خانہ کعبہ کی کلیدبرداری: ایک مقدس فریضہ

20

کچھ واقعات کا پس منظر ان کی ذات سے زیادہ گہرا اور اہم ہوتا ہے مگر عوام الناس صرف ظاہری باتوں پر دھیان دیتے ہیں اصل حقیقت سات پردوں میں چھپی رہتی ہے۔ اس ہفتے ہمارے قومی میڈیا پر خانہ کعبہ کے کلید بردار شیخ صالح الشیبی کی وفات کی خبر بڑے تواتر کے ساتھ چلتی رہی اللہ تعالیٰ شیخ صاحب کو غریق رحمت کرے۔ ہمارے ہاں چونکہ خبروں کے پس پردہ حقائق پر تحقیق کی روایت نہیں ہے اس لیے کسی چینل نے بھی شیخ صالح اور ان کے خاندان کی نسل در نسل کلید برداری کی سعادت کی کہانی بیان نہیں کی۔ بس اتنا بتایا گیا کہ وہ 109 ویں کلید بردار ہیں۔

ہمارے تمام سیاسی اور عسکری رہنما شیخ صاحب کو جانتے ہیں اور ان سے ملاقاتوں سے فیض یاب ہو چکے ہیں کیونکہ جب ہمارے حکمران سرکاری حج اور سرکاری عمرے فرماتے ہیں اور انہیں سعودی حکومت کی طرف سے شاہی مہمان کا درجہ عطا ہوتا ہے تو ان کے لیے بطور خاص کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور یہ دروازہ روایتی طور پر شیخ صالح ہی کھولا کرتے تھے اور مہمانوں کا استقبال کرتے تھے۔

اس خاندان کی کلید برداری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آنحضرت محمدﷺ نے جب مکہ میں اعلان نبوت کیا اور آپؐ کے چچا ابو جہل سمیت سرداران قریش آپؐ کے خون کے پیاسے ہو گئے تو آپؐ کو طرح طرح سے ایذا رسانی اور توہین سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جاتی رہی جس کا سب سے بڑا سرغنہ ابو جہل تھا۔ راہ نبوت و رسالت میں ایک وقت وہ بھی آیا کہ خانہ کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ نے رسالت مآبؐ کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ قریش کے تمام ایرے غیرے خانہ کعبہ کے اندر جا کر وہاں رکھے گئے بتوں کو سجدے کرتے اور منتیں مانتے مگر دونوں جہانوں کے رحمت بنا کر بھیجے گئے آخری نبیؐ کے لیے خانہ کعبہ میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا جس وجہ سے کلید بردار عثمان آپؐ کو دروازے پر روک لیتا تھا اور اندر نہیں جانے دیتا تھا۔ یہ سلسلہ فتح مکہ تک چلتا رہا۔

فتح مکہ تاریخ اسلام کا سب سے بڑا واقعہ ہے مکہ فتح ہو گیا اور خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ کلید بردار عثمان جو آقائے دو جہاں ؐ کے لیے کعبے کا دروازہ نہیں کھولتا تھا وہ مکہ سے فرار ہو گیا اسے یقین تھا کہ جو سلوک وہ سرکار دو عالمؐ سے کیا کرتا تھا اس کی معافی کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا وہ محض اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔ آپؐ سراپا رحمت تھے آپؐ نے مسلمانوں کو کہا کہ عثمان کو ڈھونڈ کر لایا جائے چنانچہ لشکر اسلام نے عثمان کو ڈھونڈ کر آپؐ کے حضور پیش کر دیا کلید بردار عثمان یہی سمجھتا تھا کہ اب اس کی گردن اڑا دی جائے گی مگر میرے نبیؐ کو تو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔ رحمت عالم جوش میں آ گئی عثمان کو ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر معافی دے دی گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ آقاؐ نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی کلید برداری عثمان کے پاس ہی رہے گی عثمان کو اپنے منصب پر بحال کر دیا گیا۔ تاریخ میں ایسی کوئی مثال شاید نہ ملے۔

یہی وجہ تھی کہ آنحضرت کے بعد خلفائے راشدین اور اموی اور عباسی حکمرانوں نے بھی اسی اصول پر عمل کیا کہ حضرت محمد سرور کائناتؐ نے بذات خود چونکہ خانہ کعبہ کی چابی عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کی تھی لہٰذا اس ڈیوٹی پر ان کے خاندان کا حق تسلیم کر لیا گیا اور یہ چابی آج تک اسی نسل میں چلی آ رہی ہے۔ بعد کے خلفا نے یہ استدلال استعمال کیا کہ چابی واپس لینے کا جو کام آپؐ نے خود نہیں کیا تو ہم کیسے یہ گستاخی کر سکتے ہیں۔

آج عثمان بن طلحہؓ صحابی رسول ہیں اور ان کی 109 نسلیں کلید برداری کرتے گزر چکی ہیں لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سوال یہ نہیں کہ کلید برداری کی سعادت کس کے پاس ہے بلکہ سعادت یہ ہے کہ یہ مقام ان 109 نسلوں کو کس کے فرمان پر حاصل ہوا ہے یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے خون کے پیاسوں کو ردائیں دیں

شیخ صالح الشیبی کے انتقال اور کلید برداری کی اگلی نسل کو منتقلی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کے لیے یہ سبق موجود ہے کہ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے نبیؐ کی پیروی میں عفو اور درگزر کرنا سیکھیں اور فتح مکہ کے موقع پر جس طرح کلید بردار عثمان اور باقی اہل مکہ کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا ہم بھی اپنے سیاسی مخالفین کو معاف کرنا سیکھیں اور نبیؐ کی سنت کا احیا کریں۔ کیا سیاسی انتقام کے ذریعے ملک ترقی کر سکتا ہے۔ انتقام کی سیاست نے پہلے ہی ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

ہماری حکومتیں اپنے پیش رو کی اچھی پالیسیوں کو بھی محض اس لیے داخل دفتر کر دیتی ہیں کہ اس کا کریڈٹ ان کے مخالفین کو نہ مل جائے یہی وہ وجہ ہے کہ گزشتہ 75 سال میں حکمرانی کا تسلسل قائم نہیں ہو سکا جو آتا ہے اپنا ٹائم پورا کرتا ہے اور نیا آ جاتا ہے۔ ہر نیا آنے والا اپنی پالیسی بناتا ہے جو اس کے اقتدار سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتی ہے۔

اگر سیاستدان ضمیر کی سیاست پر عمل کرتے تو غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کو بار بار دخل اندازی کا موقع نہ ملتا۔ یاد رکھیں اقتدار ایک امانت ہے بالکل ایسے ہی جیسے کعبہ کی کلید برداری۔ ان دونوں میں آپ انسانوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں لہٰذا عوام الناس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ کریں۔

تبصرے بند ہیں.