عمران خان اور بشریٰ نے عدت میں نکاح کیا،  شادی سے پہلے دونوں گھنٹوں اکیلے میں ملتے تھے جس پر مجھے سخت اعتراض تھا، عمران خان کو نوکر کے ذریعے اپنے گھر سے بھی نکلوایا، رات کو دیر سے فون پر باتیں کرنے سے منع کرنے پر پنکی سے ناراضی بھی ہوئی: خاور مانیکا

38

 

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی بیوی بشری بی بی کے سابقہ خاوندخاور مانیکا نے کہا ہے کہ پنکی پیرنی اور سابق وزیر اعظم نے پیر اور مرید کےمقدس رشتے کو پامال کیا۔

 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ دونوں کی ملاقات 2014 کے دھرنوں کے دوران پنکی کی بہن مریم وٹو کے توسط سے ہوئی تھی جس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ عمران خان کے بار بار میرے گھر آنے پر میری والدہ نے بھی اعتراض کیا اور یہ مجھے بھی پسند نہ تھا جس پر بشری بی بی بنی گالہ کے گھر میں شفٹ ہو گئی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اکثر جب میں باہر سے فون کرتا تھا تو پنکی کال نہیں اٹھاتی تھی جس پر میں اپنے نوکر کو فون کر کے پوچھتا تو وہ بتاتے کہ پیرنی کے پاس مرید عمران خان آئے بیٹھے ہیں اور روحانی تربیت چل رہی ہے۔ جس پر مجھے بعض دفع غصہ بھی آ جاتا اور ایک دفع میں نے نوکر کے ذریعے عمران خان کو گھر سے بھی نکلوایا۔

 

مانیکا کا مزید کہنا تھا کہ دونوں کے رات کو دیر سے فون پر باتیں کربھی مجھے سخت اعتراض تھا اور اس وجہ سے میری پنکی سے ناراضی بھی ہوئی۔

 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو  کے دوران خاور مانیکا نے مزید بتایا کہ ان کی طلاق 14 نومبر 2017 کو پنکی کی دوست فرح گوگی کے میسج پر ہوئی۔ بشری بی بی کے سابق شوہر کا کہنا تھا کہ مجھے فرح گوگی کے ذریعے میسج آیا کہ پنکی کو طلاق دے دو جس پر میں پنکی کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ اس نے سر جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر میں نے 14 نومبر 2017 کو  بشری بی بی  کوطلاق نامہ فرح گوگی کے ہاتھ بھجوایا۔

 

خاور مانیکا نے کہا کہ طلاق کے بعد  فرح گوگی نے فون کر کے کہا کہ طلاق کی تاریخ تبدیل کردیں۔سابق شوہر کا کہنا تھا کہ میں نے پنکی کو طلاق 14 نومبر 2017 کو دی، اس کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی اس نے عمران خان سے شادی کر لی۔جب ان کا نکاح ہوا اس کے فوراً بعد مجھے ذلفی بخاری اور فرح گوگی کے بارہا فون آئے اور انہوں نے صاف طور پر یہ بات کہی کہ میاں صاحب اب یہ مرید ہے اور اس نےآگے وزیراعظم بننا ہے اور بہتر ہے کہ آپ خاموش رہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھاکہ میں نے اس کو ہلکا لیا کہ یہ دھمکی ہے کوئی نہیں ایسے وقت گزر جائے گا لیکن پھر اور لوگوں سے مجھے فون کرائے اور اس طرح کے فون کرائے تو اس سے محسوس ہوا یہ تو میرے بچوں کی زندگی داؤ پر لگا کر رکھ دیں گے تو میں اس پر خاموش ہوگیا، لیکن اب میں ٹوٹ گیا ہوں، تھک گیا ہوں جو میرے دل میں ہے میرا ضمیر میرا دل اجازت نہیں دیتا کہ بوجھ کے ساتھ بیٹھا رہوں۔

تبصرے بند ہیں.