ایک اور نئی سیاسی پارٹی!

32

سیاست کے منظر نامے میں نئی سیاسی جماعتوں کا ظہور اکثر ان شخصیات کے عزائم اور مایوسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جنہوں نے سیاست کے میدان میں طاقت اور اختیارات کے اتار چڑھاو کا تجربہ تو کر لیا ہو لیکن اب وہ اس شعبہ کی نئی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہوں۔
تاریخ ایسے سیاسی راہنماوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اقتدار کے دوران اپنی پارٹیوں میں اہم عہدوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد آزادانہ سیاسی منصوبے شروع کر کے اپنے ہی متعین کردہ راستے پر گامزن ہونے کا انتخاب کیا۔
کسی بڑی سیاسی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے اور ایک نئی جماعت بنانے کا فیصلہ یقینا کوئی آسان بات نہیں۔اکثر اس قسم کے فیصلوں کی بنیادی وجوہات ذاتی اور نظریاتی اختلافات ہوتے ہیں۔ ان اختلافات کو پارٹی پالیسی، طرز حکمرانی، یا پارٹی قیادت کی جانشینی جیسے فیصلوں سے انحراف کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، ذاتی خواہشات اور ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی بھی اس قسم کی سیاسی صورتحال بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔وہ سیاست دان جنہوں نے اعلیٰ عہدوں،اثر و رسوخ اور اختیارات کا مزہ چکھ لیا ہو وہ سیاسی منظر نامے کو اپنے ویژن کے مطابق ڈھالنے کی خواہشات کو پال سکتے ہیں۔بلاشبہ ایک نئی پارٹی کا آغاز انہیں ایک الگ شناخت بنانے کا موقع تو فراہم کر ہی دیتا ہے۔
ایک نئی پارٹی بنانے کے لیے نہ صرف خاطر خواہ مالی وسائل درکار ہوتے ہیں بلکہ ایک وفادار سپورٹ بیس کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور انتخابی سیاست کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک نئی پارٹی کا آغاز سیاست دانوں کو روایتی سیاست سے عوامی مایوسی کا بھر پور انداز میں فائدہ اٹھانے کا موقع بھی مہیاکر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سیاستدان خود کو تبدیلی کے ایجنٹ، معیشت کے معمار، عوام کے وفادار اور نئے خیالات کے حامی کے طور پیش کرتے ہیں۔ اکثر اوقات اس قسم کا سیاسی سٹنٹ بری طرح ناکام ہو جاتا ہے اور تبدیلی لانے کے یہ علمبردار ایک مرتبہ پھر سے اپنی پرانی پوزیشن، یعنی روائتی سیاستدانوں کے درمیان، کھڑے پاے جاتے ہیں۔
تازہ خبر یہ ہے کہ نواز لیگ کے دور حکومت میں اعلیٰ ترین عہدوں یعنی وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے عہدوں کے مزے لوٹنے کے بعد پارٹی کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اس سے علیحدگی ااختیار کر لینے والے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل اب ’عوام پاکستان‘کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کر چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ اعلان 6 جولائی کو کیا جائے گا۔
اگرچہ پارٹی تو نئی لانچ ہونے جا رہی ہے لیکن اس کی لانچنگ سے متعلق نعرہ وہی گھسا پٹا رکھا گیا ہے، ’ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے۔‘ کیا ہی اچھا ہو اگر ہمارے سیاسی قائدین نئی سیاسی پارٹیاں بنانے کے ساتھ ساتھ کوئی زوردار پروگرام یا کم از کم نئے نعرے ہی متعارف کروانے کی کوشش کریں۔اس طرح سے کچھ اور نہیں تو کم از کم نعروں کی نئی ورائٹی تو دیکھنے میں آئے گی۔ ویسے جس قسم کے کرداروں کی اس نئی بننے والی پارٹی میں شمولیت کی بات کی جارہی ہے اور جس قسم کا نعرہ دیا گیا ہے اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ ایک نئی پیکنگ میں وہی پرانا مال فروخت کرنے کی تیاریاں ہیں۔
پارٹی کے منشور کے بارے میں بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہناہے کہ ان کی پارٹی کا مقصد حکمرانی کے نظام کو تبدیل کر کے عوام کو فیصلہ سازی میں بنیادی کردار مہیا کرنا ہے۔ سابق وزیر خزانہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سردار مہتاب عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، جاوید عباسی، سید زعیم قادری، رانا زاہد توصیف، زاہد بنوری، اور سردار انور سومرو سمیت ملک بھر کے کئی ”ہیوی ویٹ” سیاستدانوں ان کی پارٹی کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان کے صحت سے متعلق معاون ڈاکٹر ظفر مرزا اور ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین کی بھی شاہد خاقان عباسی کی قیادت والی بننے والی سیاسی پارٹی میں شمولیت کی باتیں ہو رہی ہیں۔
جس طرح نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے بعد سیاسی صورتحال کو بیلنس کرنے کے لیے اس وقت کے پی ٹی آئی کے اہم ترین راہنما جہانگیر ترین کو بھی تا حیات نااہلی کا پروانہ تھما دیا گیا تھا،کیا عوام پاکستان پارٹی کے قیام کے اعلان سے یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ جس طرح کچھ عرصہ قبل پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے دو بڑے رہنماؤں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی جانب سے اپنی اپنی سیاسی پارٹیاں بنا لی گئی تھیں ٹھیک اسی طرح سیاسی اتار چڑھاو کو بیلنس کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے اہم راہنماوں کی قیادت میں ایک نئی سیاسی پارٹی قائم کی جا رہی ہے؟۔
اگر ایسا ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جس طرح عام انتخابات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے استحکام پاکستان پارٹی کچھ نشستوں پر کامیاب ہو گئی تھی، کیا اسی فارمولا کے تحت’عوام پاکستان‘ پارٹی بھی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ملا کر کچھ نہ کچھ سیاسی فائدے اٹھانے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں؟
میرے ذاتی خیال میں تو شاہد خاقان عباسی کی سیاست کا حال جہانگیر ترین سے بھی بدتر ہو نے والا ہے، کیونکہ ترین صاحب کو تو ڈوبتے ڈوبتے نواز لیگ کا سہارہ مل ہی گیا تھا لیکن اس بات کے بہت ہی کم بلکہ نا ہونے کے برابر امکانات ہیں کہ عمران خان انکی پارٹی سے کسی قسم کا کوئی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے۔
اس بات کے بھی قوی امکانات موجود ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کی پارٹی کا حال بھی مصطفی کمال جیسا ہوگا کہ تمام تر بڑھک بازی اور بڑے بڑے دعوے کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد چپ چاپ پرانی تنخواہ پرو ہی نوکری دوبارہ کر لی۔
سیاسی امور کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی تعداد میں اضافہ ایک خوش آئند عمل ہے کیونکہ اس سے نہ صرف عوام کو سیاسی عمل میں بہتر انداز میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ مقابلے بازی کی فضا ہمارے سیاستدانوں کو بھی زیادہ موثر انداز میں عوام کی خدمت کرنے کی توفیق ہو جائے۔

تبصرے بند ہیں.