29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی کل تعداد کا 3.38 فیصد پاکستانی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔خطے کی صورتحال کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ جنوب ایشیا جہاں نوجوانوں (15-24) کی عالمی تعداد کا 26.43 فیصد موجود ہے۔ اس خطے کے 8 ممالک کے نوجوانوں (15-24)کی کل تعداد کا 13.41 فیصد پاکستانی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، پاکستان،مالدیپ، نیپال اورسری لنکا میں دنیا بھر کے (15 سے29) نوجوانوں کا 25.64 فیصد آباد ہے اور پاکستان میں سارک ممالک کے مذکورہ نوجوانوں کی کل آبادی کا 13.20فیصد موجود ہے۔

اعدادو شمار کے گورکھ دھندے کے بیان کرنے کا مطلب ان کی حالت زار پر گفتگو کرنا اس لئے بھی ضروری خیال کیا جارہا ہے کہ حکومتی قومی یوتھ پالیسی(جو ہر حکومت میں گزشتہ کئی برسوں سے چلی آرہی ہے) کی دستاویز کے حرفِ آغاز ہے میں یہ کہا گیا تھا کہ نوجوان ہمارا مستقبل۔۔۔ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں کوئی بھی ذی شعور انسان، قومی یوتھ پالیسی کے اس حر فِ آغاز کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ اور واقعتاً اثاثہ ہیں، جنہیں ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی بہترین تعلیم و تربیت اور ان کی نشو ونما کے راستوں کو کھولنا تفریح اور کھلے ماحول اور مقامات کا ہونا ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا باعث بنتا ہے۔پاکستان کے لئے نوجوانوں کے اس اثاثہ کی اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا نصف سے زائد نوجوانوں پر مشتمل بتایا جاتا ہے یعنی 15 سے 30 سال کے افراد کی عمر کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہے۔ہمارے اس مستقبل کی حالت زار بارے سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ دوسری جانب عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو استعداد رکھتی ہے وہ سکون، روزگار اور تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بیرون ملک کا رخ کرنا اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ اور جو وسائل نہیں رکھتے ان کا انتہا پسند رجحانات یا دیگر آلودگیوں کی طرف گامزن ہونے کا اندیشہ برقرا ر اس لئے رہتا ہے کہ یہاں ایسے گروہ، جتھے اور جماعتیں موجود ہیں جو ان کی تاک میں رہتے ہیں (ہر دھرنے لانگ مارچ اور سیاسی و مذہبی جلسوں میں انہیں دیکھا جاسکتا ہے)۔

پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی امن و امان کی ابتر صورت حال بے روزگاری، بھوک اور بیماریوں کی فراوانی ہے وہاں حکومتی اور سماجی سطح پر اس طرح کی کوششوں کو فروغ دیا جانا ضروری ہے کہ یہ نوجوان مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے کر معاشرے میں فعال کردار ادا کر سکیں یہ بات بھی بڑی خوش آئند ہے کہ ہمارے ہاں سماجی سطح پر اس بات کا شعور دن بہ دن اجاگر ہوتا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کے بنا ملک ترقی نہیں کر سکتا اس حوالے سے کئی سماجی ادارے اور تنظیمیں سر گرم عمل ہیں جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت رنگ دینے کے لئے مختلف طرح کے پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہیں حالانکہ یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے۔ معاشروں کو پر امن بنانے اور ترقی کی طرف گامزن کرنے کے لئے تبدیلی نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کر کے ہی لائی جاسکتی ہے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں کا خیال ہے کہ امن، محبت اور رواداری کے حامل معاشرے کے قیام کے لئے سکولوں کی سطح سے لیکر کالجز اور یونیورسٹی اور مذہبی تعلیمی اداروں تک کے طلبا میں تمام تعصبات اور نفرت سے پاک محبت بھری تعلیمات جس میں امن محبت اور رواداری کا درس ملتا ہو کا شعور اجاگر کرنے سے ہم اسی کی دہائی سے پہلے والے معاشرے کا مقام حاصل کر سکتے ہیں جب ہر طرف امن اور سکون تھا، کھیلوں کے میدان اور پارک نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں سے آباد تھے۔تعلیمی اداروں میں بزم ادب کی محفلیں اور تقریبات سے محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم رہتی تھی۔ ہمیں ایسی ہی تبدیلی کے خواہاں ہونا چاہیے جس کے لئے ان کی کوششیں ناگزیر ہیں،مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں ’صوفی شعرا کے کلام پر مبنی سیمینار،مشاعرے اور تقریبات کا انعقاد کرانا چاہیے، ”صرف کرکٹ“ کے جنون سے نکل کر ہر طرح کی کھیلوں سے میدانوں کو آباد کرنا ہوگا اگر ہم اپنے نوجوانوں کا رخ(direction) ٹھیک کر لیتے ہیں تو ہمارا آج کا نوجوان ایک بہتر پاکستان کا معمار بن سکتا ہے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ہمیں بحیثیت معاشرہ ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہمارا نوجوان جس کے اندر ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں یہ ملکی حالات سے کس قدر فیڈ اپ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان موقع ملتے ہی یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار اس جانب اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں اب تک 36 ہزار سے زائد پاکستانی نوجوان، جن میں ڈاکٹرز، انجینئر اور اساتذہ شامل ہیں، بیرون ملک اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہجرت کر چکے ہیں۔ جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق یہ تعداد 45 ہزار سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اسے بھی اپنی کارکردگی اور زرمبادلہ کا ذریعہ سمجھتی ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے کیونکہ برین درین سے صرف ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے نوجوانوں پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں.