9 مئی: بلیک ڈے سے برائٹ نائٹ تک

38

محمود خان اچکزئی کی قوم پرستی صدر نہیں صرف صدارتی امیدوار بننے کیلئے ریت کی دیوار ثابت ہوئی حالانکہ وہ صدارتی انتخاب کے نتائج سے بھی بخوبی واقف ہیں لیکن پی ٹی آئی کے ریاست مخالف بیانیے کی حمایت کرنا قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس کیلئے خواہ اُن کے اپنے بیانیے کی موت واقع ہو جائے انہیں اِس کی کوئی پروا نہیں۔ محمود اچکزئی جس طرح آج عمران نیازی کی حمد و ثنا میں مصروف ہیں کبھی یہی الفاظ وہ میاں نواز شریف کیلئے بھی ادا کیا کرتے تھے ”میاں نواز شریف ون مین آرمی ہیں“ اور ازاں بعد 2013ء میں اپنے بھائی کو وزیر اعظم نواز شریف کی سفارش پر آصف علی زرداری سے گورنر بلوچستان بنوایا تو عمران نیازی نے جلسہ عام میں چادر سر پر لے کر اچکزئی کی نقل اتار کر اُس کی تذلیل کی لیکن ایک بات تو طے شدہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کے پاس لکھی ایک ہی تحریر کبھی نواز شریف اور کبھی عمران نیازی کیلئے استعمال ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ بڑا ہاتھ مارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف کو من کی مراد مل چکی اور وہ وزیر اعظم پاکستان کے عہدہ پر فائز ہو چکے۔ آصف علی زرداری بھی صدر پاکستان بن جائیں گے۔ زرداری اور شہباز دونوں پہلے بھی اِن عہدوں پر رہ چکے ہیں یعنی تجربہ کار ہیں لیکن ماضی میں پاکستانی عوام کا تجربہ انتہائی تلخ اور یاد ماضی کے عذاب جیسا رہا ہے۔ چاروں صوبوں کی حکومتیں مکمل ہو چکیں عنقریب کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی انہیں جماعتوں کا پرچم لہراتا نظر آئے گا مگر کیا اِس بار بھی سب ہنسی خوشی رہنا شروع کر دیں گے تو میں ایسا تصور نہیں کرتا۔ مہنگائی نے پاکستان کے ہر گھر کو ماتم کدہ بنا رکھا ہے۔ عام آدمی کیلئے جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہو چکا ہے لیکن حکومت کے تمام عہدے پُر ہونے کے بعد بھی کیا پاکستان کے عام آدمی کے حالات سدھر سکیں گے؟ تو بظاہر اِس کی کوئی علامت ابھی تک نظر نہیں آ رہی کہ اقتدار میں آنے والے اتحاد کا پاکستانی عوام کیلئے کو ئی قابل ِ عمل ایجنڈا ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ عوام کی قوت خرید تحت الثریٰ میں گھس چکی ہے اور حکمرانوں کے پاس طفل تسلیوں کے سوائے کچھ نہیں ہے اور اگر کچھ نظر آ رہا ہے تو وہ آئی ایم ایف اور اُس کے مزید ٹیکسز! جن کا بوجھ اٹھانے کی سکت کم از کم پاکستانی عوام میں تو ہرگز نہیں ہے۔ اقتدار میں اب وہی رہے گا جو ڈلیور کر پائے گا یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی کے حوالے سے ایک منظم تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلی وکلا تحریک پاکستان کے سیاسی ورکروں نے چلائی تھی اور اِس بار سیاسی تحریک وکلا چلا رہے ہیں۔ 9 مئی کے ملزمان کہیں وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں اور کہیں قومی اسمبلی میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ بلیک ڈے پی ٹی آئی کیلئے برائٹ نائٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ میں نے پاکستانی اداروں کو اتنا بے بس کبھی اپنی زندگی میں تو نہیں دیکھا۔ ہم نے ضیاء الحق اور پرویز مشرف بھگتایا ہے۔ نواز شریف اور محترمہ کا دور دیکھا ہے۔ آصف زرداری اور عمران نیازی کے دور حکومت ہمارے سامنے ہیں لیکن پاکستانی اداروں نے اتنی چھوٹ کبھی ریاست مخالف عناصر کو نہیں دی۔ کوئی تو ہے جو دبے پاؤں عمران نیازی کے بیانیے کی مدد کر رہا ہے ورنہ قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرنے والے طالبان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ کبھی پڑھا تھا کہ برائی کو آغاز میں ہی دبا دو کہ یہ بہت جلد پھلتی پھولتی ہے برائی دبائی تو نہیں گئی البتہ اُس کے پھلنے پھولنے کا عملی مظاہرہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ریاست پاکستان پی ٹی آئی کی ملک دشمن سرگرمیوں پر جتنی تاخیر کرے گی اسے اتنی ہی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ حبیب جالب نے مشرقی پاکستان آپریشن سے پہلے لکھا تھا
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

اور پھر ہمارے عقلمندوں کے گمان پر جالب کا یقین غالب آ گیا۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ ہم نے گفتگو کے وقت گولیاں چلا دیں اور پھر چلتی گولیوں میں گفتگو کرنے کی کوشش کی جو شملہ معاہدہ میں جا کر کرنا پڑی۔ آج بھی صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ کون ہے جس نے نوجوانوں کو گمراہ کر رکھا ہے؟ کون ہے جو اُن کو یقین دلا رہا ہے کہ عمران نیازی کچھ بھی کر لے اُسے ایک دن باہر آ کر اِس ملک پر حکومت کرنا ہے؟ کون ہے جو 9 مئی کے ملزمان کو نہ صرف الیکشن لڑنے کی اجازت دے رہا ہے بلکہ انہیں اعلیٰ عہدوں پر پہنچا کر اُن کے جھوٹ کو سچ کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کا وزارتِ عظمیٰ کا اُمیدوار عمر ایوب خان رسالدار میجر میر داد خان جو گوروں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہڈسن ہارس میں ملازم تھا، کا پڑپوتا ہے، محترمہ فاطمہ جناح کو غدار کہنے اور پاکستان پر پہلا مارشل لا لگانے والے جنرل ایوب خان کا پوتا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی کیپٹن گوہر ایوب کا بیٹا اور ہماری عدلیہ کے جج جناب گل حسن اورنگزیب کا کزن ہے جو ایوب خان کا نواسہ ہے۔ یہ ہے وہ فوجی جنتا کا پس منظر رکھنے والا خاندان اور دوسری طرف عمران نیازی کا بیانیہ ہے جو پاکستان کے آرمی چیف کو ہٹانے کی سازش تھا، جو سابق آرمی چیف کو میر جعفر اور میر صادق کھلے بندوں کہتا رہا، کسی کو ڈرٹی ہیری کے نام دیتا رہا اور جب کچھ نہ بن پایا تو قومی سلامتی کے اداروں پر حملے کرا دیئے لیکن خود ایکس سروس مین کے پیچھے پناہ لیے ہوئے ہے۔ وقت ریت کے زروں کی مانند ریاست کی بند مٹھی سے نکلتا جا رہا ہے۔ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ افغانستان سے اٹک تک کا علاقے اب طالبان کے دائرہ قدرت میں ہے کیونکہ عمران نیازی اور پی ٹی آئی کے طالبان بارے نظریات بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ اِس سے واقف ہے سو آنے والے دنوں میں ہمیں اپنے شمالی محاذوں سے خیر کی خبر آنے والی نہیں کہ جو امریکہ کے جانے کے بعد طالبان کے ساتھ چائے کا کپ پی کر آئے تھے وہ عمران نیازی کے ساتھ ہیں اور کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر اُس کے ساتھ ہیں۔ سو اِس بار خیبر پختون خوا میں اے این پی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف مخالفین زیر عتاب ہوں گے اور علی امین گنڈا پور کی سرپرستی میں یہ کام بخیر و خوبی سر انجام دیا جائے گا کہ یہ مرد قلندر تو شراب کو شہد بنانے اور ثابت کرنے کی باکمال قدرت رکھتا ہے۔ ریاست کو پاکستان کے ہر محلے اور چوراہے پر اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہو گا کہ فراز کے بقول
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

پاکستانی عوام اپنے رہنماؤں کی طرف آخری بار امید سے دیکھ رہی ہے کہ یہ اُن کا اِس حکومت پر آخری اعتماد ہے اور اگر موجودہ حکومتیں اِس معیار پر پورا نہ اتریں تو اگلا منظر نامہ اتنا ہولناک ہے کہ اُس کے لکھنے کے تصور سے ہی روح کانپ رہی ہے۔ پاکستان کسی انقلاب کے دہانے پر ہرگز نہیں کھڑا بلکہ انارکسٹوں کی ایک بڑی تعداد مردہ خور گدھوں کی طرح دم توڑتی مخلوق کو دیکھ رہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.