نئی سازش شروع

33

صدیوں پہلے دنیا جمہوریت کے نام سے آشنا نہ تھی، بادشاہتیں تھیں اور تخت و تاج کے حصول کیلئے سازشیں ہر وقت ہر محل میں پلتی تھیں، سازشیں کامیاب ہو جاتیں تو بادشاہ وقت قتل کر دیا جاتا یا ہمیشہ کیلئے قید میں ڈال دیا جاتا۔ یہی سلوک اسکی اولاد اور وفاداروں کے ساتھ کیا جاتا۔ انکی آنکھیں نکلوا دی جاتیں اور کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈلوا دیا جاتا، سازش ناکام ہو جاتی تو بغاوت کرنے والے اس سلوک کے مستحق ٹھہرتے، امان ملتی تو صرف حسین شہزادیوں کو جو تخت و تاج کے مالک کے حرم میں شامل کر لی جاتیں بعض شہزادیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خود کشی کر لی لیکن زیادہ تر اپنے نئے شہنشاہ کی دل و جان سے خدمت کو اپنا شعار بنا لیتیں اور اپنے رشتہ داروں کیلئے سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہتیں۔ وقت بدل گیا زمانہ اور زمانے کے انداز بدل گئے۔ ایوانوں میں سازشیں اب بھی ہوتی ہیں کبھی کامیاب کبھی ناکام، کامیاب اور ناکام سازشوں کے بعد اب بھی وہی کچھ ہوتا ہے لیکن دور جدید کے اصولوں کے مطابق، اب آنکھیں نہیں نکلوائی جاتیں، کانوں میں سیسہ نہیں ڈلوایا جاتا، زبان میں کاٹی جاتی لیکن بعض انتظامات ایسے کیے جاتے ہیں کہ انسان دل کی بات زبان تک نہیں لا سکتا جو دیکھنا چاہتا ہے وہ دیکھ نہیں سکتا اور جو سننا چاہتا ہے وہ سن نہیں سکتا۔ مہذب ملکوں نے آئین و قانون بنا دیئے ہیں، اسکی تشریح عام آدمی کرے گا تو غلط ہو گی، حکومت کرے گی تو درست ہو گی۔ مہذب اور غیر مہذب ملکوں کی کہانی ایک ہی ہے۔ کچھ کہانیاں زبان زد عام ہوتی ہیں، کچھ کہانیاں کمروں کی دیواروں سے باہر نہیں نکلتیں لہٰذا دنیا سال ہا سال تک ان ملکوں میں شخصی آزادی و آزادی تحریر و تقریر کے گن گاتی رہتی ہے، کئی دہائیوں بعد معلوم ہوتا ہے عراق کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کا الزام بے بنیاد تھا، کرنل قذافی دنیا کے درجنوں منتخب سربراہان سے بہتر حکمران تھا، ایران پر پابندیوں کا کوئی جواز نہ تھا۔ جن مقاصد کے حصول کیلئے یہ سب کچھ کیا گیا پاکستان کے دو ٹکڑے بھی اسی مقصد کیلئے کیے گئے اور موثر انتظامات کیے گئے کہ کشمیر اور فلسطین اسکے حقداروں کو نہ مل سکیں، ان سے لہو رستا رہے۔ پھر جب دونوں کمزور پڑ جائیں تو حصے بخرے اپنی مرضی کے مطابق کر لیے جائیں، اک واری تقسیم ہو چکی دوسری ہونے کو ہے۔ کمزور ملکوں کے وسائل پر قبضے کرنا نئی راہ ہے، اب ملکوں کو فتح کرنے کی ضرورت پرانی ہوئی۔ ترجیح دوم ان ملکوں کو پنپنے نہ دینا ہے اور ایسے منصوبوں کو روکنا ہے جو اقتصادی طور پر بہتری کی جانب لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا منصوبہ سی پیک ایسے ہی منصوبوں میں سے ایک ہے، پاکستان میں ایٹم بم بنانے کے دعویدار بہت ہیں بھٹو، جنرل ضیا الحق، غلام اسحاق خان، نواز شریف کے نام قابل ذکر ہیں۔ سب کا کسی نہ کسی حد تک کردار ہے کچھ کا کردار ناقابل فراموش اور تاریخ کا سنہری باب ہے، سی پیک کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے۔ جناب نواز شریف کہتے ہیں یہ انکا منصوبہ ہے، پرویز مشرف ایک انٹرویو میں بتا گئے انہوں نے 2004 میں یہ منصوبہ شروع کیا، جنرل ضیا الحق زندہ ہوتے تو بتاتے یہ منصوبہ اسوقت شروع ہوا تھا جب شاہراہ قراقرم تعمیر ہو رہی تھی اور تکمیل کے قریب تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سب دعویداروں کا اس میں کردار ہے، سب کے زمانوں میں اس پراجیکٹ پر کام ہوا ہے، سب کے پیچھے افواج پاکستان کا کردار ہے، اسکے گارنٹر وہی ہیں۔ اس تمام عرصہ میں ساڑھے تین برس کا ایک ایسا اور بھی ہے جس میں اس پراجیکٹ پر کام بند کر دیا گیا بلکہ وزیر اعظم وقت نے اسکا اعلان بھی کیا۔ یہی وہ ایام ہیں جب پاکستان کے ساتھ بڑی بے انصافی کی گئی۔ آج اسکے ذمہ داروں میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام بھی لیا جا رہا ہے ان سے منسوب ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ صحافیوں سے ملاقات میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ہم تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھ سکتے۔ اس خیال کو بلا سوچے سمجھے رد نہیں کیا جا سکتا، اس میں گہرائی ہے۔ جنرل باجوہ ابھی خاموش ہیں، خاموشی کا زمانہ گزر جائے گا تو دل کی بات کہیں گے۔ عین ممکن ہے وہ کہیں کہ ہم تو حکومت وقت کے ماتحت تھے جو فیصلہ تھا وہ سول اور منتخب حکومت کا تھا۔ جنرل باجوہ اور خان کے ایک پیج پر ہونے کی داستان بہت دلچسپ ہے، کبھی معاملہ ہیر رانجھا کا سا تھا وقت بدلا تو دونوں ایک دوسرے کے نشانے پر آ گئے۔ اسد عمر نے تمام منصوبہ امریکہ اور عالمی بنک کے سامنے کھول دیا تھا۔ چینی سی پیک کے معاملے پر دودھ کے جلے ہیں لہٰذا چھاچھ کو پھونک پھونک کر پینے لگے۔ طویل تعطل کے بعد اس منصوبے پر ایک مرتبہ پھر کام شروع ہوا ہے، سیاسی بحران ہمارے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی نظر آ رہا ہے۔ پس انہوں نے بہتر جانا کہ ایک میز پر بیٹھ کر تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ بات کھول لی جائے کہ کسی کو یہ منصوبہ ناپسند تو نہیں، اس نشست کا اہتمام بظاہر تو حکومت نے کیا لیکن انکی کوششیں بھی قابل تعریف ہیں جو اسکے گارنٹر ہیں ورنہ تلوار بکف مولانا فصل الرحمن اور انصافی دو چہرے اس میں نظر نہ آتے۔ تحریک انصاف اگر صدق دل سے اس میز پر آتی تو انکی نمائندگی مرکزی راہنما کرتے یہی بہتر ہوتا لیکن قومی اہمیت کے اہم ترین منصوبے کے حوالے سے اجلاس میں انکی شمولیت خانہ پری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کا پارٹی سے باہر کتنا مقام ہوتا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ پھر سیکرٹری اطلاعات بھی ایسا جس کی سیاسی عمر ایسی ہے کہ وہ ابھی خود کروٹ بھی نہیں بدل سکتا۔ انصافی امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، سی پیک کے دشمن ایک سے زائد ہیں، یہ انکے نشانے پر رہا ہے، آئندہ بھی رہے گا۔ ہم اسے محفوظ کیسے رکھ سکتے ہیں یہ ہمارا امتحان ہے۔ یہ لہو لہان ہو کر منزل تک پہنچا تو سفر پُر لطف نہ ہو گا، نئی سازش شروع ہو چکی ہے۔ چینی یہ بھی چاہتے ہیں کہ سی پیک کے فنڈز صرف اسی پر خرچ کیے جائیں، اونٹ کے گلے میں خواہ مخواہ بلی نہ باندھی جائے، انکا یہ مطالبہ سراسر جائز ہے لیکن ضروری نہیں کہ ”نیلم جہلم فنڈ“ کی طرز پر اب سائیڈ پروگرام چلانے کیلئے سی پیک کے نام سے ایک نیا ٹیکس عائد کر دیا جائے۔ ٹیکس ترجیحات کا ایک مکروہ چہرہ دیکھیے۔ ایلو پیتھک ادویات پر ٹیکس ایک فیصد اور حکما کی دوائیوں پر ٹیکس اٹھارہ فیصد ہے۔ تیرہ ہزار ارب روپے ٹیکس دینے والوں پر نئے ٹیکس بلا جواز ہیں، دس دن میں پانچ ارب روپے کے قربانی کے جانور بیچنے والوں کو کسی نے نہیں پوچھا۔

تبصرے بند ہیں.