عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں ، آغاز مولوی تمیز الدین کیس سے ہوا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

31

راولپنڈی:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ  ملک شہزاد احمد نے کہاکہ   عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں ، آغاز مولوی تمیز الدین کیس سے ہوا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ  ملک شہزاد احمد نے راولپنڈی میں  تقریب سے خطاب میں  کہاکہ   عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں ، آغاز مولوی تمیز الدین کیس سے ہوا۔
سائلین کا اس عدالتی نظام سے واسطہ پڑتا ہے ، یہ نظام معاشرے کے کمزور افراد کے لیے بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سب سے بڑا مسئلہ ہے، تین نسلیں فیصلوں کا انتظار کرتی ہیں، 30، 30 سال لگ جاتے ہیں، مقدمات میں اس لیے تاخیر ہوتی ہے کہ گواہ پیش نہیں ہوسکتے، بیرون ملک مقیم افراد کو بھی عدالت پیشی میں مشکلات تھیں۔
عدلیہ میں مداخلت سے مل کر جان چھڑانا ہوگی، ہماری جوڈیشری بغیر کسی ڈر خوف لالچ کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ آج کا دن پنجاب کے عوام اور ضلعی عدلیہ کے لیے تاریخی دن ہے، کیونکہ آج سے باقاعدہ طور پر ای کورٹس میں ویڈیو لنکس کے ذریعے شہادتیں قلم بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کے تحت مقدموں کے التوا سے بچنے میں مدد ملے گی اور لوگوں کو جلدی اور سستا انصاف مہیا کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔

تبصرے بند ہیں.