پیغمبر اخلاقﷺ

25

حدیثِ قدسی ہے ”لو لاک لما خلقت الافلاک“ (اگر آپؐ نہ ہوتے تو کون و مکاں تخلقے ہی نہ کیا جاتے)۔ حدیثِ نبویؐ شاہد ہے ”اوّل ما خلق اللہ نوری“ (اللہ نے سب سے پہلے مر ے نور کو تخلقب کاش)۔ آ پؐ نبی اُمّی ہیں، یعنی اُمّ الموجودات ہیں، منبع کائنات ہیں، روحِ کائنات ہیں۔ آدمؑ سے عیسیٰؑ تک سب انبیائے کرام نبی ئ آخر الزماںؐ کے آنے کی خبر دیتے رہے اور اپنی تابع اْمتوں کو رسولِ کریم خاتم النّبیّینؐ کی متابعت کے لیا تیار کرتے رہے۔ آپؐ ایسا احسن الخلق نہ پیدا ہوا نہ ہوگا۔ احسن الخالقین نے آپؐ کو احسنِ تقویم پید ا فرمایا۔ سبحان ذات نے آپؐ کو پاک پیدا کیا۔ گویا بے عیب ذات نے آپؐ کو بے عیب پید ا کیا۔ توحید اور شرک میں تمیز آپؐ کے دم سے ممکن ہوئی۔ ایمان اور کفر میں فرق آپؐ کی ذاتِ والاصفات پر ایمان کے سبب قائم ہوا۔محض لاالٰہ الااللہ پڑھنے سے انسان پاک نہیں ہوتا۔ جب تک توحید کے اقرار میں ”مُحَمّدُرسُولُ اللہ“ کا قول و اقرار شاملِ حال نہ ہو، کلمہئ طیبہ مکمل نہیں ہوتا۔ کلمہئ طیبہ ہی انسان کو پاک کرتا ہے، ہر قسم کی نجاست سے۔ کفر اور شرک کی نجاست سے نجات دینے والا یہی کلمہئ طیبہ ہے۔

آپؐ احسن الخلق بھی ہیں اور احسن الخْلق بھی! خَلق اور خْلق دونوں میں کامل و اکمل ذات کْل انسانیت کی رہبرِ کامل ہے۔ اللہ اللہ! اللہ خود گواہ ہے ”انک لعلیٰ خلقٍ عظیم“ (بے شک آپؐ اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں)۔ آدمیت کو شہرِانسانیت میں بسانے کا اہتمام اْن اخلاقِ حسنہ کے اسباق کے سبب ممکن ہوا، جن کا نمونہ عملی طور پر رسولِ کریمؐ نے پیش کیا۔ رب العالمین کا ارشاد ہے”وما ارسلنٰک الا رحمۃ اللعالمین“ (اور بے شک ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ وہ تمام اخلاقِ نبویؐ جن کی تعلیم کا اہتمام عملی طور حیات طیبہ میں کیا گیا وہ آپؐ کی رحمت کا حصہ ہیں۔ یعنی اخلاق رحمت کا جزو ہے۔ پیغام رحمت پہنچانے کا ذریعہ اخلاقِ حسنہ پہنچانا ہے۔ اخلاق ِ حسنہ کا تحفہ لے کر ہم جہاں جہاں جائیں گے پیغام رحمت اللعالمینؐ ازخود اس جہان تک پہنچ جائے گا۔ دین کے پیغام کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ سیرت کی تبلیغ ہے۔ سیرت سراپا اخلاق ہے۔ اخلاق کا سبق دینے کے لئے سب سے پہلے ہمارا اخلاق پر کاربند ہونا لازم ہے۔ غصے میں بولتا ہوا شخص، خاموشی اور تحمل کا سبق نہیں دے سکتا۔ غفلت میں سونے والا بیداری کی اہمیت بیان نہیں کر سکتا۔

رسولِ کریمؐ کے اخلاقِ کریمانہ تاریخِ انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ پڑوسی کے حقوق سے لے کر مہمان کی عزت و تکریم تک تفصیل سے اخلاقِ نبویؐ میں خوب خوب بیا ن کر دی گئی۔ فرمایا ”وہ شخص مومن نہیں، جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں“۔ مہمان کی تکریم کے باب میں فرمایا ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، لازم ہے کہ وہ مہمان کی تکریم کرے“۔ مہمان کا دروازے پر استقبال اور پھر اسے دروازے تک الوداع کرنے کی تاکید کی گئی۔ آپؐ کے اخلاق کا یہ عالم کہ کھانے کھلانے کے بعد بھی آپؐ نے کسی کو اپنے دسترخوان سے اٹھنے کو نہیں کہا…… یہاں تک کہ اللہ کووحی نازل کرنا پڑی کہ جب تم کھانا کھا چکو تو نبیؐ کے دسترخوان سے برخاست ہو جایا کرو، وہ حیا کے سبب تمہیں اٹھ جانے کا نہیں کہتے۔ حیا۔۔۔ حسین ترین اخلاق ہے۔ سبحان اللہ! ماجملک مااحسنک۔
باہمی معاملات میں وعدے کی پاسداری اور امانت داری ایمان داری کا حصہ ہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ایسا خطبہ کم دیا ہو گا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ ”جس آدمی میں امانت نہیں اس کا ایمان بھی کچھ نہیں اور جس میں وعدے کی پاسداری نہیں اس کا دین بھی کچھ نہیں۔ ایمان اور امانت داری لازم و ملزوم ہیں۔ ایک بددیانت شخص کو دین دار نہیں کہا جا سکتا۔ فرمایا گیا کہ مومن میں ہر برائی ہو سکتی ہے لیکن اس میں جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ اگر دیکھا جائے تو تمام اخلاقی برائیوں کی جڑ جھوٹ ہے۔ جھوٹا شخص امانت میں خیانت کرے اور جھوٹا وعدہ کرے گا۔ غصہ ایک ایسا ڈائنامائیٹ ہے جو اخلاق کی عمارت کو سبوتاژ کر دیتا ہے۔ ایک شخص حاضرِ خدمت ہوا اور آپؐ سے نصیحت کاطالب ہوا۔ آپؐ نے فرمایا ”غصہ نہ کیا کرو“۔ اس نے تین مرتبہ نصیحت چاہی اور اور آپؐ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا ”لاتغصب“۔

روئے زمین پر کسی تہذیب میں کوئی ایسی اخلاقیات نہیں جس کا سبق اخلاقِ محمدیؐ میں موجود نہ پایا جاتا ہو۔ فرمایا گیا ”جو شخص حق پر ہوتے ہوئے اپنا حق چھوڑ دے، یعنی جھگڑا نہ کرے، میں قیا مت کے دن اس کے حق کا ضامن ہوں“۔ سبحان اللہ! اخلاقِ محمدیؐ ہی زمانے میں اَمن کا ضمانت ہے۔ عام روز مرہ اخلاقی اقدار کے حوالے سے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اخلاقِ محمدیؐ میں سب کے لئے راہنمائی موجود ہے۔ آپؐ نے سلام کو عام کرنے کی تاکید کی، فرمایا کہ سلام کرنے سے دل میں و کدورت نہیں رہتی۔ جو شخص پہلے سلام کرتا ہے، اس کا اجر زیادہ بتایاگیا ہے۔ سلام میں پہل کرنے والا گویا اعلان کرتا ہے کہ اس کا دل نفرت اور تکبر سے پاک ہے۔ احادیث میں اپنے مومن بھائی کو مسکرا کر ملنے کو صدقہ قرار دیا گا ہے۔مسکراہٹ کے پھول کھِلنے سے معاشرے میں اِخلاق کی خوشبو اَزخود پھیل جاتی ہے۔

پیغمبرِ اخلاقؐ  نے فرمایا کہ مومن اپنے بہترین اخلاق کی وجہ سے (دن کو) روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے مقام کو پالتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ سے ایک شخص نے تین مرتبہ یہی ایک سوال کیا کہ دین کیا ہے؟ آپؐ نے تینوں مرتبہ ایک ہی جواب دیا ”اخلاق“۔ آپؐ نے فرمایا ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں“۔ آپؐ کا ارشاد ہے ”قیامت کے دن میزان میں کوئی چیز بھی اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہ ہو گی“۔

فتح مکہ کے موقع پر ایک فاتح کی طرف سے جس خلقِ عظیم کا مظاہرہ کیا گیا، تاریخ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ پیکر خلقِ عظیمؐ  نے اپنے جانی دشمنوں کو فراخ دلی سے معاف فرما دیا، کفار کے سپہ سالار کی معافی اور اسلام نہ صرف قبول کر لیا گیا بلکہ عزت افزائی کے طور پر اس کے گھر کو دارالامان بھی قرار دے دیا گیا۔ تالیفِ قلب کی ایسی مثال ڈھونڈنے سے نہ ملے گی۔ اپنے محبوب کے قاتلو ں کو معاف کرنا بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے۔ آپؐ کا اپنے محبوب چچا حضرتِ حمزہ کے قاتلوں، ہندہ اور حبشی کو معاف کردینا خْلقِ عظم کی بہترین مثال ہے۔

تبصرے بند ہیں.