دوسروں کیلئے زحمت کا باعث نہ بنے

33

عیدالاضحی کا تہوار پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہری مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ سنت ابراھیمی کی ادائیگی تو یقینا ایک احسن عمل ہے لیکن افسوس کہ ہمارے کچھ عوام اس مقدس تہوار کو بھی دوسروں کے لیے اذیت بنا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور حکومتیں بھی تمام تر دعووں کے باوجود عوام کو وہ سہولیات اور تحفظ فراہم نہیں کر پاتیں جو ان کا حق ہے۔

اگر شہروں کی صفائی ستھرائی اور ماحولیاتی آلودگی کنٹرول کرنے کی ہی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومتی سطح پر خاطر خواہ کوششیں کی جاتی ہیں، شائد اس سال کچھ زیادہ کی گئی ہوں گی۔ لیکن یہ تمام اس وقت ناکافی معلوم ہوتی ہیں جب کچھ غیر ذمہ دار شہری جانے انجانے ان تمام تر کاوشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اپنے اس قسم کے رویے سے اس مقدس تہوار کی روح کو متاثر کر دیتے ہیں۔
اکثر لوگ بہت مہنگے مہنگے جانور تو خرید لاتے ہیں لیکن ان کے لیے چارہ کی خرید میں بچت دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں کے باہر اور گرین بیلٹس میں لگے ہوئے پودوں اور باڑوں کو نوچ نوچ کر تقریباً گنجا ہی کر دیتے ہیں۔

شائد حکومتی انتظامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا وہ قربانی کے جانور کی آلائشیں اور کوڑا کرکٹ دوسروں کے گھروں کے سامنے اور سڑکوں اور گلیوں میں ہی پھینکیں گے۔

اس سال بھی عید کے موقع پر پنجاب حکومت نے بھر پور انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر ایک خصوصی مہم بھی چلائی کہ قربانی کے موقع پر ان کی جانب سے آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے خصوصی بیگز فراہم کیے جائیں گے۔ لوگوں نے صرف ایک کال کرنا تھی اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا عملہ ان کے گھروں سے یہ آلائشیں اٹھانے کے لیے مستعد تھا، لیکن اس کے باوجود شہر میں گند ڈالنے اور دوسرے شہریوں کے لیے پریشانی کی صورتحال پیدا کرنے کی گندی عادت کی تسکین کے لیے لوگ سڑکوں اور ہمسایوں کے گھروں کے سامنے آلائشیں پھینکنے سے باز نہیں رہے۔

اس صورتحال میں اب حکومت کو بھی غور کرنا چاہیے کہ جو کردار ایک موثر میڈیا مہم چلائے جانے اور تمام تر سہولیات مہیا کیے جانے کے باوجود شہر کو آلودہ کرنے پر آمادہ ہیں یقینا ان کا علاج کسی پیار محبت والی صورتحال میں تو ممکن نہیں تو کیوں نہ ایسے کرداروں کے لیے بھاری جرمانوں اور جیل یاترہ جیسی آپشنز پر غور کیا جائے۔

یقیناً گلیوں اور عوامی مقامات پر جانوروں کے فضلے اور قربانی کے جانوروں کی وجہ سے پیدا ہونے والا دیگر ملبہ پھینکنے والے کردار نا صرف شہر میں آلودگی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں بلکہ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے عوام بالخصوص بچوں کی صحت کوبہت سے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

جہاں حکومت سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے موقع پر شہروں کو آلودگی کے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرتی ہے وہیں اسے چاہیے کہ وہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ رکھے جانے والا ناروا سلوک بالخصوص بڑے جانوروں کو اناڑی قصابوں کے ہاتھوں ذبح کرنے کے غلط طریقے جیسے ظلم کے واقعات کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کرے۔ اگر جانوروں کی بہبود کے قوانین کا ہی ٹھیک طرح سے نفاذ کر دیا جائے تو معاملات کافی حد تک کنٹرول میں آ سکتے ہیں۔

اگرچہ عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کے معاملات کے حوالہ سے حکومت پنجاب کی نیت بہت اچھی رہی اور لاھور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا عملہ بھی اس موقع پرجانوروں کے فضلے اور عام کوڑے کی بڑی مقدار کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا اور اس کام کی انجام دہی کے لیے دستیاب ٹرانسپوٹ کے علاوہ متعدد گاڑیاں کرایہ پر بھی حاصل کی گئیں، لیکن اس کے باوجود اگر یہ کہا جائے ایل ڈیلیوایم سی کی نیت تو اچھی رہی لیکن اس کے وسائل میں اضافہ کی ضرورت ہے تو زیادہ غلط نہ ہو گا۔
پنجاب حکومت کو اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے کہ کسی بھی چھٹی کے روزہسپتالوں میں ڈیوٹی ڈاکٹر اور سٹاف کے علاوہ کوئی بھی عملہ موجود نہیں ہوتا۔ خدا نخواستہ کسی سیریس بیماری اور حادثہ کی صورت میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو کافی زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر ہسپتالوں اور طبی مراکز کو قربانی کی رسومات سے متعلق چوٹوں، انفیکشنز اور صحت کی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ طبی سامان کی محدود دستیابی،ناکافی سٹاف اور سہولیات کی کمیابی بھی تہوار کے موقع پر صحت کے حوالہ سے حکومتی دعووں کی نفی کرتے رہے۔

حکومت پنجاب کو اس طرف بھی توجہ دینا چاہیے کہ صوبہ میں پولیسنگ اور حفاظتی اقدامات ناکافی ہونے کی وجہ سے عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر چوری، حادثات اور جھگڑوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ علاقوں میں، قربانی کے جانوروں کی قیمتوں یا تقسیم سے متعلق تنازعات پر کشیدگی بھڑک اٹھتی ہے۔یقینا یہ ایسے مسائل ہیں کہ جن پر قابو پانے کے لیے صرف اور صرف ایک اچھی حکمت عملی درکارہوتی ہے۔

عید کے موقع پر بجلی اور گیس کی بندش اور پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، عوام کے لیے تکالیف میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس مرتبہ اگر بجلی کی فراہمی کے معاملات قدرے بہتر رہی توآدھا آدھا دن گیس غائب رہی۔ شدید گرمی کے موسم میں عید کے موقع پر بھی گیس کی اتنی لمبی بندش کی کیا وجوہات تھی یہ تو شہباز شریف صاحب بہتر بتا سکتے ہیں یا مریم نواز صاحبہ۔

ویسے تو عام دنوں میں بھی ان کی بھرپور انداز میں ضرورت ہے لیکن تہواروں کے موقع پر بالخصوص ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے افراد اور حکام دونوں کی جانب سے تہذیب، ہمدردی اور موثر حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔ یقینا ایسی صورتحال میں ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں کہ جہاں مذہبی تہواروں کو احترام، تحفظ اور سماجی ذمہ داری کے ماحول میں منایا جا سکے۔

تبصرے بند ہیں.