نئی صف بندیاں، سیاست دانوں کے کرتوت

26

سیاست میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، فیلڈنگ از سر نو سیٹ کی جا رہی ہے، 16 ماہ تک باہم شیر و شکم رہنے والے حلیف الیکشن کا اشارہ ملتے ہی حریف بن گئے جبکہ الیکشن کا ابھی تک کچھ پتا نہیں، جن کے ہاتھوں میں انتخابات کی رسی ہے وہ اسے معیشت کی بحالی اور سیاسی استحکام تک دراز کرنا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن چپ سادھے بیٹھا ہے، انتخابات شاید جنوری یا شاید فروری میں ہوجائیں یا پھر شاید نہ ہوں، ادھر ملک کو ان بد ترین حالوں تک پہنچانے والوں اور کرپشن میں ملوث کالے کرتوتوں والے 29 کرپٹ سیاستدانوں، سرکاری حکام اور ان کے بے شمار گماشتوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔ سسٹم آٹو پر لگ گیا۔ شرفاء کے چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ڈنڈے کے اثرات، اشرافیہ اور مافیاز کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ ”کب زمین زادوں کو خود سے شرم آئے گی“ چھوٹے موٹے جرائم شاید نظر انداز ہوجائیں لیکن ملک دشمنی، ریاست سے جنگ اور دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فوج میں بغاوت کی سازش ناقابل معافی، نومرسی، نو ریلیف، انقلاب کے نام پر 9 مئی کو چوتھی بغاوت تھی اس سے پہلے 1951، 1973ء، اور 1995ء میں بھی سازشیں پکڑی گئیں۔ اس سازش کے چار سرغنہ اور دس سے بارہ منصوبہ ساز تھے۔ تحقیقات میں خان بھی مبینہ طور پر سرغنہ قرار دیے گئے۔ سائفر کیس میں بھی جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ آگئی۔ جیل میں سماعت، ضمانتیں مسترد، 14 سال قید کا خطرہ، سانحہ 9 مئی میں طویل مدت کی قید و بند کا امکان، ”کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک“ چمن کو آگ لگانے آئے تھے دھر لیے گئے۔ سہولت کار رخصت ہوگئے۔ سزائیں معاف کرنے والے ایک ہی ملاقات میں بے اثر کردیے گئے۔ ”تاریک راتیں جیل کی اور ہم ہیں دوستو“ کتنے بے شمار موضوعات ان گنت مسائل کیا کیا سنو گے کیا کیا سنائیں، صدر مملکت اپنی زائد از میعاد صدارت کے آغاز ہی سے الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے کوئی بڑا دھماکہ کرنا چاہتے تھے جس سے ملک میں شدید آئینی بحران کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ لیکن خیر گزری خان کے بے حد اصرار پر انہوں نے الیکشن کمیشن کو اپنے خط میں 6 نومبر کی تاریخ تجویز کی کوئی حکم نہیں دیا۔ لا یعنی خط، بقول غالب ”خط لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہ ہو، ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے“ اس سہمی سہمی ڈری ڈری تجویز سے الیکشن کمیشن کو تو کوئی فرق نہ پڑا۔ ”معشوق“ ناراض ہوگئے۔ قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ خان مایوس ہوئے پی ٹی آئی نے اپنے ہی صدر کا بائیکاٹ کردیا جن کے کہنے پر بانکپن ختم ہوا وہی سنبھالیں گے۔ سب کچھ ایک ملاقات کا نتیجہ، مزاحمتی رویہ مفاہمتی اطوار میں بدل گیا۔ خان بدستور جیل میں ہیں۔ ستمبر واقعی ستمگر ثابت ہو رہا ہے۔ ”جن پہ تکیہ تھا انہیں ستمبر کی ہَوا اڑا لے گئی۔ بچے کھچے سہولت کاروں نے چپ سادھ لی، ہم خیالوں کو مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ سفید بالوں والے ایک بڑے صاحب تو ریفرنس کے ڈر سے مستعفی ہونے کو تیار ہوگئے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں پی ٹی آئی پر پابندی کی خبریں تیزی سے گشت کر رہی ہیں۔ خان کو جھٹکوں پہ جھٹکے لگ رہے ہیں۔ انہوں نے زرد مٹی میں خار و خس ہی بوئے تھے۔ پھول کہاں سے نکلتے۔ 14 میں سے 10 مقدمات میں انہیں ملوث قرار دے دیا گیا۔ 2 ہزار صفحات پر مشتمل چالان تیار، جے آئی ٹی کو 100 شواہد مل گئے۔ 80 ملزموں نے جلاؤ گھیراؤ میں خان کا نام لیا کہ ان کے اکسانے پر سب کچھ کیا۔ جے آئی ٹی نے انہیں ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا۔ ”یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا۔ یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں“۔ سیانے کہتے ہیں اللہ سے ڈرتے رہو دراز رسی کسی وقت بھی کھینچی جا سکتی ہے۔ ملکی سیاست کا ایک باب ختم دوسرا شروع ہو رہا ہے۔ نواز شریف ملکی حالات کی ضرورت بن کر 21 اکتوبر کو جدہ سے لاہور پہنچ رہے ہیں۔ ایک ن لیگی نے ترنگ میں شعر الاپا۔ ”وہ آرہے ہیں وہ آئیں گے ان کو آنا ہے، خوشی کے دیپ جلاؤ بڑا اندھیرا ہے“۔ کہنے لگے ”یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی“ الیکشن جنوری، فروری میں ہوئے تو نواز شریف انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ تاہم روانگی سے قبل وہ لندن میں ایک دھماکہ خیز پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جس میں ”چار جھوٹوں“ کی فلم بھی دکھائی جائے گی۔ یہ فلم کسی اہم شخص کے ”سسر جی“ نے نواز شریف کو پیش کی ہے۔ اس سے عوام کون سچا کون جھوٹا کا فیصلہ کرسکیں گے۔ تین مقدمات میں ضمانتوں کی توقع تھی لیکن چیف جسٹس نے جاتے جاتے نیب ترامیم کے خلاف خان کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔ دو ایک کے اکثریتی فیصلہ کے مطابق عوامی عہدوں پر فائز سیاستدانوں کے کیس بحال، نیب کے کیس خاتمہ کے احکامات کالعدم، بند تحقیقات بحال، نواز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور دیگر کے مقدمات دوبارہ چلیں گے۔ ”چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد“ عدالتوں کی رونقیں بحال رہیں گی۔ اتحادی حکومت میں شامل سیاستدان پیشیاں بھگتیں گے۔ چیف صاحب چلے گئے۔ مگر کتنے گلے شکوے، الزامات، سچی محبتوں کے افسانے اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ پاکستان بار کونسل نے الوداعی عشائیہ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سارے افسانے دہرا دیے جنہیں تجزیہ کاروں نے چارج شیٹ قرار دیا۔ شارٹ اینڈ سویٹ فیصلے نے کتنے گڑے مردے اکھاڑے اس کا اندازہ آئندہ دنوں میں ہوگا۔
سیاسی عدم استحکام سے قطع نظر ملکی حالات کا بھی جائزہ لیجئے جن کی وجہ سے پوری قوم مایوسی اور اضطراب کا شکار ہے۔ مایوسی کے اندھیروں سے باہر نکلیں تو امید کی لمبی لکیر دلوں میں خوشی کی جوت جگاتی ہے۔ قدرت نے پوری قوم کو کاسہ گدائی توڑنے کا آخری موقع فراہم کیا ہے۔ اس موقع کو بھی ضائع کردیا گیا تو پھر بقول معظم فخر ”نرگس ہزاروں سال روتی رہے گی“ اور ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی جانب سے پاکستان میں 100 ارب کی سرمایہ کاری کا اعلان ہی امید کی لمبی لکیر ہے۔ اپنے گھر کی فی الوقت صفائی ضروری ہے۔ عرب ممالک کے سرمایہ کار صاف ستھرے ماحول اور پر سکون حالات ہی میں آگے آئیں گے یہاں صورتحال یہ ہے کہ ”گھر کا تو چور ہے کس کس کو دیں تسکین ہم“ اصلاح احوال کے لیے آرمی چیف نے حکومت سے مشاورت کے بعد ڈنڈا اٹھایا۔ کرپشن، سمگلنگ اور دہشتگردی کے خلاف خفیہ رپورٹس تیار کرائیں ایک خفیہ رپورٹ نے تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی پریشان کردیا۔ ملک میں ایسے گدھ موجود ہیں جو عوام کا گوشت نوچنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ سے وفاقی خزانے کو 60 ارب کا نقصان ہوتا ہے۔ ایران سے 2 ارب 81 کروڑ لیٹر سے زیادہ پیٹرول 995 پیٹرول پمپوں کے ذریعہ غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ کالے کرتوتوں والے 29 سیاستدان 90 سرکاری حکام کے تعاون اور اثر و رسوخ سے پی ایس او کے ٹینکر استعمال کرتے ہیں۔ ان سیاستدانوں میں وفاقی، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ بلوچستان حکومت کی آنکھیں بدستور بند، ملک میں 722 کرنسی ڈیلرز حوالہ ہنڈی کے ذریعے ڈالروں کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ ڈالروں کی بے بہا سمگلنگ افغان سرحد پر بیٹھے 64 ایجنٹوں اور ملک بھر میں پھیلے پاکستانی اور افغان سمگلروں کی وجہ سے کامیابی سے جاری رہی۔ افغان حکومت کی زر مبادلہ کی 80 فیصد ضروریات سمگلروں اور سرحدی ٹیکسوں سے پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں ڈالرز کے ڈیلروں کو طلب کیا گیا۔ 3 منٹ کی میٹنگ سے ڈالر کی کمر ٹوٹ گئی۔ ایک ہفتہ طور خم اور چمن کی سرحد بند رہی تو سمگلروں اور افغان حکومت کی چیں بول گئی۔ ڈنڈے کے کمالات، تابڑ توڑ کریک ڈاؤن کے نتیجہ میں گوداموں سے لاکھوں ٹن چینی پکڑی گئی۔ گرفتاریاں بھی ہوئیں لیہ کے ایک گھر سے اربوں ڈالر برآمد ہوئے۔ کراچی میں لانچوں کے ذریعہ ڈالروں کی سمگلنگ کا انکشاف ہوا۔ کروڑوں ڈالر ابھی زیر زمین چھپے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں وہ لوگ موجود ہیں جن کے پاس افغانی شناختی کارڈ ہیں۔ کھاد، چینی، گندم کی سمگلنگ میں 592 ذخیرہ اندوزوں اور 26 سمگلروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔ 90,147 میٹرک ٹن گندم اور 2449 میٹرک ٹن چینی پکڑی گئی۔ شہروں میں زیرو میٹر گاڑیاں اور سمگل شدہ کپڑے کی باڑہ مارکیٹوں پر افغانوں کا قبضہ ہے۔ 35 ارب ڈالر کا ماحول موجود ہے۔ ڈنڈا چلا تو سمگلر ڈالر تھیلوں میں بھر کر خفیہ راستوں سے فرار ہوگئے۔ ہفتہ دس دنوں میں 8 کروڑ یونٹ بجلی چوری پکڑی گئی۔ قصہ مختصر ہم اتنے ہی برے ہیں جتنے پہلے تھے کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا تو خفیہ گودام بھرتے اور خزانہ خالی ہوتا جائے گا۔ 98 فیصد عوام مایوس ہیں۔ انہیں مایوسی کے اندھیروں سے کون نکالے گا۔ الیکشن ہوں گے تو پتا چلے گا کہ قرعہ فعال کس کے نام نکلتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.