عمران خان کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس: ممبر ای سی پی اور شعیب شاہین کے درمیان تلخ کلامی

23

 

اسلام آباد:  بانی پی ٹی آئی اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس  کی سماعت  کے دوران ممبر الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

 

الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت کی،  پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے۔بانی پی ٹی آئی اور فواد چودھری ویڈیو لنک پر پیش ہوئے۔

 

دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ  آپ کا ہر دفعہ نوٹس آتا ہے اس بار ہمیں نوٹس ہی نہیں ملا، آج صبح ٹی وی سے معلوم ہوا کہ سماعت ہے، اس پر ممبر الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ ڈی ڈی لاء آپ نے نوٹس کیا تھا؟ ڈی ٹی لاء نے بتایا کہ اُس دن جیل میں تاریخ کا اعلان ہوگیا تھا۔

 

شعیب شاہین نے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہم سے تنقید کا حق بھی چھین رہے ہیں،  ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہےہمیں لیول پلہیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، بلے کا نشان بھی چھین لیا، اب الیکشن کے دنوں میں ہمارے لیڈرپرتوہین الیکشن کمیشن کی سزا ہوجائے گی،  دنیا ہمارا تماشہ بنتا ہوئے دیکھ رہی ہے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے شعیب شاہین کو جواب دیا کہ ہم نے چھینا نہیں، ہم نےکہا تھا کہ کمیشن کو گالیاں دیں اس کیس کو 2 سال ہوگئے ہیں، اُس وقت آپ کی حکومت تھی۔ شعیب شاہین نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے سپریم کورٹ کی توہین کی ان کیخلاف تو کوئی کارروائی نہیں کی گئی، میں ان کی تنقید کا سارا ریکارڈ دوں گا۔

 

شعیب شاہین نے کہا کہ اب پوری دنیا الیکشنز کی طرف دیکھ رہی ہے جس پر ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق الیکشنز کرائیں گے۔شعیب شاہین نے کہا کہ اللہ کرے فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو۔

 

شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ  ہمارے اندر لاوا پکا ہوا ہے، ہم اس کا اظہار نہ کریں،  آپ ہمیں قتل بھی کر رہے ہیں اور آہ بھی نہیں کرنے دے رہے جس پر ای سی پی ممبر کا کہنا تھا کہ آپ بندوق سے آہ کرتے ہیں۔

 

 

ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ جیل میں جو ہوا اس پر ہم خاموش رہے، جیسے جوابدہ نے جیل میں کیا ایسا ہم نے پہلے نہیں دیکھا، ہم بہت کچھ کرسکتے تھے۔

 

شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ رحیم یارخان میں ہمارے وکیلوں پر پرچہ ہوا ہے۔جس پر ممبر الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آپ کے وکلانے حملہ کیا تھا، تنقید ہونی چاہیے لیکن گالی تو نہیں ہونی چاہیے۔

 

وکیل پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے اسدعا کی 8 فروری کے بعد اس کیس کو رکھ لیں، یہ کیس کوئی ارجنٹ نوعیت کا تو نہیں ہے۔ جس پر ممبر الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ کیسز 2021 سے پڑے ہیں،آپ نے کیس کو اتنا طول دے دیا۔

 

 

بعد ازاں  الیکشن کمیشن نے سماعت 24 جنوری تک ملتوی کردی۔

تبصرے بند ہیں.