جناب وزیراعظم، استاد پر رحم کیجئے!!

34

گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارا شعبہ تعلیم کثیر الجہت مسائل کا شکار ہے۔ ہر زمانے اور دور حکومت میں یہ مسائل موجود رہتے ہیں۔ ایک قضیہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔ ہر مرتبہ جب کوئی معاملہ درپیش ہوتا ہے تو متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کو باقاعدہ احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ کوئی نہ کوئی مہم چلانا پڑتی ہے۔ کبھی مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور کبھی جوں کا توں رہتا ہے۔اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سیاسی مسائل سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ ہر حکومت کو قومی معیشت کو بھنور سے نکالنے کے لئے بھی سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ دفاع اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات بھی حکومت کی خصوصی توجہ کے مرکز ہوتے ہیں۔ میڈیا کی دل جوئی کے لئے بھی حکومت کو کاوش کرنا پڑتی ہے۔ عدلیہ کے ناز نخرے اٹھانا بھی اس پر لازم ہوتا ہے۔ ا س صورتحال میں تعلیم اور صحت جیسے معاملات کی باری بہت بعد میں آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ ہسپتالوں سے باہر آ کر احتجاج کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی اپنے مطالبات منوانے کیلئے سڑکوں، شاہراہوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ اس صورتحال کا خمیازہ صرف مریضوں اور طالب علموں کو بھگتنا پڑتا ہے، تاہم کیا کریں کہ شور ڈالے بغیر کوئی آواز ارباب اختیار کے کانوں تک کم ہی پہنچتی ہے۔

آج کل اساتذہ کمیونٹی نہایت مضطرب ہے۔ وجہ یہ کہ وفاقی حکومت نے اساتذہ کو انکم ٹیکس پر حاصل 25 فیصد استثنی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس پر اساتذہ کے مابین تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔طویل عرصے سے اساتذہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ان کی مالی حالت پر توجہ دے۔ ان کی تنخواہوں، مراعات، الاونسز وغیرہ پر نظر ثانی کرے۔ خاص طور پر جامعات کے اساتذہ کو شکوہ ہے کہ ان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات افسر شاہی، عدلیہ اور دفاعی اداروں کے ملازمین کے مقابلے میں نہایت کم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ استاد ہی ہے جن سے پڑھ کر کوئی شخص بیوروکریٹ، جج یا جرنیل وغیرہ بنتا ہے۔ سو استاد کا حق ہے کہ اس کی تنخواہ ان عہدیداروں سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر تو ہو۔ ان شعبوں کے مقابلے میں اساتذہ کی تنخواہیں واقعتا کم ہیں۔ مراعات اور الاونسز بھی واجبی سے ہیں۔حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی صورتحال کے تناظر میں یہ اضافہ بھی ناکافی ہے۔ تاہم اساتذہ اور محققین کو حاصل انکم ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جاتا ہے تو اس اضافے کو بھی منفی ہی سمجھیں۔ یعنی جتنا اضافہ ہو گا، اس سے زیادہ ٹیکس کاٹ لیا جائے گا۔

یہ صورتحال یقینا اساتذہ کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہوگی۔ آپ استاد سے اچھی کارکردگی کی امید رکھتے ہیں تو پہلے اسے معاشی آسودگی فراہم کریں۔ مالی مشکلات کے باعث ذہنی دباو کا استاد اپنے شاگردوں پر کیا خاک توجہ دے سکے گا؟ وہ جو کہتے ہیں کہ۔۔ توں کی جانے یار فریدا، روٹی بندہ کھا جاندی اے۔ اس بات کا اطلاق استاد پر بھی ہوتا ہے ایک پریشان حال استاد سے آپ کسی علمی اور تحقیقی کارنامے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟۔ کسی زمانے (غالبا 2013) تک اساتذہ اور محققین کو انکم ٹیکس پر 75 فیصد چھوٹ حاصل تھی۔ پھر یہ چھوٹ سمٹ کر 40 اور بعد ازاں 25 فیصد تک رہ گئی۔ اب حکومت کو خیال آیا ہے کہ اساتذہ سے یہ 25 فیصد ریلیف بھی واپس لے لینا چاہیے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے اس ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے۔ مطالبہ کیا تھا کہ اساتذہ کے لئے 75 فیصد ٹیکس چھوٹ کو بحال کیا جائے۔یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم فپواسا نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھا ہے۔

معلوم نہیں کہ حکومت کو یہ نت نئے تجربے کرنے کے مشورے کون دیتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے وفاقی حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا بجٹ کم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ کمیشن کا سالانہ بجٹ 65 ارب روپے سے کم کر کے 25 ارب روپے کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ صوبائی جامعات کے لئے بجٹ ختم کر دیا گیا تھا۔ مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا۔ میڈیا نے آ واز اٹھائی۔ صوبائی حکومتوں نے پریشانی کا اظہار کیا تو وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ صوبوں اور جامعات نے اس پر سکون کا سانس ہی تھا کہ اب یہ نیا قصہ سامنے آ گیا ہے۔

اس وقت میاں شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ آپ سیاسی طور پر ان سے لاکھ اختلا ف کریں، لیکن ان کا ماضی گواہ ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب انہوں نے شعبہ تعلیم کی بہتری کیلئے اچھے اقدامات کئے تھے۔ اگرچہ ان کی زیادہ توجہ اسکول ایجوکیشن کی طرف مرکوز رہی، تاہم وہ تعلیمی امور کی کڑی نگرانی کیا کرتے تھے۔ ذاتی طور پر بھی شہباز شریف صاحب صرف پڑھے لکھے نہیں، بلکہ پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان کی حکومت میں تعلیم سے متعلق ایسی تجاویز کیوں سامنے آ رہی ہیں۔ معیشت اور حساب کتاب کے ضمن میں میری سمجھ بوجھ محدود ہے۔ کاش معیشت کا کوئی ماہر یہ حساب کر کے بتائے کہ اساتذہ کو حا صل انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے بھلا قومی خزانے کو کتنا فائدہ ہوگا؟ بر سبیل تذکرہ، حکومت نے کتابوں پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ یک طرف ہم یہ رونا روتے ہیں کہ ہمارے ہاں کتاب بینی کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ نوجوان نسل الٹے سیدھے یوٹیوبروں اور ٹک ٹاکروں کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرتے اور اپنی ذہنی استعداد متاثر کرتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کتابوں پر سیلز ٹیکس لگا کر قومی خزانے کو بھلا کتنا بھر لیں گے؟۔ جناب وزیر اعظم، لازم ہے کہ آپ ان تعلیمی معاملات کا نوٹس لیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے بجٹ میں کٹوتی کا فیصلہ بھی وزیر اعظم صاحب کی ہدایت پر واپس لیا گیا تھا۔ اس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنا رسوخ استعمال کیا تھا۔ اب بھی لازم ہے کہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، جناب وزیر اعظم کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کروائیں کہ استاد پر رحم کیا جائے۔

اس ضمن میں میری کچھ حکومتی اراکین سے بات ہوئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اساتذہ اور محققین کی کارکردگی کو ن سی ایسی قابل تحسین ہے، جو انہیں ٹیکس چھوٹ حاصل ہو۔ تعلیم کا معیار مسلسل گر رہا ہے۔ تحقیق میں چربہ سازی کے قصے عالمی سطح پر بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی داخلی سیاست اور عہدے حاصل کرنے کی دوڑ میں اساتذہ ہر حد عبور کر جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ ان کا یہ نکتہ نظر کسی حد تک درست ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا بیوکریسی، عدلیہ سمیت دیگر تمام ادارے اور ان کے ملازمین مثالی کاکردگی کے حامل ہیں؟۔ اساتذہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے یا تعلیمی اداروں میں ہونے والی سیاست اور عہدوں کی بندر بانٹ کا خاتمہ کرنا ہے تو ضرور کیجئے۔ لیکن اس معاملے کو تنخواہوں اور ٹیکس استثنیٰ کے ساتھ ہر گز مت جوڑیں۔

لازم ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب اساتذہ کی مالی مشکلات کے پیش نظر اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ اساتذہ کو حاصل 25 فیصد انکم ٹیکس چھوٹ کو بحال کرنے کی ہدایت جاری کریں۔ ممکن ہو تو انکم ٹیکس چھوٹ میں مزید اضافہ کیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.