فیصلے میں غلطی ہوئی تو اصلاح کرینگے، ڈنڈے اٹھا کر فساد پھیلانے سے بہتر ہے مناسب طریقہ اختیار کیا جائے: چیف جسٹس

37

اسلام آباد:  مبارک احمد ضمانت فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت  کے دوران سپریم کورٹ  نے تمام درخواست گزار علماء سے دو ہفتے میں تحریری رائے طلب کر لی ۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ علماء اپنی رائے عدالتی فیصلے میں میں اٹھائے گئے نکات تک محدود رکھیں، مقررہ وقت کے بعد آنے والی آراء کو شمار نہیں کیا جائے گا۔

 

مبارک احمد ضمانت فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت  چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ

سول مقدمات میں متعلقہ افراد کو فریق بنایا جا سکتا ہے ۔ فوجداری مقدمات میں فریق صرف مدعی، ملزم اور حکومت ہی بنا سکتے ہیں ۔ فریق بنائے بغیر بھی تمام علماء کی رائے کو سنا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت سے فیصلے میں غلطی ہوئی ہے تو اصلاح کرینگے۔ ڈنڈے اٹھا کر فساد کرنے سے بہتر ہے مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔شرعی معاملہ ہے غور و فکر کیساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ علماء سے قانونی رائے نہیں لینگے کیونکہ قانون ہم زیادہ جانتے ہیں ۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شریعت میں علماء کا علم ہم سے زیادہ ہے اس پر رہنمائی لینگے۔ اسلام میں مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ عدالتی فیصلے میں سورۃ الاحزاب کی آیت 40 کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ رکن اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کی صرف ایک آیت سے مفہوم نہیں نکالا جا سکتا۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں جو تعریف مسلمان کی لکھی گئی ہے اس کے پابند ہیں۔ اس پر علماء نے کہا کہ آئین میں لکھے گئے الفاظ پر اعتراض نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو آئین پر اعتراض ہے تو پارلیمان سے ترمیم کروا لے۔ آئین میں ترمیم کرنا ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.