کبھی کبھی سوچتا ہوں ……!

38

یہ سوچ بھی کتنی بری چیز کا نام ہے کہ آپ ہر بات پر سوچتے ہیں، ماحول کوئی بھی ہو حالات جیسے بھی ہوں، جیب میں پیسہ ہو نہ ہوں، بینکوں میں اربوں روپے پڑے ہوں انسان پھر بھی سوچتا ہے کہ اگر ایسا ہو جائے اگر ویسا ہو جائے، کچھ بھی نہ ہو تو یہ یا وہ ہو جائے۔ اب سوچنا آپ کا حق ہے۔ سوچ پر تو آپ پابندی نہیں لگا سکتے۔ اب اگر عمران خان یہ سوچتا ہے کہ نہ کھیلوں گا، نہ کھیلنے دوں گا کسی کی نہیں سنو ں گا کسی کی نہیں مانوں گا، کسی سے بات نہیں کروں گا۔ ٹھیک ہے یہ عمران کی سوچ ہے۔ مولانا فضل الرحمان بے شمار گالیاں اور عمران جلسوں میں ذلت آمیز خطابات سننے کے بعد بھی اگر یہ سوچ سکتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کا ساتھ دیں گے یہ ان کی اپنی سوچ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ہاتھوں ذلتوں کو سہنے کے باوجود یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ عمران کا ساتھ دیں گے تو ان کی سوچ ہے، سوچ تو پھر پی پی پی کی ہے کہ وہ حکومت بنواتی ہے میاں شہبازشریف کی اور جب کوئی مطالبہ منوانا ہوتا ہے تو وہ بجٹ اجلاس میں بائیکاٹ کا اعلان کر دیتی ہے کہ یہ ان کی مطلب پرستانہ سوچ ہے۔ سوچ تو پھر ماہرہ خان کی ہے کہ وہ سعودی عرب میں ایک ماڈلنگ شو میں جاتی ہے کم لباس میں۔ یہ کہتی ہے کہ میرا لباس میری مرضی۔ ٹھیک ہے یہ اس کی سوچ ہے اور سوچ تو پھر عمر ایوب کی ہے کہ اس کے دادا ابو ایوب خان نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بہن کو غدار قرار دیتے ہیں مگر پوتا کہتا ہے کہ سیاست میں ہوتا رہتا ہے کہ وہ یہ بات جانتے ہوئے کہ وہ پاکستان کی وہ خاتون ہیں جنہوں نے تحریک آزادی میں اپنے عظیم بھائی کے ساتھ مل کے قربانیاں دیں اور پوتا اپنے دادا کا دفاع کرتے ہوئے یہ سوچ رکھتا ہے کہ کیا ہوا دادا نے ان کو غدار قرار دے دیا۔

سوچ تو پھر آئی ایم ایف والوں کی بھی ہے کہ مراعات یافتہ طبقے کو مراعات نہ دو یہ الگ بات ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی اس سوچ پر عملدرآمد نہیں کرا سکتے کہ سوچنے والے بھی مراعات یافتہ طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔ سوچ تو پھر اپوزیشن والوں کی ہے کہ وہ نعرے تو دھاندلی کے لگاتے ہیں مگر اسمبلیوں میں جا کر حلف اٹھاتے ہیں، مراعات لے رہے ہیں اور سوچ رکھتے ہیں فارم 45 اور 47 کی…… سوچ تو پھر مریم نواز بھی رکھتی ہیں کہ وہ صحافیوں کے تمام مسائل حل کریں گی اور بل لے آتی ہیں توہین صحافت کا یہ ان کی سوچ ہے وہ حکمران میں پنجاب کی اور پنجاب کو بدلنے کی کئی سوچیں۔ ہم نے سنیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سوچوں پر کبھی عملدرآمد نہیں ہو سکا کہ بیوروکریسی کی سوچ کے آگے کبھی بھی حکومتی سوچ ماند پڑ جاتی ہے۔ آخر یہ سوچ ہے اور سوچ چاہے منفی ہو پازیٹو ہو کبھی بھی ہو سوچ ہے۔ فوجی ڈکٹیٹرز نے سوچا کہ ملک میں جمہوریت کو نہیں چلنے دینا تو انہوں نے اقتدار کے لئے شب خون مارے کہ یہ ان کی سوچ تھی۔ اب ملک تباہ ہوتا ہے، سنورتا ہے ان کو ایسی سوچ سے فرق نہیں پڑتا اور انہوں نے جو سوچا وہ کیا کرلو جو کرنا ہے اور اگر کسی نے ان کے بارے میں سوچا تو وہ بھی کہیں نہ کہیں دھر لئے گئے کہ تم نے کیوں سوچا؟
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر غرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ہم کچھ اپنے اندر کی سوچ کے بارے لکھنا چاہیں تو نہیں لکھ سکتے۔ نیچے والوں کے خلاف آپ لکھ سکتے ہیں اوپر والوں کے خلاف لکھنے کی سوچ رکھنا بھی منع ہے۔ کسی بڑے کے خلاف نہیں لکھ سکتے چاہے اس کی سوچ ملک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یوں بحیثیت صحافت بہت سی سوچ رکھنے کے باوجود لکھنے کی وہ سوچ نہیں لکھ سکتا جو میں سوچ رہا ہوں …… قلم کی سوچ پر پابندی، اس کو شائع کرنے پر پابندی۔ پھر سوچتا ہوں کہ اگر سچ لکھ دیا تو پھر میرا کیا بنے گا۔ یہ سوچ بھی کبھی کبھی مجھے اندر سے تنگ کرتی ہے۔ میں بڑھاپے کی عمر میں جوانوں والی سوچ رکھنے لگا ہوں۔ یہ میرا پاگل پن ہے مگر کیا کروں۔ میں اپنی سوچ پر تو پابندی نہیں لگا سکتا کہ مجھے سوچنا ہے اتنی شادیاں کرنے کے باوجود اگر میرے یار دوست یہ کہیں کہ بابا ایک اور شادی کر لو یہ ان کی سوچ ہوتی ہے اگر میں نے سوچ لیا تو گھر میں بیٹھی ”کپتی“ پہاڑوں سے بھی اونچی غصے بھرے والی سوچ کے ساتھ میرے خلاف میرے بڑھاپے کا احساس کئے بغیر یہ کہتی ہے کہ اس گھر میں نہ آنا۔ اب یہ اس کی سوچ ہے کہ یہ سوچ بابے کی نہیں بابے کے دوستوں کی ہے۔
ہاں میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ……

کاش ہم آزادی کے بعد آزادی کا دفاع کر سکتے…… کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کاش ہم قائداعظمؒ کے دیئے وطن کو بڑا وطن بنا سکتے جو ہم نہیں بنا پائے، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمارے حکمران اقتدار کی بجائے ملک کا…… عوام کا…… نسلوں کا سوچتے ان کے لیے کام کرتے، ملک میں انڈسٹری لگاتے، بے روزگاری ختم کرتے، غریب کو بھوک سے نہ مرنے دیتے، کسی باپ کو کسی ماں کو گردے بیچ کر اپنی اولاد کو روٹی نہ کھلانی پڑتی، کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیوں آج کے والدین صرف بھوک مٹانے کی سوچ میں اپنے لخت جگروں کو کہیں قتل تو کہیں دریاؤں اور نہروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے حکومتیں بناتے ہیں کیوں عوام کے حقوق اور اس کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ میں کبھی کبھی تو یہ سوچتا ہوں کہ میرے ملک کا نوجوان کیوں چوریاں، قتل، ڈاکے اور رشتوں میں دراڑیں ڈال رہا ہے کہ ہم اس کے مستقبل کے لیے کچھ بھی نہیں آ رہے وہ اچھی تعلیم مانگتا ہے نہیں دے رہے، وہ اچھا روزگار مانگتا ہے، نہیں دے رہے، وہ اچھے مستقبل کو دیکھتا ہے ہم نہیں دکھا پا رہے، کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہم اپنے ہی لگائے پودوں کو کیوں اکھاڑتے ہیں، کیوں ہمیں ان کے سائے سے محروم کیا جاتا ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمیں اچھے حکمران کیوں نہیں مل سکے، ہم اچھے لیڈر کیوں نہیں بنا سکے، اچھے سیاستدان ہمارے ہاں کبھی نہیں آئے، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم پڑھے لکھے جاہل کیوں ہیں۔ ہم نے تعلیم کیوں حاصل نہیں کی۔ ایجوکیشن کا فقدان اور میدان تو ہمیں شاید وراثت میں ملا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمارے کھیل کے میدان اب کھلاڑیوں سے کیوں محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ہم ہر میدان میں گولڈ میڈل لاتے تھے۔ اب تو سلور میڈل سے بھی محروم کر دیئے گئے۔ ایک کرکٹ تھی وہ بھی امریکہ جیسی نئی ٹیم نے ختم کر دی۔ ہاکی کا جنازہ ہم کئی بار اٹھا چکے۔ سکواش میں ہمارے ریکٹ اب ٹوٹ چکے ہیں۔ جہاں سے ہم بڑے چیمپئن بنا کرتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہماری منزل کیا ہے۔ ہم نے جانا کہاں ہے؟ ہم میدان میں اندھوں کی طرح ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں، نہ کوئی لیڈر نہ کوئی مسیحا۔ ایک دردبھری کتھا ہے نہ قہقہے نہ لبوں پر مسکراہٹ، نہ دل میں خوشیاں، نہ وہ محبتیں رہیں۔

اور آخری بات……!
کبھی کبھی سوچتا ہوں …… کہ ہماری زندگیوں کا حاصل کیا ہے۔ ہم نے پڑھنا چھوڑ دیا، کھیلنا چھوڑ دیا۔ امید چھوڑ دی ہم نے سہاروں کو تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اچھے کی بجائے برے استوں کے ہمسفر بنتے جا رہے ہیں اور کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں کہ میرے سوچنے نہ سوچنے سے کیا فرق پڑے گا؟ یہ سب کچھ لکھنے نہ لکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میرے رونے دھونے سے کیا فرق پڑتا ہے، میں بھی تو اس قوم کا ایک فرد ہوں جس قوم کا نہ کوئی دن نہ کوئی رات، نہ کوئی کام، نہ کوئی ویڑن، نہ کوئی مستقبل……؟ تو پھر وہی سوچوں جو ہو رہا ہے، جو ہونے والا ہے اور جو ہوگا اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ایسے حالات میں بس گاتا جا شرماتا جا اور …… مسکراتا جا……!

تبصرے بند ہیں.