بہادر شاہ ظفر اور ہمارے سیاستدان

25

مغلیہ دور کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر جب قیدخانے میں ڈالے گئے تو انہوں نے ایک غزل کہی جو آج بھی بڑے درد اور رقت کے ساتھ سنی جاتی ہے غزل لکھنے سے پہلے انہوں نے چند یادگار لفظ بھی کہے تھے۔
”آج میرے دل کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ جب
میرا وقت تھا تو میرے پاس وقت نہیں تھا
آج میرے پاس وقت ہی وقت ہے
مگر میرا وقت نہیں ہے“

اگر بہادر شاہ ظفر کی اس بات کو پاکستان کی سیاست چلانے والوں کے حوالوں سے موازنہ کروں تو ہم آج جس سیاسی، معاشی اور معاشرتی تباہی سے دوچار ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارے پاس وقت تھا، حالات اچھے تھے اور ہم ان سے بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے مگر صد افسوس کہ ہم نے اچھا روقت اچھے حالات خود ہی کھو دیئے اور جو وقت تھا وہ سازشوں میں لگا دیا جب ہمارے پاس کارخانے لگانے کا وقت تھا جب ہمارے پاس کالاباغ ڈیم جیسے ڈیم بنانے کا وقت تھا جب ہمارے پاس انڈسٹری لگانے کا وقت تھا جب ہمارے پاس اداروں کو درست کرنے کا وقت تھا جب ہمارے پاس اقدار اور اپنی تہذیب و کلچر کے ذریعے پاکستانی نسلوں کو پاکستان کی اہمیت اور اس کی قدرومنزلت بتانے کا وقت تھا اس وقت ہم نے اپنا تمام وقت حکومتیں بنانے، حکومتیں توڑنے اور فوجی ڈکٹیٹرز کے لئے ایوان اقتدار کے دروازے کھولنے پر تمام وقت صرف کر دیا۔ ہم نے اپنے اقتدار کے لئے تمام وقت سیاسی اتحادوں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ایک دوسرے کو کمزور کرنے، ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے پر لگا دیا۔

اور جو ملک ہم سے بعد میں آزاد ہوئے اور جو ملک ایوب خان کے زمانہ میں ہماری انڈسٹری کی مقرضی کے رازوں کے بارے پاکستان آئے وہ آج ہم سے بہت آگے کی طرف چلے گئے ہیں کہ انہوں نے پھر وقت کو مناسب وقت کے طور پر لیا اور وقت کے تحت کامیابیاں سمیٹتے سمیٹتے آج کامیاب ترین ممالک کی فہرست میں کھڑے ہیں کوریا، چین، جاپان، جرمنی، بنگلہ دیش اور بہت سے ممالک جنہوں نے وقت کو ضائع نہیں کیا جنہوں نے وقت کی رفتار کے ساتھ اپنی رفتار پکڑ لی اور وقت کے تحت جو چاہا کیا اور کامیاب ہوئے اور یہ حقیقت ہے کہ اچھا وقت ایک بار ہی آتا ہے اچھا وقت جس نے کھو دیا وہ دنیا میں ذلیل ہی ہوا ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ اچھے وقت کو نہیں پکڑا اور اس کو برے طریقے سے کھو دیا اور ایسا کھویا کہ آج قوم اس وقت کو پکڑنا چاہتی ہے وقت سے سیکھنا چاہتی ہے ہم آج معاشی اور سیاسی تباہی کے دہانے پر انہی سیاستدانوں کی وجہ سے کھڑے ہیں کہ اگر ایوب خان کے زمانے میں کالاباغ ڈیم بن جاتا تو آج ملک اندھیروں میں نہ ڈوبتا، مسئلہ کیا تھا ہم کیوں اربوں روپے لگا کربھی کالاباغ ڈیم نہ بنا سکے کہ نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈران کو خدشہ تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا اس مسئلے کو اے این پی نے ہمیشہ حکومتوں کو بلیک میل بنانے کاذریعہ بنا لیا یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے پاس پیسہ بھی تھا وسائل بھی تھے اور اس پر مختلف حکومتوں نے سیاسی دباؤ کے باوجود کام کا آغاز کیا مشینری تک آ گئی مزدوروں کے لئے گھر بنا دیئے گئے نقشے پاس ہوگئے فنڈز جاری ہوئے پھر وہی ہوا کہ سیاست دانوں نے حسب روایات پاکستان کو کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دیا اور ہم سیاسی بدمعاشی کا شکار ہوتے گئے اس وقت مہنگائی اور معاشی بحران نہیں تھے نہ ہم نے ہاتھوں میں کشکول پکڑا تھا نہ اس زمانے میں آئی ایم ایف ہمارے یا ہم ان کے پاس گئے اور اس وقت ملک صحیح سمت چل رہا تھا اور ہمارے ڈیفالٹر ہونے کے دور دور تک خدشات نہیں تھے۔

ہم نے جن اداروں کو صحیح سمت پر لے جانا تھا اس کے لئے بروقت پالیسیز نہیں بنائیں نہ وقت پر طویل المدت معاشی منصوبے بنائے آپ ان سیاسی جماعتوں کے منشور دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ چہرے کے دو نہیں بلکہ تین رخ رکھتے ہیں انہوں نے گزشتہ 76 برس بے وقت گزار دیئے اور قوم کو بھی اچھے وقت سے دور کر دیا۔
خود تو ڈوبیں گے تمہیں بھی لے ڈوبیں گے

پاکستان آج بے وقت سہاروں پر کھڑا ہے سوائے ایوب خان کے کسی حکومت نے انڈسٹری کو لگانے ادارے بنانے کے لئے طویل المدت پالیسیز نہیں بنائیں، منصوبے دیئے اور کم از کم ان کو اقتدار کے لئے جو مدتیں دی گئیں کیا اس دوران کیا انہوں نے وقت کوپکڑا ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہوا ورنہ آج ہم جس پاکستان کی بہری اور بے رنگی تصویر دیکھ رہے ہیں اس کی جگہ ترقی کرتی رنگوں سے بھری تصویر ہمارے سامنے ہوتی آج تو یوں لگتا ہے کہ وقت نے سب کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے بقرا عید کی آمد آمد ہے اہل حیثیت قربانی کے جانور خرید رہے ہیں آج فیس بک پر دیکھ رہا تھا کہ ایک صاحب نے دس بکرے خریدے اور ان کو ایک کمرے میں دو اے سی لگوا دیئے کہ ان کے پاس اچھا وقت ہے اور برا وقت ہے تو غریب کا ہے جو بکروں کو دیکھ تو سکتا ہے مگر اس کو خریدداری کے لئے اچھا وقت نہیں ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ بات وقت کی ہے کہ کب کسی پر اچھا گزر جائے تو کسی پر برا ڈیرا ڈال لے جنہوں نے وقت کو تھام لیا وہ کامیاب تو جنہوں نے وقت کو بھلا دیا تو پھر وقت نے بھی بے دردی کے ساتھ ان کوفراموش کردیا۔

اور آخری بات…
میرے نزدیک اقتدار کے نشے کے بعد ہر حکمران بہادر شاہ کے غم میں برابر کا شریک ہوا ہو گا اور بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اس کو ضرور سنائی دیتی ہو گی۔
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بے کسی کا مزار ہوں
نہ میں ان کا حبیب ہوں نہ میں ان کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

تبصرے بند ہیں.