بجلی کے کمر توڑ بل

45

ارضِ وطن میں موسمِ گرما اپنی پوری شدتوں کے ساتھ جاری ہے۔ ایسے شدیدترین موسم میں محض بجلی ہی ایک ایسا سہارا ہے جسے آپ زندگی بچانے کا حربہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہاں مگر یہ عالم کہ اے سی تو کجا محض ایک دو پنکھوں کا بجلی کا بِل بھی استطاعت سے باہر ہوچلا۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر بجلی کابِل ادا کردیں تو گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور انسان نانِ جویں کا محتاج۔ تکلیف دہ امر یہ کہ ہم جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں اُس سے کئی گُنا زیادہ بِل ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت خوب جانتی ہے کہ بڑھتے ہوئے بلوں کی وجوہات کیا ہیں لیکن وہ بھی اِن وجوہات کا تدارک کرنے میں بے بَس نظر آتی ہے۔ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے۔ یوں تو پنجاب میں بھی بجلی چوری کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن پنجاب حکومت بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی رہتی ہے۔ اِس وقت تک پولیس نے صوبے بھر میں چوروں کے خلاف لگ بھگ ایک لاکھ مقدمات درج کررکھے ہیں۔ دیگر صوبوں میں یہ کریک ڈاؤن خال خال ہی نظر آتا ہے۔ بجلی چوری کے علاوہ آئی پی پیزکا گھُن جوناقابلِ برداشت ہوچکا۔
لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے 1994ء میں بینظیربھٹو نے 15انڈی پینڈنٹ پاورکمپنیز (آئی پی پیز) کو بجلی بنانے کے لیے کہا۔ اِن کمپنیز کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ حکومت اُن کی پیداواری گنجائش کے مطابق تمام بجلی خریدے گی۔ یعنی اگر حکومت کو 100 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اور اِن کمپنیوں کی گنجائش 200 میگاواٹ ہے تو حکومت نہ صرف یہ تمام بجلی خریدنے کی پابند ہوگی بلکہ ادائیگیاں بھی ڈالرز میں کی جائیں گی۔ 2002ء تک 30 کمپنیاں بجلی پیدا کررہی تھیں جبکہ جنرل پرویزمشرف کے دَور میں 2006ء تک اِن کی تعداد 68تک پہنچ گئی۔ 2015ء میں نوازلیگ کی حکومت نے بھی 7 سرمایہ کاروں کو آئی پی پیزکے لائسنس جاری کیے۔ اِن تمام کمپنیز کے ساتھ معاہدے اُنہی خطوط پر کیے گئے جن پر 1994ء میں بینظیر نے کیے تھے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ واپڈا اور آئی پی پیز مل کر لگ بھگ 38ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جبکہ ملکی ضرورت کسی بھی صورت میں 30ہزار میگاواٹ سے زیادہ نہیں اور فالتو میگاواٹس کی آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائیگی کی جارہی ہے۔ طُرفہ تماشہ یہ کہ واپڈا پانی سے جوبجلی پیدا کرتا ہے اُس کی قیمت ساڑھے3 روپے فی یونٹ ہے جبکہ آئی پی پیز سے واپڈا 80روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں آئی پی پیز کو 18ہزار ارب روپے کی ادائیگی کی جاچکی جبکہ خریدی جانے والی بجلی کی کل مالیت 10ہزار ارب روپے بھی نہیں۔ گویا ڈالرز میں 8ہزار ارب روپے کی فالتو ادائیگی کی گئی جو پیداواری گنجائش کی مَد میں تھی۔ اگر کسی بھی صورت میں اِن آئی پی پیز سے جان چھُڑا لی جائے تو بجلی کے بِل کہیں کم ہوسکتے ہیں۔ سوال مگر یہ کہ کیا اِن کمپنیوں کے اربابِ اختیار کے دلوں میں خوفِ خُدا یا انسانیت کادرد ہے؟۔
اگر ایک طرف آئی پی پیز نے لوٹ مارکا بازار گرم کر رکھا ہے تو دوسری طرف بجلی چور بھی کسی سے کم نہیں۔ کے پی، بلوچستان اور اندرونِ سندھ میں بجلی چوری کی شرح اِس حدتک بڑھ چکی کہ سرکاری دستاویز کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خاں، ٹانک اور شانگلہ میں 100فیصد صارفین کُنڈے ڈال کرقومی خزانہ لوٹ رہے ہیں۔ مردان میں بجلی چوری سے 11بلین کا نقصان ہوتا ہے۔ سوات کو 16بلین کی بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ وصول 14بلین ہوتے ہیں۔ ایک دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ماہانہ 49ارب 9کروڑ روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ ایک سال کے دوران 116ارب 50کروڑ یونٹس خریدے گئے جبکہ 97ارب 34کروڑ صارفین کو فروخت کیے اور 19ارب 17کروڑ چوری اور کُنڈے کی نذر ہوگئے۔
پشاور اِس معاملے میں سرِفہرست جہاں 77ارب روپے کے یونٹس چوری ہوئے۔ وفاق اور خیبرپختونخواہ حکومت کے درمیان بجلی کا تنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ڈی آئی خاں میں ایک ہجوم کے ہمراہ گرڈ سٹیشن میں داخل ہوکر بجلی بحال کردی اور ساتھ ہی وزیرِاعظم میاں شہبازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”میں آئی ایم ایف کوبتا دوں گا کہ حکومت ہمارے نام پرپیسے لے کر اپنی جیبیں بھرتی ہے۔ مجبور نہ کریں کہ آپ کی حکومت کو دھکا دے کر نکالیں پھر لانے والے بھی آپ کو نہیں بچا سکیں گے“۔ گنڈاپور نے نیشنل گرڈ کی بجلی بند کرنے کی بھی دوبارہ دھمکی دی۔ وہ ہرروز ایسی ہی بڑھکیں مارتا رہتا ہے۔ نیشنل گرڈ سٹیشن مرکزی حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں جہاں گنڈاپور نے زبردستی گھُس کربجلی بحال کی۔ یہ ویسا ہی عمل ہے جیسا 9مئی کو کیا گیا۔ پھر بھی حکومت پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت خاموش ہے۔ دراصل تحریکِ انصاف کی شدیدترین خواہش ہے کہ ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا کی جائے تاکہ ملک ڈیفالٹ کرجائے اور وہ خوشی سے بغلیں بجاتی پھرے۔ شاید یہی مصلحت آڑے آرہی ہوکہ تحریکِ انصاف کے شَرپسندوں پر ہاتھ ڈالنے سے افراتفری کا خدشہ ہے جس کا فی الحال ملک متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ آئی ایم ایف سے اگلا معاہدہ بہت ضروری اور افراتفری کی صورت میں اِس معاہدے کی تکمیل ناممکنات میں سے۔
بات دوسری طرف نکل گئی، آمدم بَرسرِ مطلب سندھ اور بلوچستان میں بھی صورتِ حال ویسی ہی جیسی خیبرپختونخو میں۔ سیکرٹری پاور راشد لنگڑیال کے مطابق سندھ کے ضلع جیکب آباد میں سب سے زیادہ (59فیصد) بجلی چوری ہوتی ہے۔ لاڑکانہ میں 57فیصد، شکارپور، دادو اور نوشہروفیروز میں 52 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے جبکہ نواب شاہ میں بجلی چوری کی شرح 43فیصد ہے۔ حیدرآباد میں بِل جمع کرانے کی شرح 5فیصد، ٹنڈوالہ یار میں 9فیصد، ٹنڈومحمد خاں میں 15فیصد ہے۔ سکھر میں 40فیصد اور لاڑکانہ میں 60فیصد صارفین کُنڈے ڈالتے ہیں۔ بلوچستان میں پشین، سِبی، مکران، خضدار اور لورالائی میں کُنڈا کلچر عام ہے۔ اِس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں یونٹس کی مَد میں 300 ارب روپے کا نقصان کرتی ہیں جبکہ 200 ارب روپے کے بِل وصول ہی نہیں کیے جاتے۔
بجلی چوری کے علاوہ ہر ماہ ہزاروں یونٹس اعلیٰ سرکاری افسران، ججز، جرنیلوں اور واپڈا ملازمین کو مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اِس مفت سہولت کی وجہ سے بجلی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہمارے شاپنگ مالز اور بازاروں میں بھی بجلی کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے بازار اور شاپنگ مالز دوپہر 12بجے کے بعد کھُلتے اور رات گئے بند ہوتے ہیں جبکہ امریکہ اور یورپ جیسے امیر ممالک میں شاپنگ مالز اور بازار سرِشام بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں یہ نظام رائج کرنے کی کوشش کی جائے تو تاجر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہی کہ اِن سب کا علاج ”آہنی ہاتھ“ جو ہمارے حکمرانوں کے پاس نہیں۔

تبصرے بند ہیں.