فقط چند روز……

29

ہر دن نئے چرکے، ہر دن غزہ، اقصیٰ میں نئے غم لیے طلوع ہوتا ہے، اسرائیل امریکا کی چھتر چھاؤں میں غزہ پر بمباریوں اور مسجد اقصیٰ پر اس کے تقدس کی پامالی کے اقدامات میں دن رات ایک کر رہا ہے۔ نُصَیرات کیمپ پر تازہ ترین حملہ جس میں بیک وقت ٹینک، فضائی، زمینی حملے نہتی آبادی پر عورتوں بچوں کا شکار پوری ڈھٹائی کے ساتھ کھیلا گیا۔ 274 فلسطینی شہید، 400 زخمی، سڑکیں، اسپتال کے اطراف لاشوں سے پٹے پڑے، جذبے آخری سانسوں تک ان کے توانا ہیں، زخمی نوجوان اپنے ہی خون میں رنگے ہاتھ مگر پر عزم، کہتا ہے: جئیں گے تو عزت کے ساتھ، جان دیں گے تو عظمت کے ساتھ! مرثیے، نوحے، مزاحمتی شاعری سے کہیں توانا ایک ایک بچے جوان، 76 سالہ بوڑھے جوانمرد، (قدس میں وحشی اسرائیلی فوجیوں کے مقابل ڈٹا!) اور 102 سالہ عورت کا جذبہ ہے! ان سے ہم کہتے ہیں: عرصہئ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں، ہم کو رہنا ہے، پر یونہی تو نہیں رہنا ہے، اجنبی ہاتھوں کے بے نام گراں بار ستم، آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے….. چند روز اور مری جان، فقط چند ہی روز……!
یہ دنیا سے صفحہئ ہستی سے فلسطین کو مٹا دینا چاہتے تھے۔ واللہ! آج پوری دنیا فلسطین بن گئی، جھنڈے لہراتے شاہِ ڈنمارک، فرنچ ممبران پارلیمنٹ، اسپین بلکہ پورا یورپ اور اب جنوبی افریقہ! شرق تا غرب سبھی زندہ آزاد ممالک۔ (استثناء صرف غلام ذہن مسلم ممالک کی ہے۔) جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کا ایک پورا علاقہ بوکاپ فلسطینی جدوجہد کا عکاس بنا کھڑا ہے۔ علاقے کی دیواریں الاقصیٰ کی تصاویر، فلسطینی تاریخ کا احاطہ کرتی پینٹ کر رکھی ہیں۔ فلسطینی جھنڈے ہر قدم، نعرے ثبت درودیوار فلسطین سے یک جہتی کے سبھی پیغام لیے کھڑے ہیں! نصیرات میں بہا مقدس خون اب امریکا کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ جو انقلاب کی سرخ لکیر بن کر وائٹ ہاؤس کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے! دیکھیے یہ مناظر۔ امریکا بھر سے لال قمیضیں پہنے، لال جھنڈے اٹھائے لاکھ سے زیادہ مظاہرین ”دی پیپلز ریڈ لائن“ کے عنوان سے ولولہ انگیز، قتل عام روکنے کے متحرک کارکنان، طویل سرخ بینر لیے پوری وائٹ ہاؤس کی عمارت کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی، بائیڈن اور نائب صدر کمیلا ہیرس سے استعفے کا مطالبہ لیے کھڑے ہیں۔ یہاں زبان و بیان سے آتش بازی جاری ہے ظلم کے خلاف۔ امریکی استعماریت کے خلاف ہر طرف آواز بلند ہو رہی ہے۔ امریکا بھر سے لوگ 16، 16 گھنٹے کا سفر کرکے یہاں اس تحریک کو مضبوط کرنے آئے ہیں۔ دو لڑکیاں جوش و جذبے سے لیس کہتی ہیں: یہ مظاہرہ نہیں، تحریک ہے۔ یہ ورکنگ کلاس ہے جو اسے منظم کیے ہوئے ہے، اس پورے نظام کو نکال پھینکنے کو جو لوگوں کو فلسطین میں بھی قتل کر رہا ہے اور یہاں بھی۔ گزشتہ 8 ماہ میں غزہ میں خوفناک، دہشت گردی والی امریکی ایمپائر کی حقیقت واضح کر دی ہے اور اسرائیل کی استعماریت۔ اب ہم جان گئے ہیں ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون! غزہ نے دنیا کو اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ولا، براء پڑھا دیا! تکفیر بالطاغوت، کلمہ میں لا الٰہ کہنا سکھا دیا! شہداء کا خون بہتوں کو الا اللہ بھی پڑھا چکا! اللہ اکبر! ادہر ہم؟ نماز و روزہ و حج، یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے، بلکہ المناک یہ ہے کہ غزہ کے لیے امریکی تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں اور پاکستانی خونِ مسلم سے بے نیاز نیویارک میں کرکٹ (جوئے کی سرگرمی کے ہمراہ) کے نشے میں کھوئے ہوئے ہیں۔) ہم جان گئے ہیں کہ فلسطینی عوام اور دنیا کی ورکنگ کلاس کے دشمن عین یہاں! وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہیں، پنٹا گون اور کانگریس میں ہیں۔ ہم مکمل آزادی تک یہ جنگ لڑتے رہیں گے، نہ صرف فلسطین کے لیے بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ (دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک) کے لیے۔ (ہماری لڑکیاں: ہم چھین کے لیں گے آزادی کے نعرے یوم نسواں پر (غزہ کے باوجود) لباس سے، اقدار و روایات سے آزاد ہونے کو لگاتی رہیں، نفس پرستی، ہوا پرستی میں!۔)
ایک اور گرما گرم ابلتی تقریر میں ایک مقرر نے کہا: ریڈ لائن نہ ڈیموکریٹ ہے نہ ری پبلکن، نہ وال اسٹریٹ، نہ وائٹ ہاؤس نہ پنٹا گون، نہ ہی پورا سرمایہ دارانہ نظام! صرف ہم عوام ہیں ریڈ لائن۔ سب یہ غزہ کے مبارک مقدس خون کی لکیر ہے جو یہاں کھنچ گئی ہے! آج پوری دنیا کا گوشہ گوشہ صہیونیوں، اسرائیلیوں کے خلاف تھرا اٹھا ہے۔
یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ شہدا کی تعداد 45 ہزار نہیں ہے۔ یہ کم از کم 2 لاکھ ہیں۔ موت کے اندراج کی بہت سی شرائط ہیں، مثلاً لاش پہچانے جانے کے قابل ہو۔ کوئی نہ کوئی عزیز تصدیق کرے،نوعیت کے سوالات۔23 لاکھ آبادی مسلسل بے دخل، بمباریوں، بھوک، بیماری کا لقمہ تر۔ انسانی تاریخ کا ہولناک، اندوہناک ترین سفاک قتل عام ہے۔ جس پر نظام عالم بے قراری سے کروٹیں بدل رہا ہے۔ جمہوریت، سرمایہ دارانہ نظام، استعماریت سبھی نشانے پر ہیں، خود اسی نظام کے پروردہ عوام مضطرب ہو اٹھے ہیں اسے رد کرتے ہوئے۔ صرف غلام فکر طبقات ظالم آقاؤں سے کندھے جوڑے فدوی بنے اب بھی سلامی پیش کر رہے ہیں! عوام اور حکمرانوں کے درمیان پوری دنیا منقسم ہو چکی۔ حکمران بہیمیت کے نمایندے بنے اسرائیل کے ہمنوا (اگرچہ بہت سے باضمیر حکمران تائب ہو چکے!) اور عوام بلا استثنا ہر جا فلسطین سے ہم آواز!
طلبہ کی بے قابو تحریک کے ساتھ ساتھ امریکا کی اکیڈمک دنیا پر دھماکہ خیز حملہ ایک واشگاف پُراز حقائق مضمون سے ہوا جو قانونی دلائل و براہین پر مبنی ہے: Towards Nakba as a Legal Concept کولمبیا لا ریویو نہایت دقیع جریدہ ہے امریکا کے نامور کولمبیا لا اسکول کا۔ یہ طلبہ کی سربراہی میں آزاد غیر منافع بخش جرنل کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ مضمون چھپتے ہی ایک تہلکہ برپا ہو گیا اور جریدے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے (کمزوری، خوفزدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے) پوری ویب سائٹ ہی بند کر ڈالی۔ اشاعت کے طریق کار کو آڑ بنا کر فوراً مکمل آف لائن کر دیا۔ (یہ مقبولیت اور شہرت پانے والا مضمون نگار ربیعہ، فلسطینی نژاد، ہاروڈ لا اسکول سے پی ایچ ڈی کر رہا ہے) جریدے کے ایڈیٹر مضامین، سوہم پال نے کہا کہ یہ پہلے ہی کسی عام لا ریویو مضمون سے زیادہ پڑھا جا چکا ہے۔ اسے کئی ماہ طویل نظر ثانی کے بعد پاس کرکے شائع کیا گیا۔ طاقتور، باوزن خیالات، قانونی لیاقت و صلاحیت کو دبایا، خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تازہ ترین علمی جنگ ہے جو کولمبیا کیمپس اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مختلف عنوانات سے جاری ہے۔ قبل ازیں ہارورڈ لا ریویو نے بھی ایک آن لائن آرٹیکل کو طویل ایڈیٹنگ کے مراحل سے گزرنے کے باوجود ووٹوں سے قتل کر دیا تھا۔ دنیا کو ڈائیلاگ، آزادی رائے، برداشت، رواداری کے اسباق پڑھانے والے، اسرائیل کی دم پر پاؤں آنے پر دہل اٹھتے ہیں۔ سو یہی جنگ جاری ہے عالمی سطح پر۔ مضمون کی تفاصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ حماس کی شرائط پر سیکورٹی کونسل میں جنگ بندی کی امریکی قرارداد کی منظوری (10 جون) حما س کی سفارتی فتح تک خوش آیند ہے، تاہم عمل درآمدندارد!
قافلے لبیک پکارتے حج کو رواں ہیں۔ کعبہ کا پردہ پکڑ کر (احادیث میں مذکور) رونے، اللہ کے حضور گریہ و زاری کرنے والے علماء کی امت منتظر ہے بے بسی کے عالم میں۔ فلسطین سے خالد نبھان کی پکار ہی دہرا لیں وہ بھی اور ہم بھی: رب ابراہیم علیہ السلام کو پکارتے ہوئے کہیے: اللھم بردا و سلاماً علیٰ غزہ! (آمین) (نصیرات کیمپ پر آسمانی، زمینی آگ کے گولوں کی برسات کے تناظر میں!)

تبصرے بند ہیں.