قربانی کے معاشی اور سماجی پہلو

67

ہاتھ کی انگلی میں ڈائمنڈ کی انگوٹھی پہنے، مہنگا موبائل تھامے، گلے میں گولڈ کی چین لٹکائے،فارچونر گاڑی سے نیچے اترتے لوگ اورمحل نما گھروں کے مکینوں، روشن خیال، ترقی پسند، مذہب بیزار افراد کی رگ احساس ہرعید قربان پر پھڑک اٹھتی ہے،لاتعداد جانوروں کی قربانی سے انھیں جانوروں کے حقوق کی یاد ستانے لگتی ہے، نسل کشی کے خدشہ کا اظہار ہوتا ہے، ان کے دلوں میں ہمدردی کا جذ بہ اچانک انگڑائی لینے لگتا ہے، بازاروں، گلی، کوچوں میں بہتے خون سے انھیں ماحول کی آلودگی کی فکر لاحق ہوتی ہے،باہمی نجی محفلوں میں غرباء سے محبت یکدم عود آتی ہے قربانی کی رقم کو انسانی فلاح، ہسپتالوں کی تعمیر،مفید کاموں، غریبوں کی تعلیم پرخرچ کرنے کا مفت مشورہ بھی دے ڈالتے ہیں۔ مذکورہ طبقہ کی نظروں سے قصائی کے ہاتھوں ذبح جانور سال بھر اوجھل رہتے ہیں، ہائی فائی سیمیناروں میں غربا سے ہمدردی کے چند بول، مخصوص تہواروں پر شمعیں جلانا اور عورت مارچ پر مطالبہ حقوق ان کا کل اثاثہ ہے۔ہر بڑی عید پر انکی تان مگر ان جانوروں پر آکر ٹوٹتی ہے، جو سنت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی میں قربان کئے جاتے ہیں۔

قربانی کی سب سے بڑی سرگرمی تو حج مبارک کے موقع پر دیکھنے کو ملتی ہے،تاہم دنیا بھر کے مسلمان اپنے ممالک میں یہ فریضہ بخوشی انجام دیتے ہیں، جنوبی ایشیا میں بھارت مسلم آبادی کاتیسرا بڑا غیر مسلم ملک ہے جہاں قریباً ایک کروڑ سے زائد جانور قربان کئے جاتے ہیں باوجود اس کے آزادانہ قربانی کرنا بعض ریاستوں میں غیر سرکاری طور پر ممنوع قرار پاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا کی 60 فیصد آبادی براعظم ایشیا میں مقیم ہے جس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے سب سے زیادہ جانور اس خطہ میں قربان کئے جاتے ہیں۔دلچسپ امریہ ہے کہ لا کھوں جانور ہر سال قربان کر نے کے باوجود ان میں کمی نہیں آتی۔

دنیا بھر کے ماہر معیشت دولت کی ترسیل کا جو نظریہ پیش کرتے ہیں، عید قربان پر قربانی دینے کا فریضہ اس پر پورا اترتا ہے،محض ایک عبادت سے پوری دنیا کی معیشت میں سر گرمی پیدا ہوتی ہے،کیونکہ عام فرد کی جیب سے نکلا ہوا پیسہ بہت سے افراد کو روزگار فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے۔انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق قربانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں عارضی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر اس دینی فریضہ کو کاروباری آنکھ سے بھی دیکھیں توکیٹل انڈسٹری کو عروج ملتا ہے، لیدر کی صنعت کا پہیہ تیزی سے حرکت میں آجاتا ہے، حتیٰ کہ جانوروں کی اون، ہڈیوں، چربی، انتڑیوں سے ایسے ایسے کاروبار وجود میں آتے ہیں، کہ خود روزگار کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں، موم بتی بنانے سے لے کہ کاسمیٹکس، صابن بنانے تک خام مال کی زیادہ مقدار دستیابی ہوتی اور اس کی بدولت کاروبار وسعت پاتا ہے۔

ہماری غالب آبادی زراعت سے وابستہ ہے قریباً 80فیصد لوگ جانور اس لئے بھی پالتے ہیں کہ وہ انھیں عید قربان پر فروخت کرکے نفع کمائیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں جانور پالنے کا نہ تو رواج ہے نہ ہی مواقع اور کچھ قانونی پابندیاں ہیں، لہذا عید قربان پر دیہی علاقہ جات بڑی معاشی سرگرمی کا مرکز بن جاتے ہیں، چند روز کی یہ سرگرمی بہت سے افراد کو متحرک کر دیتی ہے، دیہہ اور قصبات سے جانور لا کر فروخت کرنے میں بہت سے کردار سامنے آتے ہیں، جنہیں پیسہ کمانے کا موقع ملتا ہے، اس میں پہلا فائدہ تو ٹرانسپورٹرز کو ہوتا ہے، پھر منڈی کے تاجر اس میں اپنا حصہ وصول کرتا ہے،اس موقع پر چارہ بیچنے والے بھی اپنی جیب گرم کرتے ہیں، خرید وفروخت اتنا سادہ عمل بھی نہیں لہٰذا ”مڈل مین“ اس سرگرمی پر پوری نگاہ رکھتا اور فائدہ اٹھاتاہے اور گاہکوں کے لئے ”سہولت کار“ کا فرض ادا کرتے ہوئے اپنا کمیشن لیتا ہے۔

مہینہ بھر کی منڈی میں بیوپاریوں کی چہل پہل اور خوانچہ فروشوں کے لئے کھانے پینے کی اشیاء بیچنا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا ہے، قربانی کے جانوروں کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے گانی، پازیب، ہار، پاؤں کے کڑے اور دیدہ زیب سامان فروخت کر نے والے بھی اس موقع کو غنیمت تصور کرتے ہیں۔جانوروں کی بین الا ضلاعی نقل و حمل کی بدولت سرکار کے خزانہ میں بلا واسطہ ٹال ٹیکس جمع ہوتا ہے، جانوروں کی دیکھ بھال پر مقرر ملازمین کو بھی روزی کمانے کا موقع ملتا ہے،منڈیوں سے گھروں تک جانور پہنچانے کے لئے چھوٹی سطح کے ٹرانسپورٹرز، رکشہ مالکان بھی دن رات کرایہ وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ بیوپاریوں کے قیام و طعام کا فائدہ ہوٹل مالکان کو ہوتا ہے،اس کے بعد قصابوں کی باری آتی ہے، انکی تین روز کی مشقت مہینہ بھر کی کمائی سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

قربانی کے موقع پر بیرونی ممالک سے ترسیلات زر میں بیش بہا اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ غیر مسلم ممالک میں قربانی کی سہولت انکی دہلیز پر میسر نہیں ہوتی،اس کے لئے خاصی مشقت اٹھانا پڑتی ہے، تارکین وطن اپنے پیاروں کو پیسے بھیج دیتے ہیں تاکہ انکے نام کی یہاں قربانی کر دی جائے۔عرب اور ترک ممالک کے خیراتی اداروں کی جانب سے پاکستان میں قربانی کرنے کی روایت بھی ہے، جس کا فائدہ ہماری قومی معیشت کو ہوتا ہے۔ قربانی کے بعد بڑی سرگرمی کھالوں کا مصرف ہے، ہمارے ہاں یہ زیادہ تر بلا معاوضہ فلاحی اداروں،دینی مدارس کے سپرد کی کی جاتی ہیں، منتظمین فروخت کر کے اس کا پیسہ اپنے تصرف میں لاتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے،چمڑے کے تاجر تجویز کرتے ہیں کہ اگر کھالوں کومحفوظ کرنے کا نظام زیادہ موثر بنا دیا جائے تو چمڑے کی مصنوعات کی برآمدگی میں کئی گنااضافہ ممکن ہے۔

اللہ کی رضا اور روحانی تسکین کے لئے قربانی کے عوض محتاط اندازے کے مطابق یہاں 400ارب کی معاشی سرگرمی جبکہ اسلامی دنیا میں 12کھرب سے زائد مالیت کی قربانی کی جاتی ہے،یومیہ یہ رقم کئی ارب سے زائد بنتی ہے،کسی بھی مذہبی تہوار میں انسانی خدمت کا اس بڑا کوئی سماجی معاشی منصوبہ نہیں ہے، عشر، زکوۃ، فطرانہ، صدقہ خیرات، ہبہ، اس کے علاوہ ہیں۔ البتہ قابل اعتراض بات وہ خود نمائی اور ریاکاری ہے، جو میڈیا کی وساطت سے قیمتی ترین جانوروں کی جاتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.