حاجیوں کی اموات کیوں ہوئیں؟

31

سعودی عرب میں رواں برس حج کے دوران اب تک ایک ہزارسے زائدعازمین جاں بحق ہوچکے ہیں اس تعدادمیں اضافے کاخدشہ ہے، اس حوالے سے سعودی حکام کا جوموقف سامنے آیاہے کہ دورانِ حج انتقال کر جانے والے بیشتر افراد حج ویزے پر نہیں بلکہ سیاحتی یا وزٹ ویزا پر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہوئیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے بتایا ہے کہ اس سال 1445 ہجری میں 18,33,164 افرادنے حج کی سعادت حاصل کی۔ گزشتہ سال18لاکھ 45 ہزار مرد و خواتین عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی تھی یوں دیکھا جائے توگزشتہ سال بھی گرمی تھی اور تعدادبھی زیادہ تھی مگراتنی اموات نہیں ہوئیں۔ اس سال 16,11,310 عازمین حج دنیا بھر سے حج کرنے تشریف لائے تھے جبکہ سعودی حجاج کرام کی تعداد 2,21,854 رہی۔ ان ملکی حجاج میں سعودی شہری اور سعودی رہائشی دونوں طرح کے افراد شامل ہیں۔ مرد عازمین حج کی تعداد 9,58,137 اور خواتین کی تعداد 8,75,027 رہی۔ عازمین حج میں سے 15,46,345 ایئرپورٹس، 60,251 زمینی راستوں جبکہ 4,714 حجاج کرام بحری راستے سے سعودی عرب داخل ہوئے۔
اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ اٹھارہ لاکھ سے زائد حجاج سے سعودی حکومت کو کتنی آمدن ہوئی، سعودی حکومت کبھی سامنے نہیں لاتی۔ سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کی کمائی حاصل کرنے کے بعد بھی سعودی حکومت حاجیوں کے لیے بہتر انتظامات کیوں نہیں کرتی۔ پاکستان سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار عازمین حج کی سعادت حاصل کی، پاکستان کا حج کوٹہ 1,79,210 تھا مگر حج مہنگا ہونے کی وجہ سے درخواستیں کم آنے پر 21 ہزار کا کوٹہ سعودی عرب کو و اپس کر دیا گیا تھا حالانکہ آبادی کے حساب سے پاکستان کا حج کوٹہ ڈھائی لاکھ کے قریب بنتا ہے۔

اب ہم آتے ہیں کہ اس سال اتنی بڑی تعداد میں حاجیوں کی اموات کیوں ہوئیں۔ سعودی حکومت کے مطابق اب تک 1082 عازمین جاں بحق ہو چکے ہیں، گزشتہ سال تقریباً 240 حاجی جاں بحق ہوئے تھے، یوں اس سال گزشتہ سال کے مقابلے کئی گنا زیادہ اموات ہوئیں۔ سعودی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں میں سے 658 کا تعلق مصر، 200 سے زائد عازمین انڈونیشیا، 98 انڈیا، 58 پاکستان سے جبکہ ملائیشیا، امریکہ، اردن، ایران، سینیگال، تیونس، سوڈان اور عراق کے خود مختار کردستان کے حاجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ عازمین حج اور میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی موقف درست نہیں بلکہ شدید گرمی کے ساتھ ساتھ بد انتظامی کی وجہ سے حاجیوں کی اموات ہوئیں، ماضی میں شیاطین کو کنکریاں مارنے کے موقع پر بھگدڑ مچ جانے کی خبریں سامنے آیا کرتی تھیں جن میں بے شمار حجاج کرام کے جاں بحق ہوتے تھے۔ سعودی حکومت نے بھگدڑ مچنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے جانے اور آنے کے راستے الگ کر دئیے۔ جس راستے سے حجاج کرام جمرات پہنچتے ہیں، اب اسے واپسی کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ انہیں واپس دوسرے راستے سے آنا پڑتا ہے۔ یوں حاجیوں کو سات سے پندرہ کلومیٹر کا فاصلہ شدید گرمی میں طے کرنا ہوتا ہے۔ اس سے بھگدڑ مچنے کا سلسلہ تو بند ہو گیا لیکن حجاج کرام کے لیے منیٰ تک کا فاصلہ بڑھ گیا۔ جوانوں کے لیے یہ فاصلہ بے معنی سہی لیکن بزرگوں، ضعیفوں، بیماروں اور خواتین کے لیے بہت مشکل پیدا ہو گئی ہے۔ یہ لوگ موسم کی شدت اور سورج کی حدت برداشت نہیں کر پاتے۔ سو مضمحل ہو کر کسی نہ کسی جگہ گر جاتے ہیں۔ سعودی شُرطے انہیں بے رحمی سے اٹھاتے ہیں اور چلتے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عازمین نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امسال حاجیوں کے منیٰ سے جمرات کے مختصر فاصلے کو طے کرنے کے لیے جو راستے بنائے گئے تھے وہ اس طرح سے ڈیزائن کیے گئے تھے کہ حجاج کو کئی میل اضافی سفر کرنا پڑا۔

ماضی میں مکاتب تک جانے کے جو یوٹرن تھے وہ کھلے ہوتے تھے مگر اس مرتبہ وہ سارے راستے اور یوٹرن بند کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ایک عام حاجی کو بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے حتیٰ کہ اگر اس کا خیمہ زون ون میں اے کیٹگری میں ہے تب بھی اسے اپنے خیمے تک جانے کے لیے گرمی میں کئی کلومیٹر اضافی پیدل چلنا پڑا اور راستے میں پانی و سائے کا بھی بندوبست نہیں تھا۔ امسال بھی زیادہ ترحاجیوں کی اموات انہی راستوں پر ہوئیں، سعودی حکومت ان راستوں کوآسان بنا سکتی ہے مگر اس طرف توجہ نہیں دے رہی۔ اس کے علاوہ پاکستانی عازمین نے بتایا ہے کہ ہمارے ساتھ جانوروں جیسا برتاؤ کیا گیا ان کے بقول منیٰ میں گزرے دن اذیت ناک تھے جب ایک خیمے میں 8 سو افراد تھے اور اس تعداد کے حساب سے بہت کم واش رومز تھے۔ خیموں کے اندر جو کولر لگائے گئے ان میں زیادہ اوقات پانی ہی نہیں ہوتا تھا۔ ان خیموں میں اتنی گھٹن تھی کہ ہم پسینے میں شرابور رہتے تھے۔ سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات ناکافی اور شکایت کرنے پر اہلکار سنتے ہی نہیں تھے۔ ان سے بات کرنا ایسے ہے جیسے دیوار سے سر ٹکرانا۔ مزدلفہ ایک اندھیر کوٹھڑی کی طرح تھا جہاں بجلی تھی نہ پانی۔ اتنی بدنظمی تھی کہ عربوں کا جب دل چاہتا دروازے بند کر دیتے، جب دل چاہتا دروازے کھول دیتے تھے۔ مزدلفہ میں پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے حجاج کو جو جگہ دی گئی تھی وہ پہاڑوں کے درمیان گہرائی میں تھی اور وہاں لوگ گھٹن کا شکار ہوئے اور اتنی گرمی میں کچھ لوگ واش رومز کے باہر سونے پر بھی مجبور ہوئے۔

جو لوگ منیٰ سے واپس آئے انہیں واپسی میں کئی گھنٹے لگے ٹیکسی والوں نے الگ سے لوٹ مار مچا رکھی تھی۔ منیٰ سے مکہ تک ٹیکسی والے 2 ہزار ریال مانگ رہے تھے۔ وزار ت مذہبی امور پاکستان اور پرائیویٹ کمپنیوں کی بدانتظامی ہمیشہ کی طرح امسال بھی دیکھنے میں آئی، عازمین کے مطابق پاکستانی رضا کار بھی تعاون نہیں کر رہے تھے۔ حالانکہ پاکستانی عازمین رضا کاروں کا خرچہ بھی ادا کرتے ہیں مگر یہ بلڈنگ کی ریسپشن میں بیٹھے رہتے تھے اور مشاعر کے دنوں میں ایک بھی مدد کے لیے موجود نہیں تھا اور یہ بس یہی کہتے رہے کہ سب کچھ سعودی حکومت کے ذمے ہے۔

ایک اور حاجی نے بتایا کہ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ میں کھانا تو چھوڑیئے پانی تک پاکستانی عازمین کو نہیں دیا گیا حالانکہ حج پیکیج میں اس حوالے سے بڑی رقم وصول کی جاتی ہے۔ عرفات میں بنے کیمپوں میں بیٹھنے کی جگہ بہت محدود تھی۔ شدید گرمی میں لوگوں کو باہر بیٹھنا پڑا یا اندر جگہ لینے کے لیے لڑائی جھگڑا کرنا پڑا۔ کیمپوں میں لوگوں کو ایسے ہی رکھا گیا تھا جیسے کسی فارم میں مرغیوں یا جانوروں کو رکھا جاتا ہے، بستروں کے درمیان گزرنے کی جگہ تک نہیں تھی اور سیکڑوں افراد کے لیے گنتی کے چند واش روم تھے۔

تبصرے بند ہیں.