مزید صدمات کیلئے تیار رہیں

34

 

جوئے بازی کی تاریخ بہت پرانی ہے جن کھیلوں پر جوا کھیلا جاتا تھا ان میں شطرنج کا کھیل شامل ہے، اسے بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے۔ شطرنج کی بازی کئی کئی روز تک کھیلی جاتی تھی فکر روزگار میں جکڑا عام آدمی اسکے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا، معاش کی فکر سے آزاد بے فکرے یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ بادشاہوں سے زیادہ بے فکرا کون ہو گا، پس انہوں نے اس کھیل کو آگے بڑھایا، بادشاہ شطرنج کی بساط بچھاتے تو انکے چونچلے بھی عجیب ہوتے تھے۔ ہار جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہے لیکن بادشاہ کبھی اپنے منہ چڑھے مصاحب کے ساتھ شطرنج کھیلتا تو جیت ہمیشہ بادشاہ کی ہی ہوتی۔ قرب خاص حاصل کرنے والا جیتی ہوئی بازی ایک احمقانہ چال چل کے ہار جاتا اور بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرتا، بادشاہ وضعداری کہئے یا حق خدمت کی ادائیگی سمجھئے شکست خوردہ مصاحب کو مٹھی بھر اشرفیاں دینا نہ بھولتا، دو دوست بادشاہ کبھی اکھٹے شکار کھیلنے جاتے تو جوڑ برابر کا سمجھا جاتا، شکار کے بعد محفل جمتی، شطرنج کی بازی لگتی اس میں شرط اشرفیوں کی نہ ہوتی بلکہ بادشاہ کی تلوار، پسندیدہ گھوڑا یا ہاتھی ہارے اور جیتے جاتے، جہاں زیادہ بے تکلفی اور ہم نوالہ ہم پیالہ دوست اکٹھے ہوتے وہاں بادشاہ کی من پسند خوبصورت ترین کینز بھی جوئے کی ہار جیت میں بطور ٹرافی ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کی نذر کر دیتا یہ خوبصورت اور نازک اندام کنیز رقاصہ مغینہ ہونے کے ساتھ ساقی گری کے فرائض انجام دیتی۔ اسکا اہم ترین کام بادشاہ سلامت کی جنسی ضروریات کا خیال رکھنا انکا بر وقت انتظام کرنا ہوتا تھا ان زمانوں میں کوئی یونیورسٹی نہ ہونے کے باوجود یہ کنیز خاص جنسی معاملات میں تقریباً پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتی تھی، اسے خوب معلوم ہوتا کہاں ہاتھ رکھنے سے بادشاہ سلامت بھڑک اٹھیں گے، کہاں چھونے سے وہ پھَڑک جائینگے، کہاں چومنے سے بے ہوش ہو جائیں گے اور کیسے ہوش میں آئیں گے۔ برصغیر میں مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد انگریز قابض ہوئے تو وہ اپنے ساتھ دو کھیل بھی لائے، تاش ان میں سے ایک ہے۔ تاش کئی طریقوں سے کھیلا جاتا ہے، ان میں رمی اور برج کے نام سے جانے جانے والے کھیل زیادہ کھیلے جاتے ہیں، ٹرمپ بھی خاصا مقبول ہے، ہر کھیل ابتدا میں کھیل ہوتا ہے۔ جب ایک خاص درجہ مقبولیت تک آ جائے تو پھر اس میں جوئے کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ شطرنج کی طرح تاش کھیلنے کیلئے زیادہ اہتمام کی ضرورت پیش نہیں آتی، شطرنج کا کھیل دو کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جبکہ تاش کے کھیل میں بیک وقت کئی کھلاڑی حصہ لے سکتے ہیں۔ انگریز عورتوں کی دیکھا دیکھی برصغیر کی طبقہ امراء سے تعلق رکھنے والے عورتیں بھی اس کھیل کو پسند کرنے لگیں۔ اس کھیل میں جوا مرد حضرات نے شروع کیا پھر خواتین کو بھی اس کا چسکہ پڑ گیا۔ پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم کی بیگمات اس کھیل کی رسیا جانی جاتی ہیں، دونوں کو اس کھیل میں کمال حاصل تھا ایک بیگم صاحبہ تو ملک کے اعلیٰ عہدے پر براجمان رہیں، انکے شوہر ان کے یہ عہدہ سنبھالنے سے قبل وزیر اعظم پاکستان تھے جبکہ دوسری خاتون وزیر اعظم پاکستان کی بیگم ضرور تھیں لیکن اس کے علاوہ انکی کوئی سماجی یا سرکاری حیثیت نہ تھی۔ انہی وزیر اعظم کی ایک صاحبزادی نے اپنی امی حضور کی گدی سنبھالی انکی لاہور میں واقع رہائش گاہ پر خواتین جواریوں کی تسلسل کے ساتھ حاضری رہتی ہے، ماضی کی ایک مشہور لیڈی ڈاکٹر جنکے شوہر ماہر امراض دل تھے وہ خود بھی ایک ہسپتال کی مالکہ تھیں لیکن ان کی پہچان ایک جوئے باز آنٹی کے طور پر تھی۔ گلبرگ لاہور میں ایک انکے گھر جوئے کا سب سے بڑا اڈہ تھا۔ ماضی کی ایک فلمی ہیروئن کے گھر پر بھی جوئے کی محفل باقاعدگی سے جمتی تھی، بھلے وقتوں میں جب روپیہ بہت تگڑا تھا ایک شام دو دوستوں نے لاکھوں روپے ہار دیئے، کھیل ختم ہونے پر انہیں معلوم ہوا کہ تاش لگائی گئی تھی۔ فلمی ہیروئن خود بہت بڑی شارپر تھی، ہاری ہوئی رقم فراڈ سے جیتنے کا راز کھلا تو رقم کی واپسی کا تقاضا کیا گیا۔
یہیں سے جھگڑا بڑھا اور الزام لگا کہ اس فلمی ہیروئن کے خاوند کے سامنے اسکا گینگ ریپ ہوا ہے۔ انگریز اپنی اور اپنی بیگمات کی دل بستگی کے لیے برصغیر میں جو دوسرا کھیل لائے وہ کرکٹ ہے۔ مرد کرکٹ کھیلتے اور عورتیں انکی حوصلہ افزائی کیلئے گراؤنڈ میں موجود رہتیں، انگریز تو یہاں سے چلے گئے کرکٹ چھوڑ گئے۔ کرکٹ کے عالمی مقابلے اب جوئے کے بڑے ایونٹ سمجھے جاتے ہیں۔ کیری پیکر کرکٹ سرکس کے بعد ساؤتھ افریقہ نے پابندیوں کے زمانے میں کھلاڑیوں کو مالا مال کیا۔ پھر اگلا دور وہ تھا جسے ہم کرکٹ میں جوئے کا دور کہتے ہیں۔ اس حوالے سے بڑا جوا آجکل امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں بتایا جاتا ہے۔ کرکٹ میں جوئے کے بڑے اڈوں کے طور پر پاکستان، بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا کے کچھ بڑے شہر بہت مشہور ہیں، اب ان میں امریکہ کا نام بھی شامل ہوا ہے۔ کرکٹ میچوں کی تاریخ میں انگلینڈ اور آسٹریلیا اسی طرح پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان میچوں اور بالخصوص عالمی مقابلوں میں ان ممالک کے مابین میچوں میں اربوں روپے کا جوا ہوتا ہے جن میں عام آدمی سے لیکر ملک کے اہم ترین خاندانوں کے چشم و چراغ اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ کچھ لوگ کبھی اپنی فیکٹریاں چلایا کرتے تھے انہیں جوا خوب راس آیا اب جوا ہی انکا کا روبار ہے۔ پاکستان اور بھارت کے سابق بعض نامور کھلاڑی اور انکے خاندانوں کا بھی اب یہی کاروبار ہے۔ وہ ہر بڑے ٹورنامنٹ کے موقع پر اس ملک میں موجود ہوتے ہیں بعض تو ٹی وی سکرینوں پر بطور مبصر بھی نظر آتے ہیں، جاری ٹی ٹونٹی مقابلوں میں اہم ترین میچ پاک بھارت میچ تھا، محتاط اندازے کے مطابق مبینہ طور پر صرف اس ایک میچ پر دو کھرب روپے کا جوا ہوا۔ پاکستان کو اس میچ میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم میچ کھیل کر نہیں ہارے خبر رکھنے والے یہی خبر دیتے ہیں۔ ہم میچ کھیل کر ہارتے تو ملک بھر کو اس کا کم دکھ ہوتا، ہم صرف بے آبرو ہو کر امریکہ سے نکالے جاتے تو صدمہ قابل برداشت تھا۔ ہم لتر پریڈ کے بعد نکالے گئے ہیں لہٰذا صدمہ نا قابل برداشت ہے۔ دل چھوٹا نہ کیجئے، ذہن و دل کو مزید صدمات کیلئے تیار رکھئے ہر دن نیا صدمہ لائے گا، جمہوریت کا حسن صدمات میں پوشیدہ ہے، جاری سال صدمات کا سال ہے، پہلے بجٹ پھر منی بجٹ آئے گا۔

تبصرے بند ہیں.