سیاسی دھوکہ باز کلب میں ایک اور اضافہ

59

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں نظریات کی سیاست کا وجود تقریباً ختم ہی ہو چکا ہے یا تیزی سے ختم ہو رہا ہے تو زیادہ غلط نہ ہو گا۔ افسوس کی بات ہے کہ صرف اور صرف ذاتی مفاد کی خاطر سیاسی دھوکہ دہی اوراور اپنی سیاسی پارٹی سے انحراف اب ملکی سیاست کا ایک مستقل جزو بن چکا ہے۔

ہماری سیاسی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں لوگوں نے مفادات کی خاطر کسی سیاسی پارٹی کو جوائن کیا، اہم عہدوں اور پوزیشنز کا فائدہ اٹھایا اور پھر پارٹی کو خیر باد کہہ دیا۔ اس قسم کے رویے سیاستدانوں کی وفاداری پر ایک سوالیہ نشان تو ضرور ہیں لیکن یہ ہمارے ہاں اس قدر فراوانی سے پیش آ رہے ہیں کہ اب تو انہیں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

پاکستان میں سیاسی دھوکہ دہی یعنی لوٹا کریسی کے پیچھے بنیادی وجوہات میں سب سے اہم سیاست دانوں میں موقع پرستی کا پھیلاؤ ہے اور بدقسمتی سے ان لوگوں کے نظریے، فلسفے، اصولوں اور عقائد میں ذاتی مفاد سے آگے کچھ بھی نہیں۔

سیاسی دھوکہ دہی کے پیچھے ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کہ سیاستدان اپنی سیاسی پارٹیوں میں کسی بھی وجہ سے عدم تحفظ اور عدم اعتماد کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں اپنی سیاسی طاقت اور سماجی اثر رسوخ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ہونے لگتا ہے۔پہلی صورتحال پیدا ہونے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاًسیاسی پارٹی میں ان کی مخالف لابی کا زیادہ بااثر ہو جانا، پارٹی کے پالیسی فیصلوں سے اختلاف یا پھر پارٹی قیادت کے ساتھ تنازعات۔ جب لوگ اپنی پارٹی کے اندر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں یا اپنی قدر میں کمی محسوس کرتے ہیں، تو وہ ان مخالف جماعتوں کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں جو ان سے زیادہ پہچان اور اختیار کا وعدہ کرتی ہیں۔

اپنی سیاسی پارٹی سے بے وفائی کرنے اور اس سے اپنی راہیں جدا کر لینے والے سیاستدانوں کی ایک اور کیٹیگری بھی ہے۔ اس کیٹیگری کے تحت آنے والوں کو شائد تاریخ میں بہت برے لفظوں میں یاد کیا جائے۔ یہ لوگ پارٹی میں اپنی پوزیشن کے تحت اہم ترین عہدے حاصل کرتے ہیں اور پھر زیادہ لالچ یا پھر ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر اسی پارٹی سے دامن چھڑا لیتے ہیں جس سے انہوں نے بھر پور فائدے اٹھائے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بالخصوص گورنرز کی تقرری اکثر ایک پیچیدہ مسئلہ ہوتی ہے، وفاقی حکومت صوبوں میں مرکز کے مفادات کی نمائندگی کے لیے افراد کو نامزد کرتی ہے۔ تاہم، گورنرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں کی اقدار اور اصولوں کو برقرار رکھیں گے۔ گورنرز اور دیگر سرکاری اور پارٹی عہدے پر تعینات ہونے کے بعد وفاداری تبدیل کرنا، پاکستان کی سیاست میں موقع پرستی کوظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بشمول کابینہ کے وزراء اور سینئر افسران بھی ذاتی فائدے کے لیے یا اپنی پارٹی قیادت سے مایوسی کی وجہ سے اپنی پارٹیوں سے الگ ہو سکتے ہیں۔ یہ انحراف حکومت کے استحکام کو نقصان پہنچانے اور سیاسی نظام پر عوامی اعتماد کو ختم کرنے کے دور رس نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ویسے تو اس قسم کے کرداروں سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن اگر یہاں غلام مصطفی کھر،غلام مصطفی جتوئی،مولانا کوثر نیازی،چوہدری سرور،پرویز خٹک، لطیف کھوسہ،جاوید ہاشمی،شاہد خاقان عباسی اور پرویز الٰہی جیسے لوگوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بہت زیادتی ہو گی۔ محمد زبیر اپنی پارٹی سے بھر پور سیاسی فائدے اٹھا کر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر پارٹی کو خیر باد کہہ دینے والوں کے کلب کے تازہ ترین ممبر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پارٹی سے وابستگی کی بنیاد پر اہم ترین سرکاری یا پارٹی پوزیشنز سے نوازا گیا لیکن اپنے عہدوں سے بھر پور انداز میں لطف اندوز ہونے کے بعد یہ لوگ پارٹی کو خیر باد کہہ گئے۔

ویسے تو پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا تاریخی طور پر ملک کے سیاسی منظر نامے پر خاصا اثر و رسوخ ہے۔ اوربعض صورتوں میں، گورنرز اور اعلیٰ سرکاری افسران کو اسٹیبلشمنٹ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے یا ترغیب دیتی ہے۔ طاقتور ریاستی اداروں سے حمایت یا تحفظ حاصل کرنے کا امکان سیاستدانوں کو اپنی پارٹیوں سے غداری کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے حمایت یافتہ لوگوں کے ساتھ صف بندی کرنے پر یقینا راغب کر سکتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا افراد کس حد تک اس صورتحال کا شکار ہوئے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
سیاسی خیانتیں پورے سیاسی نظام اور اداروں میں عوامی اعتماد کو ختم کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ جب منتخب نمائندے اور حکومتی اہلکار ذاتی مفادات کو قوم کی فلاح و بہبود پر ترجیح دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف جمہوری نظام کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ عام شہریوں کی سوچ میں بھی گھٹیا پن کو فروغ ملتا ہے۔

پاکستان میں طویل عرصے سے قائم سیاسی دھوکہ دہی کا پھیلاؤ جمہوری استحکام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اورملک میں موجود سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے کنٹرول ہونے کے اس وقت تک کوئی امکانات نہیں جب تک جمہوری اصولوں اور ادارہ جاتی سالمیت سے وابستگی قائم نہ کی جائے۔

پاکستان میں اعلیٰ حکومتی عہدے حاصل کرنے اور ان سے بھر پور انداز میں فائدے اٹھانے کے بعد سیاسی دھوکہ دہی کا رجحان ملک کے سیاسی منظر نامے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ موقع پرستی، عدم اطمینان اور بیرونی اثرات اس قسم کی دھوکہ دہی میں حصہ تو ضرور ڈالتے ہیں، لیکن اس کے نتائج انفرادی یا جماعتی سیاست سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے اور ایسے سیاسی کلچر کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جو ذاتی فائدے پر مشترکہ بھلائی کو ترجیح دے۔ صرف ایسی صورتحال میں ہی پاکستان مزید مستحکم ہو سکتا ہے اور مثبت سیاسی ماحول کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.